کشمیر میں بڑھتی کشیدگی: بی جے پی حکومت کشمیر میں کیا کر رہی ہے؟

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر
وادی کشمیر میں دفعہ 144 نافذ ہے یعنی چار سے زیادہ لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے جبکہ جموں میں کرفیو نافذ ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ چند دنوں سے غیر معمولی حالات ہیں لیکن وہاں کے گورنر ستیہ پال ملک کہتے ہیں کہ کشمیر میں ‘سب کچھ نارمل ہے’۔

لیکن پورے خطے میں لوگ سراپا سوال ہیں۔

انڈیا بھر میں سیاسی پارٹیوں نے کشمیر کے حوالے سے سکیورٹی ایڈوائزری جاری کرنے پر حکومت سے وضاحت طلب کی ہے لیکن بی جے پی حکومت کے چند نمایاں افراد کے علاوہ کسی کو نہیں پتا کہ کشمیر میں یہ غیر معمولی انتظامات کیوں ہو رہے ہیں۔

اگر جموں و کشمیر کے گورنر کی بات مان لیں کہ ‘سب نارمل ہے’ تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس غیر معمولی ایڈوائزری کا مطلب کیا ہے؟

کشمیری رہنماؤں عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون کی نظر بندیاں کیوں عمل میں آئیں؟ کشمیر میں دفعہ 144 کیوں نافذ کر دی گئی ہے؟ اور تو اور، جموں میں کرفیو کا نفاذ کیا غیر معمولی عمل نہیں؟

پیر سے سرینگر سمیت وادی کے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کیوں بند کر دی گئی ہیں؟ لینڈ لائن پر بھی سرینگر سے رابطہ کیوں نہیں ہو پا رہا ہے؟ سکول و کالج میں تعطیل کیوں کی گئی ہے اور امتحانات کیوں ملتوی ہوئے ہیں؟

گذشتہ دس دنوں میں اس قدر اضافی فورسز وادی میں کیوں بلائی گئی ہے؟

عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ‘ان کی اور دیگر رہنماؤں کی نظربندی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اس حقیقت کو جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔’

https://twitter.com/ShashiTharoor/status/1158084643066789889

اس ٹویٹ کے جواب میں کانگریس رہنما اور سابق وزیر ششی تھرور نے لکھا: ‘عمر عبد اللہ، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہر جمہوری ہندوستانی کشمیر میں مین سٹریم کے شائشتہ قائدین کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ پارلیمان کا اجلاس جاری ہے اور ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔’

اسی دوران پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ کشمیر کے لیے متحد ہیں۔

https://twitter.com/MehboobaMufti/status/1158076327477444608

سرینگر کے میئر جنید عظیم مٹو یہ ٹویٹ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ ‘کیا ہم سب محصور ہیں؟ کیا میئر بھی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے؟ کیا ہم پوری طرح سے پولیس ریاست میں تبدیل ہو چکے ہیں؟’

بیرونی اور اندرونی عناصر

انڈیا کے تمام سرکردہ اخباروں کے اداریے بھی کشمیر پر ہیں۔ انگریزی اخبار ‘ہندوستان ٹائمز’ نے اداریے میں لکھا ہے: ’ہوشیار رہیں، لیکن شہریوں کے اندیشوں کو دور کریں۔‘

اس سرخی کے نیچے اخبار نے لکھا ہے کہ کشمیر میں ایک ہفتے سے جاری بحران کے دو عناصر ہیں۔

پہلا بیرونی ہے اور اطلاعات کے مطابق حکومت کو معتبر ذرائع سے پتا چلا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دراندازوں کو بھیجنے کی کوشش کر رہا اور انھیں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان کا واشنگٹن میں جس طرح استقبال ہوا ہے اس سے اسلام آباد کا حوصلہ بلند ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اس بحران میں اندرونی عناصر بھی شامل ہیں۔ ہر چند کے عملی رازداری ضروری ہے لیکن مرکز کو کشمیریوں کو، جن میں ریاست کی سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور شہری شامل ہیں اعتماد میں لینا چاہیے۔

سرینگر میں سکیورٹی سخت
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ’مرکز کو کشمیریوں کو، جن میں ریاست کی سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور شہری شامل ہیں اعتماد میں لینا چاہیے‘

لیکن اس کے برعکس یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کشمیری رہنما وہاں کے حالات سے بے خبر ہیں اور اب تو وہ نظر بند بھی ہیں۔

دوسری جانب اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے ‘ٹینس کشمیر’ یعنی ’کشیدہ کشمیر‘ کے عنوان سے اپنا اداریہ شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ امرناتھ زائرین اور سیاحوں کے غیر روایتی انخلا کے بعد مرکز کو افواہوں کو روکنا چاہیے۔

اداریے میں لکھا ہے ’امرناتھ یاترا کو معمول سے دو ہفتے قبل ختم کر دیا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صرف بی جے پی حکومت ہی امرناتھ یاترا کو وقت سے پہلے ختم کر سکتی تھی کیونکہ اگر کسی اور حکومت نے ایسا کیا ہوتا تو یہ بیانیہ گردش کرتا کہ دہشت گردوں کی وجہ سے ہندو زیارت کو پورا ہونے سے روک دیا گیا۔اس حوالے سے واجب سوالات پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا سیاحوں اور زائرین سے فوراً وادی کو خالی کرانا واقعی ضروری تھا۔‘

دوسرے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کسی دوسری حکومت نے ایسا کیا ہوتا تو بی جے پی نے ہی ملک گیر پیمانے پر شور شرابہ کھڑا کر دیا ہوتا۔

نئی دلی، پرانے طور

انڈیا میں دفاعی امور کے معروف تجزیہ نگار اجے شکلا نے ٹویٹ کیا: ’فوجیوں کی تعیناتی، رہنماؤں کی گرفتاری، انٹرنیٹ فون سروسز معطل اور کرفیو نافذ، سوال یہ ہے کہ اگلا سیاسی قدم کیا ہوگا۔ 35 اے یا آرٹیکل 370 کو ختم کیا جائے گا۔ امرناتھ یاترا کے اختتام تک انتظار کیوں نہیں کیا گيا؟‘

https://twitter.com/ajaishukla/status/1158198315273486336

انڈین ایکسپریس نے ‘نئی دلی، پرانے طور’ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ایک بار پھر مرکز نے وادی کو پیغام دیا ہے کہ وہ تنہا فیصلہ کرے گی اور اس کی اس نے کوئی توجیہ بھی پیش نہیں کی ہے۔

اس نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران کشمیر میں جو کچھ ہوا ہے وہ این ڈی اے حکومت اور بذات خود وزیر اعظم مودی کے دعووں یعنی کشمیر کو محبت، بات چیت اور گڈ گورننس سے جیتنے کے برعکس ہے۔

اس نے مزید لکھا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بحران کے زمانے میں عوام کو بھروسہ دلائے لیکن دو اگست سے جو ہو رہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

بہر حال پیر کی صبح وزیر اعظم مودی نے اپنی رہائش پر مرکزی وزیروں کی میٹنگ بلائی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ میٹنگ کشمیر پر بات چیت کے لیے بلائی گئی۔

ہے دوسری جانب پاکستان میں بھی دوپہر دو بجے کشمیر معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

ایندھن کے لیے لمبی قطاریں ہیں
کشمیر میں ایندھن کے لیے لمبی قطاریں نظر آئی ہیں

عوام کو کشمیر سے کیوں باہر نکالا جا رہا ہے؟

سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر کشمیر بقول انڈیا اس کا اٹوٹ حصہ ہے تو پھر ملک میں دوسری جگہ کے عوام کو وہاں سے کیوں نکالا گیا؟

ٹی وی چینلوں پر ایسے لوگوں کے انٹرویز نظر آ رہے ہیں جو کشمیر میں کئی برسوں سے کاروبار کر رہے تھے انھیں بھی کشمیر سے جانے کے لیے مجبور کیا گیا ہے جس سے ان کی روٹی روزی کا سوال پیدا ہو گیا۔

بعض مبصرین نے ٹی وی چینلوں پر مباحثے کے دوران اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ تمام پیش رفت کشمیر کو اور پڑوسی ملک کو سخت پیغام دینے کے لیے ہے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن عوام گھبرائی ہوئی ہے۔ کمشیری اپنے گھروں میں مہینوں کا راشن بھر رہے ہیں، بعض جگہ پیٹرول پمپ کو زنجیروں سے بندھا دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی ثالثی کا معاملہ

پاکستانی وزیر اعظم کے امریکہ دورے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ بار کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں سب کچھ بہت ٹھیک نہیں ہے۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے چین اور امریکہ سے روایتی روابط رہے ہیں لیکن صرف اسرائیل انڈیا کی طرف پوری طرح نظر آ رہا ہے۔ گذشتہ دن اتوار کو ورلڈ فرینڈشپ ڈے پر اسرائیل سفارتخانے نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بنیامین نتن یاہو اور نریندر مودی کی ایک ساتھ کئی تصاویر جاری کی اور اس کے ساتھ فلم شعلے کا معروف گیت ‘یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے’ بھی تھا۔

امرناتھ زائرین
امرناتھ کی زیارت کے آنے والے لوگوں کو واپسی کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس مقدس یاترا کو وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا ہے

دوسری جانب پاکستان چین کے ساتھ اپنی دوستی کو ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھی اور سمندر سے گہری کہتا ہے۔ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں جو تلخی آئی تھی وہ بھی عمران خان کے واشنگٹن دورے سے پگھلتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں انڈیا کسی قسم کی حوصلہ مند پیش قدمی سے گریز کرے گا۔

دوسری جانب اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت یہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر اسلامی تعاون تنظیم کو انتہائی تشویش ہے۔

آرٹیکل 35 اے

گذشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم ہے کہ انڈیا کے آئین کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کیا جائے گا اور امکانی عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

سکیورٹی

جمعے کی دوپہر کو یہ افواہیں بھی اُڑیں کہ انڈین حکومت نے ہندو اکثریت والے جموں خطے کو علیحدہ ریاست جبکہ کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرانتظام خطے قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کے ردعمل کو روکنے کے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گذشتہ روز یہ افواہ بھی اڑی کہ کشمیری رہنما یاسین ملک کی حراست میں موت ہو گئی ہے اور اس کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بہر حال ان تمام افواہوں کی انڈیا کے مختلف حکام کی جانب سے تردید کی کئی ہے۔

کشمیریوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر انڈیا کے آئین میں موجود آرٹیکل 35 اے اور 370 کی حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم آباد کار یہاں بس جائیں گے جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11063 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp