صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری سیاست کے سینے میں دل نہیں دھڑکتا مگر نناوے فیصد سیاستدانوں کے دل صرف اقتدار کے لئے دھڑکتے ہیں۔ ہماراسیاسی کلچر تبدیل ہونہ ہو لیکن سیاستدانوں کارنگ دن میں کئی بار گرگٹ کی طرح ضروربدلتا ہے۔ باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کاقول ہے، ”طاقت اوردولت ملنے سے انسان بدلتا نہیں بلکہ بے نقاب ہوجاتا ہے“۔ ہمارے کئی سیاستدان اقتدارمیں آنے کے بعد نہ صرف بری طرح بے نقاب ہوئے بلکہ زیرعتاب بھی آئے مگر عوام کی آنکھوں پربندھی شخصیت پرستی کی پٹیاں پھر بھی نہیں اتریں۔

ووٹرز کی شخصیت پرستی یعنی بت پرستی سیاسی قیادت کی مفادپرستی سے بدتر ہے۔ اگرعوام اپنے نمائندوں کومنتخب کرتے وقت ان کے کرداراورمعیار کاخیال نہیں رکھیں گے توان کا اپنامعیار زندگی ہرگز بلند نہیں ہوگا جبکہ ہماری ریاست کی حالت زاربھی نہیں بدلے گی۔ عوام اس سیاست کوتواناکریں جوریاست اورریاستی اداروں کی مضبوطی کے لئے ہولیکن جوسیاستدان ریاست کے ساتھ سیاست کررہے ہیں اقتدار کے ان دیوانوں کو منتخب ایوانوں سے بہت دوررکھنا ہوگا۔

سرورکونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما ہیں، ایک صحابیؓ ؓنے بارگاہ رسالت ؐ میں عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم مومن اورمنافق میں کس طرح فرق کرسکتے ہیں، سراپارحمت ؐنے ارشاد فرمایا اس مجلس میں حضرت علی ؓ کاذکر کرومومن خوش ہوں گے جبکہ منافقین کے چہروں پر ناگواری نمایاں ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں اگر ہم نے پاکستان کے محبان اورغداروں سمیت دشمنان کو شناخت کرنا ہوتوان کے روبروپاک فوج کی کامرانیوں، قربانیوں اورشہداء کی شجاعت کے واقعات بیان کریں تومحبان وطن یقینا رشک کریں گے جبکہ غدار وں کاخبث باطن باہرآجائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکا میں پاکستان کے دبنگ سپہ سالار اعظم جنرل قمرجاویدباجوہ بھی ان کے ساتھ تھے جس پرمخصوص عناصر کی طرف سے بیجا تنقیدکی گئی۔ جوپاک فوج کاخیراندیش نہیں وہ پاکستان کاخیرخواہ نہیں ہوسکتا۔ ہماری منتخب اورمخلص دفاعی قیادت کا ایک پیج پرہونا قوم کی خوش قسمتی اوراستحکام پاکستان کے لئے نیک فال ہے۔ ماضی میں منتخب حکمران دفاعی قیادت کے مدمقابل آتے رہے جس سے ہمارا ملک نقصان اٹھاتارہا۔

اناپرست حکمران ریاستی اداروں کویرغمال بنانے کی دوڑ میں اپنے اقتدارپرخودکش حملے کرتے رہے۔ پنجاب سمیت چاروں صوبوں کی پولیس بھی پاک فوج کی طرح آزادوخودمختاراورپروفیشنل ادارہ بن جائے، یہ عوام کی دیرینہ آرزوہے جبکہ ہمارے بیشتر سیاستدان پاک فوج کوبھی پولیس کی طرح اپنا ”فرمانبردار“ بنانے کے خواہاں ہیں۔ آج پاکستان کے لئے پاک فوج سے ہروہ کام لیا جارہا ہے جووہ بہترانداز سے کرسکتی ہے۔ پاکستان کی بنیادوں کواپنے خون سے سینچنے والے فوجی جانبازہمارے محبوب ہیں جبکہ پاک فوج ہماراسرمایہ افتخار ہے۔

پاک فوج نے جہاں جنرل قمر جاویدکی قیادت میں دہشت گردوں کی قمرتوڑی وہاں بھارتی جارحیت کاکراراجواب دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے دورہ امریکا کے دوران انتہائی پرسکون اورپراعتماد اندازمیں دھواں دار بلے بازی کرتے ہوئے کریز کے چاروں طرف شاندار شاٹ کھیلے۔ وزیراعظم عمران خان کی خوداعتمادی ان کی خودداری کانتیجہ ہے۔ نیازی سرنڈر نہیں کیا کرتے، امریکا میں عمران خان کی سربلندی، سروری، برتری اورسرفرازی نے یہ بتادیاہے۔ مہنگائی نے کسی حدتک عمران خان کاسیاسی گراف گرادیا تھا مگر کامیاب دورہ امریکا نے انہیں پھرسے عوام میں مقبول اورعوام کامحبو ب بنادیا۔ عمران خان کے کامیاب دورہ امریکا سے جہاں بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ہے وہاں پاکستان کی چندسیاسی پارٹیاں بھی ہنوز حالت سوگ میں ہیں۔

پنجاب کے زیرک اورانتھک صوبائی وزیر اطلاعات میاں اسلم اقبال نے کہا ”کپتان نے امریکہ میں بھارت کوناک آؤٹ کردیا“ وہ اپنے قائداوروزیراعظم عمران خان کے حالیہ تاریخی اورکامیاب دورہ امریکاپربامعنی تبصرہ کر رہے تھے۔ کپتان عمران خان اپنے پرجوش اورپرعزم ٹیم ممبر میاں اسلم اقبال سے جوکام لے رہے ہیں وہ اس سے بھی برترپوزیشن پر بہترطورپرکام کرسکتے ہیں تاہم وزرات اطلاعات کے لئے میاں اسلم اقبال کا انتخاب دیرآئددرست آئدکے مصداق ہے۔

میاں اسلم اقبال جذباتی یاشرارتی نہیں بلکہ منفرد، موثر، مثبت اورمنجھے ہوئے سیاسی اسلوب کے ساتھ بات کرتے ہیں، معاشرے کے مختلف طبقات میں ان کی بات غورسے سنی جاتی ہے۔ ریاست یاجماعت کے لئے اطلاعات کاشعبہ انتہائی حساس ہوتاہے اور اس کاقلمدان احساس سے عاری کسی شخص کونہیں دیاجاسکتا۔ میاں اسلم اقبال کی شخصیت میں استقلال اورسیاست میں استدلال ہے۔ مرکزمیں کپتان اپنے ٹیم ممبرز فوادچوہدری اورفردوس عاشق کے درمیان تناؤسے چشم پوشی نہیں بلکہ انہیں نصیحت کریں کیونکہ وہ ٹیم کامیاب ہوتی ہے جس کے ٹیم ممبرز ایک دوسرے کو ”پاس“ دیتے ہیں جبکہ ایک دوسرے کو ”بائی پاس“ کرنیوالے فیل اورفلاپ ہوجاتے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کافیصلہ آنے والے چندروزتک ہوجائے گا۔ راقم نے 12 جولائی کے اپنے کالم میں بھی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کاعندیہ نہیں دیا بلکہ دعویٰ کیا تھا۔ میرے نزدیک اس تحریک عدم اعتماد کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے قائدین کی ”کمزوریاں“ اور ”مجبوریاں“ کسی قیمت پراپوزیشن کومتحد اورتوانانہیں ہونے دیں گی۔

مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی درحقیقت ریل کی وہ دوپٹڑیاں ہیں جودورتک ساتھ توچل سکتی ہیں مگر ا ن کاملن کبھی نہیں ہوسکتا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف چارج شیٹ کے لئے اپوزیشن کے پاس کوئی جوازاور مواد نہیں، صادق سنجرانی کاواحد سیاسی گناہ اپوزیشن کا ناجائز چارٹرآف ڈیمانڈ تسلیم نہ کرنا اور ان کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نہ بننا ہے۔ آصف زرداری کاخیال تھا صادق سنجرانی کی کامیابی ان کے مرہون منت ہے لہٰذاء وہ ان کے مفادات کاپہرہ دیں گے لیکن چیئرمین سینیٹ نے پیپلزپارٹی کے سیاسی گناہوں کابوجھ اپنے کندھوں پراٹھانے سے صاف انکارکردیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپنے انتخاب کے بعد پاکستان اورآئین سے وفاداری کاحلف اٹھایا تھاوہ اس پرکاربند ہیں۔ اپوزیشن قیادت سینیٹ اورقومی اسمبلی کے درمیان تناؤبلکہ تصادم کے درپے ہے۔ اگراپوزیشن قیادت کولگتا ہے وہ قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالے بل سینیٹ میں مسترد کر دے گی، اس سے ملک میں بدترین آئینی بحران پیدا ہوجائے گا اوراس کے بعدوزیراعظم عمران خان سرنڈرکردیں گے جبکہ نواز شریف اورآصف زرداری سمیت اپوزیشن کے دوسرے اسیران کورہا جبکہ احتساب کاباب بندکردیاجائے گاتویہ محض اس کی خام خیالی ہے۔

کامیاب دورہ امریکا کے بعد وزیراعظم عمران خان کامورال مزید بلندہوگیاہے۔ بے رحم احتساب کے حامی وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کے عزائم ناکام بنانے کے لئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کوڈٹ جانے کامشورہ دیاتھا اوروہ پوری طرح ڈٹ گئے ہیں کیونکہ فرزندبلوچستان صادق سنجرانی کواپنے منصب سے زیادہ پاکستان، آئین اورسینیٹ کاوقارعزیز ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک اعتماد کی قرارداد ”وڈرا“ کر لے ورنہ شکست اورخفت کے سواکچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم کے روح رواں مولانافضل الرحمن کے پاس گنوانے کے لئے کچھ نہیں بچاکیونکہ وہ توپارلیمنٹ سے باہر ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کی قیادت کابہت کچھ داؤپرلگا ہواہے۔ ان کے اپنے ”کرم“ انہیں انتہائی قدم اٹھانے سے روک رہے ہیں۔ مولانافضل الرحمن کے پاس سینیٹرز کاجووفدگیا اس کاتعلق پی ٹی آئی نہیں بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فرازتومحض اپنے دیرینہ دوست اور ساتھی سینیٹرانوارالحق کاکڑ کے اصرار پرساتھ چلے گئے تھے۔

مولانافضل الرحمن نے کوئٹہ میں ختم نبوت کے نام پرہونیوالے حالیہ اجتماع میں سیاسی تقریر اورمنتخب حکومت پرشدیدتنقید کرتے ہوئے اکتوبر میں اسلام آبادکی طرف مارچ کانقارہ بجادیا ہے، افسوس اجتماع میں شریک مدارس کے معصوم بچوں کے اذہان وقلوب میں نفرت اورتعصب کابیج بویاگیا۔ ہماری ریاست کسی قسم کی منافرت اور مذہبی یاصوبائی کارڈ کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ہمارے ملک میں دین کے نام پرسیاست کرنیوالے بھی ”اسلام“ سے زیادہ ”اسلام آباد“ کی محبت کے اسیر ہیں۔

انہیں اسلام کاپرچم سربلندکرنے سے زیادہ اسلام آباد پراپناپارٹی پرچم لہرانے میں دلچسپی ہے۔ جودین کے نام پردنیا کی محبت میں گرفتار ہیں عوام نے انہیں 2018 ء کے انتخابات میں مسترد کردیاتھا۔ اگردین کے نام پرسیاست کرنیوالے صادق اورامین ہوتے توآج اسلامی جمہوریہ پاکستان پردین فطرت اسلام کاغلبہ ہوتا۔ جواسلام کے ساتھ وفانہیں کرتے وہ اسلام آباد کے وفادار کس طرح ہوسکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کے بیانیہ کے خلاف اعلان بغاوت کرتے ہوئے متعدد ارکان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے اپنی اپنی جماعت میں فاروڈ بلاک کی بنیادرکھ دی تھی، آنے والے دنوں میں وزیراعظم عمران خان سے مزید ارکان کے ملنے کی امید ہے۔ یقینا اپوزیشن پارٹیو ں کے سنجیدہ ارکان اپنے بدعنوان رفقاء کوبچانے کے لئے اپناسیاسی مستقبل قربان نہیں کر یں گے۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے اخلاص، مجموعی طورپران کی شاندارشخصیت اور سینیٹ میں قابل رشک رویے نے اپوزیشن کے اعتدال پسند سینیٹرز کو اپناگرویدہ بنالیا ہے، اگر اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس نہ لی اورخفیہ رائے شماری سے فیصلہ ہواتو اپوزیشن کے باضمیر ارکان صادق سنجرانی اوران کے سرگرم حامیوں وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان، سینیٹر انوارالحق کاکڑاور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیرداخلہ سرفرازخان بگٹی کوہرگزمایوس نہیں کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کے سٹینڈ جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان، سینیٹر انوارالحق کاکڑاوربلوچستان کے سابق صوبائی وزیرداخلہ سرفرازخان بگٹی نے اپنے صادق جذبوں سے بازی پلٹ دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے سٹینڈ کی بدولت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اب ڈینجرزون میں نہیں رہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام کمال خان، پاکستانیت کے علمبردارسینیٹر انوارالحق کاکڑاور سرفرازخان بگٹی کے سینیٹ میں اپوزیشن ارکان سے رابطے رائیگاں نہیں جائیں گے۔

بلوچستان کی زیرک قیادت میرجام کمال خان، سینیٹر انوارالحق کاکڑاوربلوچستان کے سابق صوبائی وزیرداخلہ سرفرازخان بگٹی نے انتہائی سنجیدگی سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک اعتماد کوہینڈل کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کے ضمیر پردستک دی ہے، سیاسی قیادت کے درمیان رابطے سے بندگلی میں بھی راستے بن جاتے ہیں۔ ان کی دستک سے اپوزیشن ارکان کے دروازے کھلیں نہ کھلیں روشن دان ضرور کھلیں گے۔ صادق سنجرانی کوگراتے گراتے اپوزیشن خودناک آؤٹ ہوجائے گی۔ قومی سیاست میں صادق سنجرانی جیسی نفیس شخصیات کادم غنیمت ہے، بلوچستان سمیت چاروں صوبوں میں کوئی ان کی شخصیت اورسیاست پرانگلی نہیں اٹھاسکتا، وہ آئینی منصب سے ہٹانے نہیں بلکہ سرآنکھوں پربٹھانے کے قابل ہیں۔

اسی بارے میں: جمہوریت پسند دوستوں سے چند گزارشات از وجاہت مسعود

نہایت احترام سے عرض کرنے دیں کہ مجھے محترم ناصر اقبال خان کی تحریر پر کچھ نیک نیت لیکن جذباتی احباب کے تبصروں سے سخت اختلاف ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حالیہ برسوں میں ملکی سیاست میں غیر ذمہ دارانہ لب و لہجے اور ذاتیات کی حد تک اترنے والی دشمنی نما مخالفت کا جو چلن شروع ہوا ہے اس نے صرف ایک گروہ ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ قوم کا اجتماعی مزاج اب اپنے سیاسی مخالفین کے لئے “چول” (استغفراللہ) اور “لفافہ” (لاحول ولا) وغیرہ جیسے نہایت نازیبا اور ناقابل قبول الفاظ استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ نہایت ادب سے عرض ہے کہ جمہوریت کا دفاع کرنے والوں کی طرف سے ایسا رویہ جمہوریت کے مخالفوں کی کامیابی ہے۔ اگر جمہوریت کا دفاع کرنے والے اختلافی رائے کو تحمل سے سن کر دلیل سے جواب دینا بھول جائیں گے تو جمہوریت کے دشمن خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے۔ مزید پڑھنے کے لئے کلک کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •