ہمارے آرام، سونے، سیکس کرنے اور دربار سجانے کی جگہ: ’بستر‘ سے جڑے 13 حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بستر سماج مباشرت سیکس سیاست دربار

Getty Images
کیا آپ کے ذہن میں آپ کا کوئی آئیڈیل بستر ہے؟

ایک طویل سفر کے بعد اپنے بستر پر آرام کرنے سے زیادہ مزا اور کہیں نہیں آسکتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم سوتے ہیں، مطالعہ کرتے ہیں مباشرت کرتے ہیں اور کبھی کبھار کچھ کھانا بھی تناول کرتے ہیں۔ یہ جگہ آپ کے سماجی مقام کا بھی تعین کرتی ہے۔ اور بعض اوقات یہ آپ کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہوتی ہے۔ اور ہم میں سے کئی ایک جب بڑے ہوتے ہیں یا اپنے نئے گھر میں منتقل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ایک پلنگ خریدتے ہیں۔

اس لیے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ پلنگ کا تصور کہاں سے آیا ہے؟ اور کیا یہ بظاہر ایک عام سی شئے ہماری زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بیان کرسکتی ہے؟

بی بی سی کی ’اوریجنل‘ سیریز کے سلسلے میں اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ بستر کس طرح ہماری زندگیوں کا تعین کرتا ہے، ہماری جنسی زندگی کو متاثر کرتا ہے اور ہمارے سماجی رویوں میں تبدیلی لاتا ہے، نامہ نگار کیٹی برینڈ نے ماہرِ اعصابی نظام پروفیسر رسل فوسٹر، تاریخ دان گریگ جینر اور جدید دور کی تاریخ کی ماہر پروفیسر ساشا ہینڈلی سے بات چیت کی اور ایسے 13 حقائق جمع کیے جو ہمارے پلنگ، بستر اور ہماری جنسی، سماجی اور سیاسی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں یا اس کا مظہر ہوتے ہیں۔


1- گدّوں کا استعمال 77 ہزار برس سے کیا جا رہا ہے

بستر سماج مباشرت سیکس سیاست دربار

Getty Images
غاروں میں زمین پر سونا آرام دہ نہیں ہوتا تھا اس لیے انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے نرم گدّے تیار کیے

زمین پر سونے کے متبادل کے طور پر گدّوں کے استعمال کے ثبوت 77 ہزار برس پرانے عرصے یعنی پتھر کے زمانے سے ملتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے غاروں میں لوگ گدّوں پر سوتے تھے جنھیں وہ خود تیار کرتے تھے۔

غار آرام دہ نہیں ہوتے تھے۔ مزید یہ کہ زمین سے ذرا بلند سطح پر سونے کی جگہ بنانے سے وہ زمین پر رینگنے والے کیڑے مکڑوں سے بھی محفوظ رہتے تھے۔ پروفیسر گریگ جینر کہتے ہیں چونکہ یہ لوگ اپنا کھانا بھی وہیں بیٹھ کر کھاتے تھے اس لیے ان کے بستر بھی کچھ چکنے سے محسوس ہونے لگتے تھے اس لیے وہ انھی پر آگ بھی جلا لیا کرتے تھے۔

2- قدیم ترین بستر پتھروں کے ڈھیر پر بنائے جاتے تھے

سکارابرے کا ایک گھر

Getty Images

پروفیسر جینر کہتے ہیں کہ آج کل کے جدید ترکی میں چتل ہویوُک کے مقام پر دس ہزار برس پہلے پتھروں کے جدید دور میں پتھروں کے ایک ڈھیر پر زمین سے اونچا بنایا گیا پہلا بستر ملا ہے۔

اسی طرح شمالی سکاٹ لینڈ میں جزائر کے سلسلے اورکنی کے ایک قصبے سکارا برے میں بھی چھ ہزار برس پرانے پتھروں کے ڈھیر پر بنے بستر ملے ہیں۔

پروفیسر جینر کے مطابق، اس دور کے باشندے پتھروں کی سلوں کی ایک تہہ بناتے تھے پھر اس پر ایک اور پھر سب سے اوپر ایک گدّہ بچھاتے تھے جس پر وہ سوتے تھے۔

اس طرح بلند کیے ہوئے پتھروں کے ڈھیر پر بنائے گئے یہ پلیٹ فارم انسانی تاریح کے قدیم ترین پلنگ تھے۔

3- قدیم مصریوں کے پلنگوں کے پایوں پر کشیدہ کاری ہوتی تھی

بستر سماج مباشرت سیکس سیاست دربار

Getty Images
قدیم مصر کے امراء نے اپنے بستروں کے نیچے پائے یا ٹانگیں لگانا شروع کیے

پروفیسر جینر کہتے ہیں کہ قدیم مصر کے امراء نے اپنے بستروں کو ایک پلنگ کی صورت دی اور اس میں پائے لگائے۔ عموماً لکڑی کے بنائے گئے ان پاؤں پر بہت ہی خوبصورت طرز کی کندہ کاری کی جاتی تھی، نچلے حصے میں کسی جانور کے پاؤں کی شکل ہوتی تھی۔

لیکن آج کل کے جدید پلنگوں کے برعکس، قدیم دور کے پلنگ ہموار سطح کے نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بجائے یہ درمیان میں ذرا سے گہرے ہوتے تھے یا سرہانے کی جانب جھکے ہوئے ہوتے تھے۔

’اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پلنگوں کی جانب پاؤں رکھنے کی بھی جگہ بنائی جاتی تھی تاکہ سوتے ہوئے نیچے سرک نہ جائے یا گر نہ پڑے۔‘

4- مشرق میں اونچے پلنگ کا مطلب اعلیٰ سماجی حیثیت نہیں

بستر سماج مباشرت سیکس سیاست دربار

Getty Images
جاپان میں اب بھی کسی کی سماجی حیثیت کچھ بھی ہو وہ اپنا بستر فرش پر ہی لگاتے ہیں

مغرب میں اور چین میں بھی فرش سے بلند پلنگوں یا بستروں کا مطلب یہ لیا جاتا تھا کہ آپ کی سماجی حیثیت بھی کافی بلند ہے۔

لیکن بعض خطوں میں اس کے برعکس تھا۔ جاپان میں روایتی قسم کے تتامی گدّے، جو آج بھی مقبول ہیں، فرش سے بہت ہی کم اونچے ہوتے ہیں۔

اور قزاقستان کے کچھ علاقوں میں ’فرش پر بچھانے اور پھر انھیں تہہ کیے جانے والے گدوں پر سونے کا رواج اب بھی ایک معمول ہے۔‘ ان گدّوں کو ’توشک‘ کہا جاتا ہے۔ پروفیسر گریک جینر کے مطابق، اُسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ رواتی طور پر خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے اور انھیں اپنے بستروں کو اپنے ساتھ لے کر چلنا پڑتا تھا، یہ روایت آج تک برقرار ہے۔

5- رومن اور یونانی لوگ اپنے بستروں پر کھانا بھی کھاتے تھے

بستر سماج مباشرت سیکس سیاست دربار

Getty Images
رومن اور یونانی اپنے بستروں پر کھانا بھی کھاتے تھے۔

رومن اور یونانی تہذیبوں میں بستروں کے مختلف قسم کے استعمال ہوتے تھے۔ ان پر سویا جاتا تھا، لیکن ان کو کھانا کھانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

لوگ ان بستروں پر ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے تھے۔ جب ان کا دل چاہتا تو سامنے رکھی میز سے وہ کھانے کی کوئی شہ مثلاً انگور کے خوشے یا کسی خوراک کا ایک نوالہ اٹھا لیتے۔

لہٰذا آئندہ اب آپ کا دل بستر پر بیٹھے ہوئے کھانا کھانے کو چاہے تو برا محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ صرف روم کے امیر امراء کی نقل کر رہے ہوں گے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9872 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp