بخشو سردار اور سہانے سپنے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک علاقے میں ایک بخشو نام کا سردار تھا۔ ویسے وہ بنیادی طور پے سردار نہیں تھا۔ مگر اس کے سرداری کچھ اس طرح ہوئی کہ بخشو کے علاقے کے لوگوں کو گلی ڈنڈے کھیل میں بہت دلچسپی تھی اور بخشو چونکہ گلی ڈنڈے کا اچھا کھلاڑی تھا اور ماضی میں گلی ڈنڈے کے ٹورنامنٹ میں بخشو نے اپنے علاقے کے لئے ٹرافی جیتی تھی۔

بخشو نے اپنے علاقے میں دنیا جہاں سے چندہ اکٹھا کر کے ایک نیم خیراتی فلاحی ڈسپنسری کھول رکھا تھا۔ جس سے وہ کافی گھمنڈی تھا۔ علاقے کے حالات پنچایت کی غلط پا لیسیوں اور علاقے کے سرداروں کی اقربا پروری سے بہت ہی ابتر تھے۔ یہ ہی وجہ تھی۔ بخشو کو جب بھی موقعہ ملتا وہ علاقے کے قریبی درخت پے چڑھ کر علاقے کے سرداروں کی کرپشن کے راگ الاپتا تھا اور علاقے کے لوگوں کو سہانے خواب دکھاتا تھا اور کہتا کہ اگر اس کو سردار بنایا جائے پھر دیکھنا وہ کیا کرتا ہے۔

بخشو کو کوئی اور کام آتا نہیں تھا۔ بس روز درخت پے چڑھتا تھا اور برائیاں ہی کرتا تھا۔ اس کے اسی حرکتوں کو دہکھ کر علاقے کے کچھ معمولی قسم کے نوسرباز بھی اس کے ساتھ ہو گئے اس آسرے کہ شاید ایک دن بخشو سردار بن جائے اور اسی طرح بخشو کی چھوٹی سے سیاسی پارٹی وجود میں آئی۔

اس علاقے کے سردار کا چناؤ علاقے کے عوام کی بجائے پنچایت کرتی تھی۔ پنچایت عام عوام کو سامنے کر کے اپنے ہی من پسند کو ہی سردار منتخب کرتی تھی اور اگر سردار پنچایت کے فیصلوں اور منشور سے انحراف کی کوشش کرتا تو پنچایت علاقے کے سردار کو فوراً تبدیل کرتی تھی۔ یا پھر کبھی کبھی خود بھی سرداری اپنے ہاتھ میں لے لیتی تھی۔ حقیقت میں پنچایت کے ان غلط فیصلوں اور سرداری نظام میں بے جا مداخلت سے علاقے کے حالات بہت ہی خراب ہو چکے تھے۔

پہلے ادوار کی طرح اس دفعہ بھی معمول کے مطابق علاقے کے پرانے سردار کی پنچایت سے ان بن ہوگئی تو پنچایت نے سردار کو بدل دینے کا فیصلہ کیا۔ اب چونکہ علاقے کے پرانے سرداروں سے بھی پنچایت نا خوش تھی تو پنچایت نے سوچا کیوں نہ بخشو کو سردار بنایا جائے۔ یوں بخشو کے پارٹی کو علاقے کی سرداری مل گئی۔

بخشو میں ویسے تو بہت ہی اور بہت سی بری عادتیں تھیں مگر سب بری بات بخشو میں یہ تھی کہ وہ اپنی کسی بھی بات پے قائم نہیں رہتا تھا اور جو بات دل آجائے بنا سوچے سمجھے اور تحقیق کیے بول دیتا تھا۔

بخشو نے جب سرداری ہاتھ میں لی تو کچھ ہی مہینوں میں علاقے کے حالات بہت ہی خراب ہونے لگے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ بخشو چونکہ بنیادی طور پر کھلاڑی تھا تو اس نے حالات پر قابو پانے کے بر عکس علاقے کے پرانے سرداروں کو پکڑ کر بند کرنا شروع کردیا اور حسب معمول روز درخت پے چڑھ کر پرانے سرداروں کے کرپشن کی داستانیں سناتا تھا۔

ان حالات کو دیکھ کر بخشو کی مربی پنچایت بہت پریشان ہونے لگی۔ اسی پریشانی کو دیکھ کر پنچایت نے اپنی شاہ خرچیوں کو بھی معمولی سا کم کردیا تاکہ عزت بچ جائے مگر حالات اور مہنگائی تیز رفتاری سے بگڑ رہے تھے جس کی وجہ سے پنچایت اور بخشو بہت ہی زیادہ پریشان تھے۔

بخشو جب سردار نہیں تھا تو درخت پے چڑھ کر علاقے کو عوام کو بہت سہانے خواب دکھا چکا تھا جن میں اس نے علاقے کے لوگوں کو اچھی صحت، روزگار اور گھر کے وعدے کیے تھے اور یہ تک کہا تھا کہ جب وہ سردار بنے گا تو اپنے محل کو یونیورسٹی بنائے گا وغیرہ وغیرہ۔

بخشو کی سرداری کو اب ایک سال ہو چکا ہے مگر علاقے کے حالات ابھی بھی ویسے ہی ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ پہلے سے بہت ہی خراب ہیں۔ مہنگائی آسمان پر، علاقے پے دوسرے علاقوں کا قرضہ بہت ہی زیادہ بڑھ چکا ہے مگر ان تمام باتوں کی بر عکس بخشو روز شام کو درخت پے چڑھ کے پرانے سرداروں کی کرپشن کی داستانیں اسی انداز سے سناتا ہے اور علاقے کے عوام کو وہ ہی پرانے سہانے خواب دکھا کر رات کو سو جاتا ہے اور پھر اگلی صبح پھر شام کو درخت پے چڑھ کر وہی پرانی باتیں دہراتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •