نشانیاں تاریخ تھیں ،مٹادی گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب افتخار ممدوٹ کا گھر توڑا جا رہا تھا۔ میں حبیب اللہ روڈ پر دفتر جاتے ہوئے دیکھتی، قائد اعظم پیپرز صفحہ در صفحہ مٹی میں لپٹے سڑک کنارے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے سرکار کے آگے بہت منتیں کیں مگر کون سنے فریاد ہماری۔ سب کچھ ردی کے بھائو بک گیا۔

ہمیں خبر ہی نہیں کہ قائداعظم کے بعد، لیاقت علی خان کا کوئی اپنا گھر تھا۔ البتہ جی ایم سید جنہوں نے پاکستان کی قرارداد سے پہلے سندھ اسمبلی سے پاکستان کیلئے قرارداد پاس کروائی تھی۔ جہاں پہلے تحریک پاکستان کیلئے اور پھر جئے سندھ کیلئے سیاسی کام شب و روز ہوتا رہا۔ وہ جس کا نام حیدر منزل تھا وہ ان کے پوتے نے کسی بلڈر کے ہاتھ فروخت کر دی۔ خالدہ حسین اور شبنم کے گھر مرتے ہی فروخت ہو گئے۔

اس طرح حیدر بخش جتوئی کا گھر بھی بے نشان ہو گیا۔ فیض صاحب کے گھر کی جگہ نئے گھر بن گئے ایک نئی جگہ کا نام فیض گھر رکھ دیا گیا۔

منشا یاد کا گھر بیٹوں میں تقسیم ہوا۔ بلڈر کے ہاتھوں میں گیا۔ احمد فراز کا گھر یوں تو ایک گھر جس میں ریحانہ رہتی ہیں، سلامت ہے۔ مگر دوسرا گھر بھی ریت ہو گیا۔ اس طرح قاسمی صاحب، قتیل صاحب، منٹو، مشفق خواجہ، میرا جی، انور سجاد، مظفر علی سید، ان سب گھروں کی اب کوئی نشانی نہیں۔ جن کے بچے ان کے گھر میں رہ رہے ہیں۔ جیسے یوسفی صاحب، ہاجرہ مسرور اور عالی صاحب کے گھر ابھی بطور نشانی موجود ہیں۔

اس طرح ہم یاد کریں تو رسالہ ہمایوں نکلتا تھا۔ ادبی دنیا نکلتا تھا، ہفت روزہ قندیل، چٹان اور استقلال نکلتا تھا۔ پھر انگریزی کا ’’مرر، شی‘‘ اور پاکستان کا سب سے قدیم ’’ہیرالڈ‘‘ نکلتا تھا۔

اب اس کے بند ہونے کا تازیانہ بھی پڑ چکا ہے۔ پہلے ’’افکار‘‘ صہبا لکھنوی کی ہمت سے نکلتا تھا۔ اوراق وزیر آغا کی بدولت اور فنون تو تھا ہی قاسمی صاحب کے نام سے، جسے ناہید قاسمی نے زندہ کرنے کی کوششیں کیں۔ اس طرح ادب لطیف اور سویرا کو ناصر زیدی اور ریاض احمد نے اپنی پرانی تاریخ کے ساتھ یاد رکھنے کی کوشش کی۔ مگر عمر اور سرمایہ دونوں ساتھ نہ دے سکے کہ صدیقہ بیگم دمے کے باعث سانس کو سنبھالتی رہی ہے۔

البتہ شاہد علی خاں ’’الحمرا‘‘ کو اور منظور بیاضی کو بہت حد تک سنبھالے ہوئے ہیں۔ گلزار صاحب چہار سو اور منصور عاقل صاحب الاقربا کو سنجیدگی اور محنت سے ہم تک پہنچاتے رہے ہیں۔ اس طرح اُردو ڈائجسٹ اپنی نوع کا منفرد پرچہ ہے۔ مگر عجیب و غریب ڈائجسٹوں کی بھرمار ہے۔ فیشن میگزین بھی نکلتے اور بند ہوتے رہے ہیں جیسے انگریزی کا ریڈر ڈائجسٹ اپنی تاریخ رکھتا ہے، وہ بھی تھک گیا۔ ماہِ نو تو سرکاری پرچہ ہے۔ اس پر بات کرنی ایسے بیکار ہےجیسے پی ٹی وی پر۔

البتہ آج کل نیٹ پر کچھ اہم پرچے نکل رہے ہیں۔ وجاہت مسعود نے ’’ہم سب ‘‘ نکالا ہے۔ نیٹ پر ہی پڑھا جا سکتا ہے۔ رضا رومی نے ’’نئی دنیا‘‘ کا آغاز کیا ہے۔ کچھ سہ ماہی اور کچھ شش ماہی پرچے کل پرزے نکال تو رہے ہیں۔ البتہ معیار کی تلاش مایوس کر دیتی ہے۔ کھانا پکانے میں ’’ہم‘‘ والوں کا پرچہ پچاس ہزار میں فروخت ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ کچھ بچوں کے پرچے اور جاسوسی ڈائجسٹ، ٹرین میں سفر کرنے والوں کے ہاتھوں خوب فروخت ہوتے ہیں۔

اخبار ہر شہر سے بے تحاشہ نکلتے ہیں۔ بڑے شہروں والے بڑے اخبار بھی بے جان ہو گئے ہیں۔ رات نو بجے کی خبریں اُردو اور انگریزی کے اخباروں کے ایک چوتھائی حصے میں اور تین چوتھائی میں اشتہارات میرے جیسے جن کی عمر اخبار پڑھنے میں گزری ہے وہ طوعاً و کرھاً ہزاروں خرچ کر کے اخبار خریدتے، دس منٹ بعد ردی میں ڈال دیتے ہیں۔ چھوٹے شہروں کے اخبار، وہیں کے تحصیلدار اور ڈی سی او ان کی بیگمات کی خبروں اور تصاویر سے مزّین ہوتے ہیں۔ خبروں اور واقعات کا بےلاگ تبصرہ ناممکن کہ حکومت میں برداشت کا مادہ نہیں ہے اور پھر اوپر سے بقول حامد میر، حکم نامے آجاتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان تو خیر سے اپنی بے نام قبر میں چھپ گیا ہے۔ جتنے ایف۔ایم ریڈیو ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے حکیموں کے نسخے، رشتوں کے استخارے اور پیروں، مریدوں کی کرامات سے پیٹ بھرتے ہیں۔ خبریں یا تو قتل نامہ ہوتی ہیں یا پھر ڈاکو نامہ یہ جو 46فیصد نئی نسل ہے۔ اس کو ٹھکانے لگانے اور سکھانے کا کوئی پروگرام نظر نہیں آتا۔ پھر پاکستان میں پھیلے ہوئے امراض کے فوری علاج کے بندوبست کی کوئی راہ سجھائی نہیں جاتی۔ صرف بچے کم پیدا کرو کہہ دینے سے تو آبادی کم نہ ہو گی۔ جیسے صرف یوریا دینے سے فصل اچھی نہیں آئے گی ۔

پہلے کالجوں کے میگزین نکلتے تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بھی انہی ناموں کے پروگراموں میں نوجوان نسل حصہ لیتی تھی۔ اب صرف کسوٹی کی طرح کے پروگرام ہیں یعنی رٹا لگالو، عقل استعمال کرنے کے لئے برنٹ رسل اور ڈاکٹر سلام کہاں سے آئیں گے۔

پہلے صفحے سے آخری صفحے تک تمام ذمہ داری شفقت محمود کی ہے پرانے دوست ایسے غائب ہیں کہ ابھی انہیں اکیڈمی آف لیٹرز یا دنہیں،ادیبوں، خاص کر بیمار ادیبوں کا براحال کس کو بتائیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •