عاطف میاں ٹھیک کہتے ہیں یا عمران خان؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انتخابات سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو رلائیں گے۔ اس کے بعد ان کے سب سے با اعتماد ساتھی اسد عمر نے کہا تھا کہ مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور لوگ چیخیں گے۔ انہوں نے بالکل ٹھیک کہا تھا۔ آج سارا شریف اور زرداری خاندان رو رہا ہے اور ان کے ساتھ پورے ملک کی چیخیں بھی نکل رہی ہیں۔ کچھ مہنگائی تو شاید ناگزیر تھی مگر کاروبار میں مندی کا سہرا حکومت کی گو مگو کیفیت پرکچھ زیادہ جاتا ہے۔ تحریک انصاف کا پہلا سال کرپشن کرپشن کی رٹ میں گزر گیا۔

معاشی ماہر عاطف میاں نے بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں کہا کہ تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالتے ہی آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام میں چلے جانا چاہیے تھا بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ اگر پچھلی حکومت اپنے آخری سال میں یہ پروگرام حاصل کرلیتی تو معیشت کی حالت اتنی دگرگوں نہ ہوتی۔ مگر شاید وہ الیکشن میں جارہے تھے تو انہوں نے عالمی ادارے کی سخت شرائط کے نتائج بھانپتے ہوئے جان بوجھ کر تاخیر کردی تاکہ اگلی حکومت آئے تو وہ خود ہی اس سب صورت حال کا سامنا کرے۔

عاطف میاں یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کٹھن حالات سے نکلنے میں وقت لگے گا۔ پاکستان کا مسئلہ رہا ہے کہ قرضے حاصل کرکے سرمایہ کاری غیر پیداواری شعبوں میں ہوتی رہی جس کی وجہ سے مزید قرضے لینا پڑے اور مسائل بڑھتے گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کسی ملک کی معاشی اشاریے کیسے بہتری کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ سرمایہ کاری ایک ایسا پرامن اور سازگار ماحول مانگتی جس میں سرمایہ کار کو اعتماد ہو یہ ملک صحیح طرف چل رہا ہے اس کے لیے آپ کو قانون کی عملداری یقینی بنانی ہے مگر پاکستان میں بدقسمتی سے دہشت گردی ہے، تشدد ہے، اور ایسے مسائل سے لوگوں کو اتنا نقصان پہنچا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوتی اور لوگ باہر سے پاکستان آتے ہوئے گھبراتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاحت کی بات کرتے ہیں جب تک حالات بہتر نہ ہوں تو لوگ نہیں پاکستان آئیں گے۔ کرکٹ ٹیم تک نہیں آتی پاکستان میں کھیلنے کے لیے۔ جب تک آپ ایسے عناصر کو ختم نہیں کردیتے جو ملک میں انتہا پسندی اور تشدد پھلاتے ہیں تب تک سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔ ان کے خیال میں کسی ملک میں معاشی صورت حال بہتر کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ملک میں فتنہ فساد اور شرپسندی نہ ہو۔

انہی دو دہائیوں میں عدالتوں نے ملک میں سرمایہ کاری کو جو کاری ضرب پہنچائی وہ آج سب پر عیاں ہو چکی ہے۔ ہر بیرون ملک سے آنے والا سرمایہ کار لاقانونیت، انتہا پسندی، دہشت گردی کے ساتھ ساتھ عدالتی نظام پر بڑے سوالات اٹھا دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کے ملک میں عدالتیں سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ریکو ڈک، اسٹیل ملز، کارکے، گوادر جیسے کئی منصوبے زندہ مثالیں ہیں۔ منصوبے ایک عدالتی آرڈر پر منسوخ کردیے گئے جس سے ملک کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا اور اس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک رہیں گے۔ پاکستان کے سب سے معتبر اخبار ’ڈان‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ریکو ڈک، کارکے اور براڈشیٹ فیصلوں کے بعد بہت ضروری ہو گیا ہے کہ غور کیا جائے کہ ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات اور حکومت کے اختیارات میں عدالتی مداخلت کی کس حد تک اجازت ہونی چاہیے۔

اس کے برعکس ہم دیکھیں تو عمران خان اور ان کی پارٹی کا صرف ایک موقف ہے کہ پچھلی دو تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری اس لیے نہیں ہو سکی کہ ملک میں کرپشن کا بازار گرم تھا بیرونی سرمایہ کار یہاں آنے سے گھبراتے تھے کیونکہ انہیں علم تھا کہ ان کا پیسہ کرپشن کی نذر ہو گیا۔ حالانکہ چین سمیت دوسرے ملکوں نے دہشت گردی کی لہر کم ہوتے ہی سرمایہ کاری شروع کردی۔ اگر کرپشن تھی تو سرمایہ کاری کیسے ملک میں آئی اور توانائی کے منصوبے کیونکر لگنا شروع ہو گئے؟

سابق صدر پرویز مشرف کے دور کے وزیرخزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ان کے دور میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ توانائی کا کوئی بڑا منصوبہ نہیں لگا سکے۔ وہ بھی اس لیے کہ پاکستان کی مالی حالت اتنی اچھی کبھی نہیں رہی کہ وہ اپنے سرمائے سے اتنے بڑے منصوبے لگا سکے اورتوانائی جیسے میگا منصوبے بیرونی سرمایہ کاری کے بغیر ممکن نہیں۔ اس دور میں دہشت گردی کے پیش نظر کوئی بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

عمران خان نے الیکشن سے قبل یہ بھی الزامات لگائے کہ سی پیک کے تمام منصوبوں میں بڑی کرپشن ہو رہی ہے اور جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو تمام منصوبوں کے ٹھیکے عوام کے سامنے کھول دیں گے تاکہ پچھلی حکومت کی کرپشن بے نقاب کرسکیں۔ اس پر چین کے شدید تحفظات سامنے آئے اور انہیں واضح کرنا پڑا کہ سی پیک کے تمام منصوبوں کے ٹھیکے شفاف طریقے سے دیے گئے اور ان پر کرپشن کے الزامات لگانا مناسب نہیں۔ جس کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی چینی منصوبوں پرخاموشی اختیار کرلی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف کے کرپشن کے بیانیے کے ہوتے ہوئے ملک میں کسی قسم کی سرمایہ کاری کے لیے ماحول سازگار بنا دیا گیا ہے کہ سرمایہ کار بلاخوف کاروبار کرسکیں؟ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار جتنے خوف زدہ آج ہیں شاید ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے ہوں گے۔

معاشی ماہر جرار شاہ کہتے ہیں حکومت زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کر سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو مارکر سارے انڈے حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔

اس ساری صورت حال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انتخابات میں زور زبردستی سے مرضی کے نتائج لیے جاسکتے ہیں مگر معیشت کے نہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری اسی صورت بڑھے گی جب ہم سازگار ماحول، قانون کی عملداری، سیاسی استحکام اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے اور اداروں کا اپنے اپنے دائرہ کار میں پابند رہنے کا رواج قائم کرنے جیسے اقدامات کو یقینی بنانے کا تہیہ کرلیں۔

شازیہ سید پاکستان کے سب سے بڑے ادارے یونی لیور کی سربراہ ہیں ان کے ادارے کی اشیاء ملک کے ستانوے فی صد گھروں میں پہنچتی ہیں۔ شازیہ وزیراعظم کو ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو اس وقت ایک تحریک، اعتماد اور یقین درکار ہے۔
اب ہم عاطف میاں اور شازیہ سید کی بات مانیں یا پھر وزیراعظم عمران خان کی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •