کمپنی تا برٹش راج: نالج کی نوآبادیاتی جڑیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں 1688 ء کے شاندار انقلاب کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور یہاں کے دولت مند افراد کے درمیان اتحاد قائم ہوا، جس کے بعد لبرل سرمائے اور لبرل شاہی خاندانوں کو منسلک اور متحد کرنے کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، یہیں سے صاحب اقتدار افراد کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے نوازنے کا آغاز ہوتا ہے۔ چنانچہ کمپنی کے تحائف کی مد میں سالانہ اخراجات اچانک 1200 پاؤنڈ سے بڑھ کر 90 ہزار پاؤنڈز تک پہنچ گئے۔ 1693 ء کی پارلیمانی انکوائریز نے ڈیوک آف لیڈس کو 5000 پاؤنڈز رشوت لینے کا مجرم قرار دیا اور بادشاہ کا 10 ہزار پاؤنڈز کمپنی سے رشوت پانے کا پردہ چاک ہوا۔

اس کے ساتھ کمپنی نے حکومت کو انتہائی کم سود پر بڑے بڑے قرضے دینے شروع کیے۔ چنانچہ کمپنی کے بڑے حصص دار گولڈ سمتھ خاندان نے 27 جولائی 1694 ء میں بینک آف انگلینڈ کی بنیاد رکھی اور کرنسی چھاپنے، بانڈز جاری کرنے کا اختیار حاصل کر لیا یہ بینک دوسری عالمی جنگ کے اختتام یعنی 1946 ء تک تقریباً 252 سال بطور نجی بینک برطانیہ میں آپریٹ کرتا رہا۔ بینک آف انگلینڈ اور کمپنی کے اتحاد نے برٹش پارلیمنٹ پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ہندستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی جڑیں 1703 ء کے بعد مضبوط ہونا شروع ہوئیں جب ہندستان کے ساتھ تجارت کا مکمل اختیار کمپنی کو مل گیا۔ کمپنی نے ہندستان کے تجارتی مرکزوں کے گرد قلعے تعمیر کر لیے اور یہ دُنیا کی وہ ملٹی نیشنل کمپنی بن گئی جس نے اپنی فوج بھی قائم کر لی۔

کمپنی نے ہندستان میں علاقائی ملکیت کی بنیاد ڈالی، علاقائی آمدن پر کنٹرول حاصل کیا۔ 1757 ء میں میر جعفر کو تخت نشین کر کے ٹیکسوں میں چھوٹ لی اور جولائی 1757 ء میں میر جعفر کے ساتھ تین ایسے معاہدات کیے جس نے کمپنی کو مزید طاقت ور بنا دیا ( ان معاہدات پر پھر الگ سے مضمون تحریر کروں گا) ۔ کمپنی نے پارلیمنٹ میں قانون سازی پر اثر انداز ہوکر سات کمشنرز کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کی بجائے بادشاہ کو دلوا دیا یوں بورڈ آف کنٹرول قائم کیا گیا۔ 1849 ء تک پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد بیرونی تعلقات کے لیے ہندستان ختم کر کے برطانوی ہندستانی سلطنت (برٹش انڈیا) وجود میں لائی گئی۔ ہندستان میں کمپنی کے ذریعے برطانوی مداخلت کے خلاف مزاحمت ہر دور میں موجود رہی جنگ آزادی اس کی بڑی مثال ہے۔

حکومت برطانیہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے دو صدیوں تک ہندستان لوٹتی رہی اور یہاں جنگیں، فسادات کرائے، اس عرصے میں برطانیہ کی تمام پارٹیاں خاموش رہیں۔ یہ سب استعماری و نوآبادیاتی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ دراصل برطانیہ نے نوآبادیاتی مقاصد کے تحت ہندستان میں دو مشن سر انجام دیے : ایک تخریبی اور دوسرا از سر نو سویلائزیشن کی تشکیل۔ یعنی ہندستان کے قدیم سماج کو ختم کر کے اس کی جگہ مغربی سماج کے لیے مادی بنیادیں قائم کی گئیں۔

چنانچہ برطانوی پارلیمنٹ اور بادشاہ نے پہلے ہندستان میں کمپنی کی لوٹ مار کو تحفظ فراہم کیا جب صنعتی انقلاب کے نتیجے میں صنعت داروں کا طبقہ پیدا ہوا تو کمپنی کے مظالم کی داستان کو آڑ بنا کر ہندستان دوستی کے نام پر 1858 ء میں اس خطے کو بادشاہ اور پارلیمنٹ کے زیر کنٹرول کر دیا گیا۔ حالاں کہ کمپنی ہندستان میں تجارتی اجارہ داری کے خاتمے کے ہر 30 سال بعد پارلیمنٹ سے چارٹرڈ حاصل کرنے کی غرض سے قرضوں کی صورت پیسے ادا کرتی تھی۔

اب کمپنی کی باقیات کو ختم کرنا ضروری ٹھہرا۔ تو سب سے پہلے لندن میں کمپنی کی علامت کو ختم کرنے کے لیے 1861 ء میں ایسٹ انڈیا لندن کی مرکزی عمارت کو ہی مسمار کر دیا گیا۔ کمپنی نے جنگ آزادی تک ہندستان میں شاہی نظام کو علامتی طور پر قائم رکھا اور مغل بادشاہ کی مہر بطور ریاستی دستخط کے طور پر استعمال کی جاتی رہی۔

برطانیہ نے نوآبادیاتی تناظر میں علم کے تصور کو تخلیق کیا اس کے لیے یورپ کا بطور کبیری بیانیہ پیش کیا گیا کیونکہ نالج ہندستانی اذہان کو کنٹرول کرنے کا طاقت ور ذریعہ تھا اس لیے ہندستان میں نالج کو بطور کموڈیٹی منتقل کیا گیا اس مقصد کے لیے یورپی طرز کی جامعات اور کالجز قائم ہوئے ان جامعات میں یورپی لٹریچر، یورپی تاریخ، یورپی ثقافت اور یورپی سائنس کو نافذ کیا گیا۔ جو نصاب مرتب کیا گیا اس میں ہندستانیوں کو غیر تہذیب یافتہ، غیر مہذب، غیر تعلیم یافتہ بنا کر پیش کیا گیا اور یورپی تہذیبی برتری کو قائم رکھنے کے لیے انگریزی زبان کو دفتری و سرکاری اور ذریعہ ابلاغ بنایا گیا۔

نوآبادیاتی علوم کی جڑیں سماج میں پیوست کرنے کے لیے جیمز مل سے ہندستان کی سیاسی و معاشی تاریخ لکھوائی گئی، ٹی بی میکالے سے تعلیمی سوال پر تہذیبی نقطہ نظر سے یادداشت پیش کرائی گئی، جان گل کرسٹ سے زبان کے اظہار کے لیے لغت تیار کرائی گئی اور برطانیہ کا سماج دوست تصور پیش کرنے کے لیے ادارہ جاتی اپروچ کو اپنایا گیا اور نوآبادیات کی جڑیں گہری رکھنے میں سول بیوروکریسی اور نوآبادیاتی فوج سے کام لیا گیا چنانچہ نوآبادیاتی تکونی طاقت کو رائج کیا گیا۔ برطانوی استعمار نے ہندستان کو یہ باور کرانے کی کوشش کہ وہ سماج کو تہذیب یافتہ بنانے کا خواہاں ہے اور اس کے لیے مقامی سطح پر سیاسی گماشتے جاگیرداروں، وڈیروں، مذہبی نمائندوں کی صورت میں پیدا کیے گئے تاکہ برطانوی سرکار سے متعلق ہمدرد طبقات عوامی سطح پر تیار کیے جائیں۔

نوآبادیاتی علوم کے اس تصور میں ہندستان کے لیے ماڈرینٹی یعنی جدت پسندی کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا جس کا محور صرف یورپی تہذیب و تمدن کو ہندستان پر تھونپ کر اس خطے کو یک تہذیبی ملک بنانا مقصود تھا۔ مخصوص ثقافتی شناخت کے اس تصور کو نوآبادیاتی علوم کے ذیل میں پھیلایا گیا اور اس خطے کی مقامی تاریخ، تہذیب کی جڑیں کاٹنے کے لیے سنسکرت، فارسی، عربی میں لکھی گئی مقامی کتب کو ضائع کر دیا گیا کیونکہ ٹی بی میکالے کی سفارشات کی روشنی میں ان زبانوں میں موجود کتابوں کی اشاعت پر 1844 ء کے بعد پاپندی عائد کر دی گئی۔

صنعتی انقلاب برپا ہونے کے بعد ہندستانی نوآبادیات سمیت دُنیا بھر میں یورپی تہذیب کی برتری کا تصور رائج کیا گیا اس کے لیے یورپی مفکرین، یورپی سائنسدان، یورپی ایجادات، یورپی معاشی تصورات کو فروغ دیا گیا، اس کے مقابلے پر قدیم تہذیبوں کو فرسودہ قرار دیا گیا۔ نوآبادیاتی عہد کے تعلیمی اداروں اور نصاب کے ذریعے سے پہلے کمپنی اور پھر برطانیہ کی معاشی غارت گری کو چھپایا گیا بلکہ ان کا سافٹ امیج استوار کیا گیا جو آج بھی ان اداروں کے ذریعے سے رائج ہے۔

چنانچہ کالونیل علم کی تشکیل کے ساتھ کالونیل ادارے قائم کیے گئے، پاکستان کے سماج کو ڈی کالونائزڈ کرنے کے لیے ان کی بنیادوں کو ختم کرنا ہوگا وگرنہ صاحب اقتدار وہی اشرافیہ رہے گی جو پوسٹ کالونیل مفادات کی محافظ ہے۔ آج 27 جولائی ہے، ٹھیک 324 سال پہلے بینک آف انگلینڈ کی بنیاد رکھنے کا دن، اسی دن اس خطے کے وسائل کی لوٹ مار کی بنیادیں رکھی گئی تھیں، ہمیں اس دن کو نہیں بھولنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •