پی سی بی گدڑی کا لعل ڈھونڈے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2003 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم اپنی تاریخ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک تھی لیکن اپنے پول میں تمام بڑی ٹیموں کے خلاف لیگ میچز ہار کر اس پوزیشن پر آگئی جہاں اسے اپنے خراب رن ریٹ کی بدولت سیکنڈ راؤنڈ میں کولیفائی کرنے کے لیے آخری میچ میں زمبابوے کو ایک بہت بڑے مارجن سے شکست دینی تھی جس کی امیدیں بہت کم تھیں۔ بدقسمتی سے وہ میچ بارش کے سبب منسوخ ہوگیا جس کے ساتھ ہی وسیم اکرم، وقار یونس اور سعید انور جیسے کھلاڑیوں کے سنہری دور اور ورلڈ کپ میں پاکستان کے سفر کا مایوس کن اختتام بھی ہوگیا۔

زمبابوے ایک اہم پوائنٹ حاصل کرکے سیکنڈ راؤنڈ میں کولیفائی کرگیا جس میں بہت بڑا ہاتھ انگلینڈ کی ٹیم کا زمبابوے کے خراب حالات کے پیش نظر وہاں جاکر نہ کھیلنے کے فیصلے کا بھی تھا لیکن یاد رہے کہ وہ انگلینڈ کی پاکستان کے خلاف کوئی سازش نہیں تھی بلکے یوں اپنے دو پوائنٹ گنوا کر انگلینڈ بھی پہلے راؤنڈ میں باہر ہوگیا۔ زمبابوے کے کیمپ میں خوشی مناتے کھلاڑیوں میں سے ایک نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ آج سے کئی سالوں بعد 2019 میں وہ اسی پاکستانی ٹیم کا بیٹنگ کوچ بن کر خود اسی پوزیشن میں کھڑا ہوگا جب اس کی ٹیم کواپنے خراب رن ریٹ کو بہتر کرنے آخری میچ میں بنگلہ دیش کو بھی ایک ناممکن مارجن سے شکست دینی ہوگی۔

پاکستانی ٹیم کے ساتھ گرانٹ فلاور کا بیٹنگ کوچ کیر ئیر کوئی یادگار نہیں رہا جس کا جواب انہیں منتخب کرنے والے ہی دے سکتے ہیں کہ گرانٹ کو کس تجربے کی بنیا د پراس ٹیم کی بیٹنگ کی ذمہ داری تھمائی تھی جس کے فلاپ ہونے کا رونا برسوں سے جاری رہا ہے۔ چیمپئینز ٹرافی کی جیت گرانٹ فلاور اور اظہر محمود کے لیے بحیثیت کوچ آکسیجن کا کام کرگئی لیکن اس کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی کاگراف نیچے ہی آتا گیا۔ ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی ٹیم کی کارکردگی پر ذمہ دار قرار دیے جاتے رہے ہیں لیکن وہ گرانٹ فلاور کو ہمیشہ سپورٹ کرتے رہے۔

2003 کے بعد 2007 ورلڈ کپ تو قومی ٹیم کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔ 1999 کے فائنل سمیت ان دونوں ہی عالمی کپ مقابلوں میں بری طرح ہارنے والے کچھ کھلاڑی آج جب پاکستانی یا بھارتی چینلز پر بیٹھ کر قومی ٹیم پر طنز کے گہرے نشتر برساتے ہیں تو بہت تعجب ہوتا ہے۔

یہ ریکارڈ خاصے چونکا دینے والے ہیں کہ ورلڈ کپ 2019 میں 474 رنز بناکر 1992 میں جاوید میانداد کے زائد رنز عبور کرنے والے بابر اعظم نے نیوزی لینڈ کے خلاف سینچری بنائی تو 1987 کے ورلڈ کپ میں سلیم ملک کی سری لنکا کے خلاف سینچری کے بتیس سال بعد پہلا موقع تھا جب کسی مڈل آرڈ ر بیٹسمین نے بھی پاکستان کے لیے سینچری اسکور کی ہو۔

اس کے بعد امام الحق کی بنگلہ دیش کے خلاف سینچری پر یہ 1992 کے بعد کوئی موقع تھا جب دو بیٹسمینوں نے پاکستان کے لیے ورلڈ کپ میں سینچریاں اسکور کی ہو ں جو باحیثیت اوپنرز رمیز راجہ نے نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف جبکہ عامر سہیل نے زمبابوے کے خلاف بنائی تھیں۔ دو سینچریاں 1999 میں بھی بنی تھیں لیکن دونوں سعید انور نے ہی اسکور کی تھیں۔

ہر ورلڈ کپ کے بعد ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین اور اگلے عالمی مقابلے کو مد نظر رکھ کر کوچنگ اسٹاف اور کپتانوں کی تبدیلیاں کی جاتی ہیں لیکن نتیجہ ہر بار مایوس کن رہتا ہے۔ ورلڈ کپ سے قبل مسلسل دس ون ڈے میچز ہارنے والی قومی ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف سیریز ملنے سے کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کابہترین موقع ملا جس کی بدولت ٹیم میں تبدیلیاں بھی کی گئیں لیکن پھر بھی مہم کا آغاز خاصہ مایوس کن رہا اور جب ٹیم نے اچھا کم بیک کیا تب رن ریٹ اتنا خراب ہوگیا جسے چاہ کر بھی بہتر نہیں کیا جاسکا خاص کر افغانستان کے خلاف میچ میں جہاں ٹاپ آرڈر کی غیر ذمہ داری کے سبب میچ بچانے کے بھی لالے پڑگئے تھے۔

اسی لیے اب پی سی بی کو اہم فیصلہ لیتے ہوئے کوئی گدڑی کا لعل تلاش کرنا ہے جس کے ہاتھوں میں کوچنگ کی ذمہ داری دی جائے خاص کر بیٹنگ کی۔ ایک ایسا بیٹنگ کوچ جو قومی کھلاڑیوں کو دورجدید کی کرکٹ کے لحاظ سے انڈر پریشر رن کرنا اور سیکنڈ اننگ میں بغیر گھبرائے میچ فنش کرنا بھی سکاسکے۔ جو ون ڈے کرکٹ میں بڑی ٹیموں کے خلاف مسلسل سیریز ہارنے سے گرتی رینکنگ اور آئندہ شروع ہونے والی ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں بہترین نتائج دے سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •