بوڑھی چڑیاں مرنے کے لیے کہاں جاتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’بوڑھی چڑیاں مرنے کے لیے کہاں جاتی ہیں؟ ‘ ارون دھتی رائے کے حالیہ ناول کے آغازمیں جب مولوی صاحب اور انجم کے مابین تکلیف دہ جملوں کے تبادلے میں یہ مکالمہ ادا ہوا تو مجھے اپنے بچپن میں، ایک بڑے سے آنگن میں لگا انار کا وہ درخت یاد آیا جس کی نہفتہ شاخوں پر، گھنے پتوں کے درمیان کئی چڑیاں رہا کرتی تھیں۔ صبح صبح ہماری آنکھ چڑیوں اور گلہریوں کے شور سے کھلتی، چھوٹی چھوٹی سرمئی دھاری دار گلہریاں پھرتی سے پھدکتی ہوئی، ایک شاخ سے دوسری اور دوسری سے تیسری پر لگے اناروں کو منہ مار کر، شور مچاتے ہوئے، ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتی چلی جاتیں۔

اماں منزل پڑھتے ہوئے دس بار رکتیں اور گلہریوں کو صلٰواتیں سناتیں، جو ان کے پکے ہوئے سرخ قندھاری اناروں کو جگہ جگہ سے کتر جاتیں۔ انار کے درخت کا ہمسایہ ایک شرمیلا قسم کا امرود کا درخت تھا جس کی پتلی پتلی شاخوں پر بہت کم امرود لگتے۔ پھر بھی اماں بڑی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی دیکھ بھال کرتیں، پانی ڈالتیں اور اس کی مٹی میں گرے پتوں کو صاف کرتیں۔ دونوں درختوں کے درمیان میں لگے پھولوں کے پودے اماں کی توجہ کا خاص مرکز ہوتے، جن کے ہر نئے پھول پر وہ نہال ہوہو جاتیں۔

اماں کی ڈانٹ ڈپٹ سے ہمارے زبردستی ناشتہ کر کے سکول جانے تک ابا روز باقاعدگی سے انار کے درخت کے عین نیچے رکھے، مٹی کے بڑے سے کونڈے کے وسط میں، بڑے سلیقے سے روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے توڑ کر ڈالتے، اور اس کے گرد پانی بھر دیتے، تھوڑی ہی دیر گزرتی، اور انار کے درخت کے سبھی چھوٹے چھوٹے مکین، اپنے اہل و عیال کے ہمراہ زمین پر اتر آتے، اور خوب شور مچا مچا کر سیراب ہوتے، کچھ چڑیاں تو بڑی بے تکلفی سے کونڈے میں رکھے پانی میں نہانا شروع کر دیتیں، اماں انھیں دیکھ کر خوب ہنستیں اور ہمیں پاس بلا کر پیار سے اپنی انگلیاں ہمارے بالوں میں پھیرتیں، سرخ رنگ کے ربن کی بڑی سی بو (Bow) ہماری دو ننھی ننھی مضحکہ خیز پونیوں پرباندھتیں اور بستہ اٹھا کر ہمیں دروازے تک چھوڑنے آتیں۔

واپسی پر جب ہم بچوں کا قافلہ، شور مچاتا ہوا گھر داخل ہوتا، تو روز اماں کے پاس سنانے کو نئی کہانیاں ہوتیں، جن میں کہیں بلی کے چڑیوں پر حملے کی داستان تو کبھی گلہریوں کی شکایتیں، کبھی انار کی جھڑتی ہوئی کلیاں تو کبھی شہد کی مکھیوں کے تازہ لگے چھتے۔ اماں کبھی نہ رکتیں۔ کبھی کبھی امرود کا درخت بھی مسکین سی صورت میں اس گفتگو کا حصہ ہوتا، جس پر پھل لانے کے لیے اماں ہر جتن کر چکی تھیں۔ جس میں ایک پڑوسن کے مشورے سے دونوں درختوں کے مابین سرخ ڈوری باندھنے کا مضحکہ خیز تجربہ بھی شامل تھا۔ جس پر ابا اماں سے خفا بھی ہوئے پر اماں کو اپنے یہ دونوں رشتہ دار بہت عزیز تھے، ان کی شادابی کے لیے وہ بتایا جانے والا ہر ٹوٹکا جائز سمجھتیں۔

انار کے درخت کا پھل پکنے پر ابا سب انارایک بڑی سی ٹوکری میں توڑ کر اماں کے سپرد کر دیتے، اماں بڑے طریقے سے سب عزیزوں کے حصے بناتیں اور دونوں موسموں کی یہ سوغات سب کو بھیج کر خوش ہوتیں۔ چونکہ انار کے دانے نکالنے سے ہماری جان جایا کرتی تھی سو یہ کام بھی اماں خود بڑی خوشدلی سے سر انجام دیتیں۔ آرام سکون سے بیٹھ کر ڈھیروں اناروں کے دانے نکالتیں۔ دیر تک بیٹھ کر یہ کام کرنے سے، سرخ سفید اماں کے اپنے گال انار جیسے ہوجاتے، پر ہم کبھی سوائے انارکھانے کے، اورکسی قسم کی مدد کے لیے پاس نہ پھٹکتے۔

دن ڈھلتا اور شام ہوتے ہی سب چڑیاں شور مچاتے ہوئے آتیں اور اپنے اس بڑے سے گھر میں بسیرا کرلیتیں۔ رات میں اماں ہمیں آنگن کی روشنی کبھی نہ جلانے دیتیں، وہ کہتیں :درخت پرندے سب سو رہے ہیں، جاؤ کمروں میں کھیلو۔ اماں ان کا خیال اپنے بچوں کی طرح رکھتیں۔ گھر میں جو پکتا چڑیوں کا اس میں حصہ ہوتا، وہ ان کی من پسند چیزیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر، مٹی کے بڑے سے کونڈے میں ڈال دیتیں۔ جنھیں کھانے سارا لشکر اتر آتا اور آن کی آن میں سب چٹ کر جاتا۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا ٹیکنالوجی کی بوتل سے نکلے جن نے چھوٹے شہروں میں بھی جھانکنا شروع کیا، بچے بڑے ہوئے تو آسائشوں اور ضرورتوں کی طلب بھی بڑھنے لگی، طلب کے اسی قانون نے اینٹ پتھر کی نئی دیواروں کو جنم دیا۔ ایک کمرے میں مل کر کھیلنے والوں کو اب اپنا اپنا الگ کمرہ چاہیے تھا، انھیں آنگن میں چلنے والی ہوا سے زیادہ سکون، مصنوعی ٹھنڈک زدہ کمروں میں نظر آنے لگا۔ پرانی طرز کے مکانات اب آکورڈ لگتے تھے۔ یوں لائف سٹائل میں در آنے والی ضروری تبدیلیوں کے سبب آنگن میں اٹھنے والی دیواروں نے سب سے پہلی نظر انار کے درخت اور اس کے شرمیلے ہمسائے پر ڈالی۔

جس وقت اپنی جڑوں اور شاخوں سے کٹا ہوا، انار کے درخت کا بڑا سا تنا، آنگن میں اوندھے منہ پڑا تھا، تو اماں اپنے آنسو دوپٹے میں چھپائے جاتیں تھیں، ان کے سب عزیز ننھے رشتے دار، کلہاڑی کی پہلی ضرب سے ہی ہجرت کر چکے تھے، چھپ چھپ کر روتی اماں کو اپنے بچوں کی خوشیاں زیادہ عزیز تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر بھر کے آنگن دیواروں سے بھر گئے اور درخت ایک ایک کرکے منظر سے غائب ہونے لگے۔

تب سے اب تک، بہت سا وقت پر لگا کر اڑا ہے۔ ابا نے ایک بڑے سے دیوار گیر پنجرے میں، اماں کو ڈھیروں رنگ برنگے اور کئی قسم کے طوطے لا دیے ہیں، اماں انھیں بھی باقاعدگی سے کھانا ڈالتی ہیں، پر آج بھی کوئی انار کے درخت کا ذکر کرتا ہے تو اماں کی آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں، شایدانھیں، اس دن اداسی اور خاموشی سے نقل مکانی کرجانے والے، اپنے منہ بولے رشتہ دار یاد آتے ہیں۔

ابھی کل کی ہی بات ہے، شام ڈھلے گیراج کے ایک ادھ کھلے حصے سے اندر آئی، ایک ہانپتی ہوئی، مریل سی چڑیا کو دیکھ کر وہ کافی بے چین ہوگئیں۔ چڑیا نے جتنی بار اڑنے کی کوشش کی سب رائیگاں گئیں، وہ ہر بار دیوار وں سے ٹکرا کر زمین پر گر جاتی، گھر کے بچوں کے لیے یہ محض ایک تماشا تھا۔ وہ تالی بجا بجا کر خوش ہو رہے تھے۔ تبھی اماں نے نہایت دلگیر ہو کر اسے ہاتھ میں اٹھا لیا اور نہایت پیار سے اس کی پشت سہلائی، پھر آزردگی سے بولیں : یہ تو بوڑھی چڑیا معلوم ہوتی ہے، لگتا ہے اس کا ٹھکانہ بھی کسی نے ختم کر ڈالا، آخری الفاظ انھوں نے بڑے دکھتے ہوئے کہے۔ تبھی چڑیا نے ان کی جانب اداس نظروں سے دیکھا اور آنکھیں موند لیں۔ اماں نے دو ایک بار اسے ہلایا لیکن وہ بوڑھی چڑیا، ان کے ہاتھوں میں ہی دم توڑچکی تھی، اماں کے رخسار پر آنسو رواں تھے۔ تب بھاری دل سے میں نے سوچا، شاید سبھی بوڑھی چڑیاں، مرنے کے لیے اپنے پیاروں کے پاس جاتی ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •