’یہ سب جنرل فیض کے لوگ ہیں، جانتے ہیں آپ جنرل فیض کو؟ آئی ایس آئی کے چیف ہیں‘

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنجرانی

سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہونے کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتیں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

اپوزیشن کے ردِ عمل میں غم و غصے کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب ایک صحافی نے نیشنل پارٹی کے لیڈر اور چیئرمین سینیٹ کے امیدوار حاصل بزنجو سے پوچھا کہ خفیہ رائے شماری کے دوران یہ چودہ ارکان کون تھے جنھوں نے آج آپ کا ساتھ نہیں دیا، تو انھوں نے اطمینان سے کہا ’یہ سب جنرل فیض کے لوگ ہیں، جانتے ہیں آپ جنرل فیض کو؟ آئی ایس آئی کے چیف ہیں۔‘

اسی حوالے سے جب سینیٹ کے احاطے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر خورشید شاہ سے پوچھا کہ آج کیا ہو گیا اور کیا یہ متوقع تھا؟ تو انھوں نے کہا ’پہلے میں یہ سمجھ تو لوں کہ مجھے کہنا کیا ہے۔‘

آج رائے شماری ہونے سے پہلے حزبِ اختلاف کی جماعتیں کافی پُرامید نظر آرہی تھیں۔ آج شہباز شریف کی طرف سے دیے گئے ناشتہ کے دوران جہاں ماحول اچھا رہا وہیں سینیٹ میں ووٹ ڈالنے کے عمل کے بارے میں کئی بار سینیٹرز کو شیری رحمان سمجھاتی سنائی دیں۔

لیکن دوسری جانب حکومتی جماعت کے رکن اور سینیٹ میں قائدِ ایوان شبلی فراز اُن سب سے کئی گُنا زیادہ پُرامید اور خوش باش نظر آرہے تھے۔ جب تقاریر کرنے کی باری آئی اور اجلاس کے پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر محمد علی خان نے دونوں جانب کے اراکین سے اس بارے میں پوچھا تب بھی شبلی فراز نے راجہ ظفر الحق کی بات کی حمایت کرتے ہوئے تقریر کرنے سے انکار کر دیا۔

جیسے جیسے پریزائیڈنگ افسر حروفِ تہجی کے ذریعے سینیٹروں کا نام پکار رہے تھے حکومتی ارکان اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں بڑے ولولے کے ساتھ ان کی پشت پناہی کرنے کے لیے ٹیبل بجارہی تھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ ایوان میں بطورِ مبصر شامل ہوئے۔

تاہم چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی شروع میں خاصی بوکھلاہٹ کا شکار نظر آئے۔ ووٹنگ کے دوران اُن کا نام آتے ہی حکومتی ارکان ٹیبل بجا کر اپنی حمایت کا اظہار تب تک کرتے رہے جب تک صادق سنجرانی ووٹنگ بوتھ میں نہیں چلے گئے۔ لیکن صادق سنجرانی کو واپس باہر آنا پڑا کیونکہ وہ بوکھلاہٹ میں غلط جگہ مہر لگا آئے اور اپنا ووٹ کینسل کروا کر دوبارہ ووٹ ڈالنے گئے۔

بلاول بھٹو سے آمنا سامنا ہونے پر صادق سنجرانی نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سلام کے طور پر اپنا سر جھکایا اور بلاول بھٹو نے مسکرا کر جواب دیا۔

اس کے بعد صادق سنجرانی پچھلی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی قراۃ العین مری کے ساتھ کافی دیر تک کبھی ہنسی مذاق اور کبھی سنجیدہ گفتگو کرتے نظر آئے۔ اسی جگہ کئی حکومتی ارکان اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد ان سے ہاتھ ملانے آتے رہے۔ کچھ دیر بعد وہ سب سے آگے اپنی نشست پر واپس جاکر بیٹھ گئے۔

جب سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمان کی ووٹ ڈالنے کی باری آئی تو سب سے زیادہ جوش و خروش سے صادق سنجرانی نے ٹیبل بجائی اور ان کو گزرتے ہوئے ’میڈم چییرمین‘ کہا۔ جس پر شیری رحمان نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اسی طرح مسلم لیگ نواز کی ایک رکن کا نام آنے پر دونوں جانب سے خاصا شور مچا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ سب اس لیے خوش ہیں کیونکہ انھوں نے دونوں طرف کا ظہرانہ اور عشائیہ کھایا ہوا ہے۔

ووٹنگ کا عمل پورا ہونے کے بعد حکومتی ارکان پریشان جبکہ اپوزیشن جماعتیں بہتر موڈ میں نظر آئیں۔ لیکن جوں جوں ووٹوں کا جھکاؤ صادق سنجرانی کی طرف ہوتا ہوا نظر آیا حکومتی بینچوں پر نعرے بازی جبکہ اپوزیشن بینچوں پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔

حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس وقت اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے ساتھ آج کیا ہوا ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں آج اپوزیشن جماعتیں چار ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے ناکام ہو گئیں۔ لیکن اس وقت وہ اُن چودہ ووٹوں کے بارے میں سوچ رہی ہیں جن کو پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن فیصل جاوید ’انسنگ ہیروز‘ کہہ رہے ہیں۔

قرارداد کے حق میں 50 ووٹ آئے جبکہ اس کی کامیابی کے لیے 53 ووٹ درکار تھے۔ صادق سنجرانی کے حق میں 45 ارکانِ سینیٹ نے ووٹ دیا جبکہ ایوان میں حکومتی ارکان کی تعداد 36 ہے۔

ایوانِ بالا میں ڈپٹی چیئرمین کے خلاف حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد بھی ناکام رہی جس کی حمایت میں 36 ووٹ آئے۔

آج ایوانِ بالا میں 100 سینیٹر موجود تھے جبکہ تین ارکان غیر حاضر رہے اور مسلم لیگ نواز کے اسحاق ڈار پہلے ہی سسپنشن کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں ان کا ووٹ نہیں بنتا تھا۔

جیسے ہی حکومتی ارکان کو یہ یقین ہوگیا کہ صادق سنجرانی اب محفوظ ہیں تو فورا ہی ’سب پر بھاری سنجرانی‘ کے نعرے لگنا شروع ہو گئے ۔ لیکن ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ حکومتی ارکان کہہ رہے ہوں ’سب پر بھاری زرداری۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10148 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp