ایک جمہوری ڈکٹیٹر کا انجام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلاب فرانس کا ممتاز رہنما راب سپئیر (Robespierre) ایک وکیل تھا۔ وہ مطالعہ کا شوقین تھا خوش شکل تھا شعلہ بیان مقرر تھا اور سحر انگیز شخصیت کا مالک تھا۔ راب سپئیر کو ہمیشہ کچھ کردکھانے کی دھن رہتی تھی۔ وہ اپنے آپ کو مرد بخت آور (Man Of Destiny) کہتا تھا۔ اسے انقلاب فرانس کے رجحانات یا نظریات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ قسمت کا کھلاڑی تھا، اسے محض اپنی ذات سے غرض تھی۔ راب سپئیر کوشعلہ بیانی پر مان تھا۔

فرانس کا بادشاہ لوئی پانزدہم فرانس آیا تو راب سپئیر کو اس کی استقبالیہ تقریر کے لئے منتخب کیا گیا۔ تقریر کے دوران جب شاہ فرانس کی بگھی راب سپئیر کے قریب سے گزری تو بادشاہ نے اس کی طرف توجہ ہی نہ دی۔ شاہ کے اس نامناسب رویے سے راب سپئیر کا دل ٹوٹ گیا اور اسے بادشاہ سے نفرت ہو گئی۔ وکالت سے عدم دلچسپی، شاہ فرانس کی بے رخی اور ذاتی محرومیوں سے دھیان ہٹانے کے لئے اس نے فرانسیسی فلسفی روسو کو پڑھنا شروع کر دیا۔

بادشاہت سے نفرت اور جمہوریت سے پیار روسو کا فلسفہ تھا جس نے راب کو انقلابی سوچ دی۔ 1789 انقلاب فرانس کی شروعات کا دور تھا۔ فرانسیسی عوام بادشاہ اور ملکہ کی فضول خرچیوں، اضافی ٹیکسوں اور مہنگائی سے بہت پریشان تھے۔ انقلاب فرانس کی بڑی وجہ فرانس کی اقتصادی بد حالی تھی مگر مورخین کے مطابق فرانس کے باشندوں کی مالی حالت دوسرے ممالک کے باشندوں سے کسی طرح بری نہ تھی۔ دراصل جنگ آزادی امریکا میں امریکا کی اعانت کرنے سے حکومت فرانس کا اپنا خزانہ خالی ہو چکا تھا، جیسا کہ پاکستان نے امریکی مفادات کی جنگ افغانستان میں لڑتے ہوئے ملک کا معاشی، اقتصادی، معاشرتی اور جانی نقصان کیا۔

راب سپئیر زور خطابت سے عوامی نمائیندگان کی اسمبلی کا رکن منتخب ہو چکا تھا۔ شاہ فرانس کے لئے اس کے دل میں نفرت اب انتقام میں تبدیل ہو چکی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کسی کم ظرف کے ہاتھ میں آئی وہ ظالم سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ 1789 میں فرانس کی عوام نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ عوام کے ڈر سے بادشاہ اپنے محل تک محدود ہو کر رہ گیا۔ عوامی اسمبلی نے حکومتی اختیارات سنبھال لئے۔ راب سپئیر سمیت اسمبلی کے زیادہ تر اراکین انتہا پسند نظریات کی حامل پارٹی جیکوین کے ممبر تھے، جو پہلے ہی فرانس سے بادشاہت کا خاتمہ اور شاہی خاندان پر مقدمات چلانے، سخت ترین سزائیں اوران کا کڑا احتساب چاہتی تھی۔

20 جون 1792 کو جیکوین نے اپنے ہزاروں حماتیوں کی مدد سے بادشاہ کے محل پر حملہ کیا، فوج نے ان کا ساتھ دیا اور آخر محل پر قبضہ کر لیا۔ 21 ستمبر 1792 کو بادشاہت ختم کر دی گئی۔ عوامی اکثریت حاصل کرنے کے بعد انتہا پسند پارٹی جیکوین کی حکومت مکمل طور پر قائم ہو گئی، نیشنل کنونشن نے راب سپئیر کو مستقل نائب صدر کے اہم ترین عہدے کے لئے منتخب کر لیا۔ راب سپئیراب کیونکہ فرانس کا مختار کل بن چکا تھا لہذا طاقت اور انتقام کے نشے میں اس کا کہنا تھا کہ بادشاہ پر مقدمات چلانے کی ضرورت نہیں۔ مقدمے میں بادشاہ اپنا موقف دے گا جس سے بادشاہ کو عوامی ہمدردیاں مل سکتی ہیں۔

راب سپئیر کے متشدد نظریات کے پیش نظر قید میں بادشاہ وقت سے تمام سہولیات واپس لے لیں گئی۔ بادشاہ کے پاس ٹی وی اور اے سی پہلے سے موجود نہ تھا البتہ شاہی لباس کی جگہ عام قیدیوں کے کپڑے، شاہی خاندان کے لئے پکائے جانے والے کھانے بھی بند کر دیے گئے۔ شاہی خاندان کے ہر فرد کو الگ الگ قید تنہائی میں رکھا گیا۔ اتنی تکالیف کے باوجود راب سپئیر شاہی خاندان کو مزید اذیت دینا چاہتا تھا، لہذا 21 جنوری 1793 کو فرانسیسی بادشاہ کو گیلوٹین کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔

گیلوٹین لکڑی کا ایک بڑا شکنجہ ہوتا ہے جس کے نچلے حصے پر مجرم کی گردن جکڑ کر اوپر لگے تیز دھار بلیڈ کو مجرم کی گردن پر پھینکا جاتا ہے جس سے اس کا سر دھڑ سے الگ ہو کر پاس پڑی ٹوکری میں جا گرتا ہے۔ یوں بادشاہ کی گردن بھی اڑا دی گئی۔ بادشاہ کے آخری الفاظ تھے کہ اگر میری بے گناہ موت سے میرے لوگوں کو خوشی ملتی ہے تو مرنے کے لئے تیار ہوں۔ ملکہ فرانس کو بھی ایک دن کے ٹرائیل کے بعد گیلوٹین پر چڑھا دیا گیا۔

راب سپئیر انقلاب فرانس کا طاقتور ترین لیڈر بن چکا تھا۔ خود تین تین گھنٹے چوکوں، چوراہوں، جلسوں میں بادشاہ کے خلاف دھواں دھار تقاریر کرتارہا۔ مگر جب خود اقتدار میں آیا تو ذرا برابر تنقید کرنے والا غدار بنا دیا جاتا۔ راب سپئیر کے احتساب سے انتقام کی بو آتی تھی۔ طاقت اور اقتدار کی مستی میں وہ من مانے فیصلے کرنے لگ گیا۔ اس نے یو ٹرن لینے شروع کر دیے او ر اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کو اس لئے معطل کر دیا کیونکہ عوامی حقوق مجرموں کو سزا دینے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔

حکومت پر تنقید کرنا قابل گرفت جرم بن گیا تھا۔ تنقید کرنے والے کیونکہ حکومتی کاموں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لئے وہ غدار ہیں اور غدار کی سزا گیلوٹین کے ذریعے موت ہے۔ ججوں کو حکم تھا کہ غدار ی کے مقدمات میں ملزم سے صفائیاں نہ مانگو کیونکہ غدار تو شکل سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ اس حکم نامے کے بعد ججز من پسند فیصلے کرنے لگے جن کی زد میں بے گناہ اورغیر جانبدار افراد پر بھی غداری کے الزام لگنے لگے۔ روٹی مہنگی، سبزی مہنگی غرض مہنگائی کی شکایت کرنے پر اسے غدار بنا دیا جاتا، ایسے ہی سینکڑوں حکومت مخالفین کو روزانہ چھکڑوں میں بھر بھر کر موت کے گھات اتار دیا جاتا، ستمبر 1793 سے جولائی 1794 کا 11 ماہ کا دور فرانس میں دور ہیبت Reign Of Terrorکہلاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •