صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد نامنظور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کی قرارداد پر ایوان بالا (سینیٹ) میں ووٹنگ کی گنتی مکمل ہو گئی۔

تحریک عدم اعتماد کے حق میں 50 ووٹ آئے۔ مطلوبہ تعداد حاصل نہ ہونے کے باعث قرارداد ناکام قرار دے دی گئی۔ صادق سنجرانی بدستور چیئرمین سینیٹ رہیں گے۔

قبل ازیں 64 سینیٹرز نے ایوان میں کھڑے ہو کر تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کی تھی۔ لیکن خفیہ رائے شماری میں 14 ارکان نے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

پریذائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی سیف کی زیر صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا۔ قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک پیش کی۔ 64 ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر قرارداد پیش کرنے کی حمایت کی جس پر بیرسٹر محمد علی سیف نے تحریک پر رائے شماری کی منظوری دے دی۔

رائے شماری خفیہ طریقے سے کرائی گئی اور 100 اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جن میں سے 5 ووٹ مسترد ہوگئے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو 53 ارکان کی ضرورت تھی لیکن اسے 50 ووٹ ملے۔ دوسری جانب صادق سنجرانی کے حق میں 45 ووٹ ڈالے گئے۔

اس طرح چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگئی اور اپوزیشن اتحاد سینیٹ میں عددی اکثریت ہونے کے باوجود چیئرمین کو ہٹانے میں ناکام ہوگیا۔

سینیٹ میں حکومتی اور اتحادی ارکان کی تعداد 36 ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے 9 ارکان نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔

ووٹنگ کے دوران جماعت اسلامی کے سراج الحق اور سینیٹر مشتاق احمد جبکہ ن لیگ کے چوہدری تنویر ایوان سے غیر حاضر رہے۔ جماعت اسلامی نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •