برقعہ بھی پردے کا محتاج!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیشن زدہ برقعوں سے پردے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ عجب حال ہوگیا ہے، دوشیزؤں اور خواتین کا فیشن زدہ برقعے، اسٹول، وغیرہ جو راہ چلنے والے کو دعوت نظارہ دے رہے ہوتے ہیں۔ نہیں دیکھنے والے کی نگاہ بھی بے ساختہ اٹھ جاتی ہے۔ یہ کیا بلا ہے کے ایک تو ہنسی بھی آتی ہے۔ اور افسوس بھی ہوتا ہے۔

تعجب کی بات ہے برقعے، نقاب، کا استعمال نامحرم کی نگاہوں سے بچنے کیلے ہے کے ضرورت کے وقت اگر باہر نکلنا پڑجائے تو مکمل پردے کے ساتھ باہر جا سکے لیکن یہاں تو حالت یہ بنی ہوئی ہے کہ ذرا سا کام کیوں نہ ہو خواتین بازاروں میں جھنڈ کے جھنڈ دکھائی دیتی ہے۔

اور تہوار عیدین، کی تو پوچھو ہی مت خواتین سے ہی بازاروں کی رونق جیسے دوبالا ہوجاتی ہے۔ ان کے بغیر تو جیسے سب کچھ بے معنی ہے۔ ایک مہینہ قبل سے ہی خریداری شروع ہوجاتی ہے جو چاند رات تک جاری رہتی ہیں۔ اور چاند رات کا تو پوچھو ہی مات کیا مرد کیا خواتین، اور کیا محرم اور نا محرم اتنی بھیڑ میں نا محرموں کو مس کرتے ہوئے بلا خوف گھنٹوں شاپنگ چلتی رہتی ہے۔ اور ہزاروں نا محرموں کی ہوس بھری نگاہوں کا نشانہ بنتی ہے۔

لیکن انہیں یہ فکر نہیں ہوتی ہے کہ کیوں نہ ایک ہفتہ قبل خریداری کرلیں، بھیڑ سے بچنے کے لئے۔ پر نہیں اتنا سوچنا تو دور رہا الا ماشاء اللہ کچھ نیک بندیں ہوتے ہیں، جو اس پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن اکثر دیکھنے میں یہی ملتا ہے کہ وہ آخری رات تک شاپنگ کرتی ہے۔ کچھ خریداری کریں یا نا کریں لیکن گھومنا مقصد ہوتا ہے۔

بات چل رہی تھی برقعے کی اگر برقعے ہی ایسے رنگ برنگے، چمکیلے، جھالر لگے ہوئے، اور بڑے بڑے آستیں والے، بڑے گھیر والے، نگینے بھی لگے ہوئے، ورک سے بھر پور، لیکن فیٹنگ ایسی کی اگر کہاں جائیں کہ جسم کا نشیب و فراز عیاں ہوجاتا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ خوبصورتی دکھانے ہی ہے تو اپنے شوہر کیلے سجنا سنورنا چاہیے، یہ سب کس کو دیکھانا چہاتے ہے۔ جب برقعے کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے تو ایسے برقعے تو صرف نام کیلے پردہ ہوگا۔

سجنے سنورنے اور خوبصورت دکھنے سے اسلام میں ممانعت نہیں ہے۔ لیکن اپنے محرم کے لئے یہ سب کرنا چاہیے۔ اور ضروری بھی ہے کیونکہ اللہ خوبصورت ہے خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ اگر آپ جو بھی خوبصورت دکھنے کیلے کرتی ہیں تو وہ اپنے شوہر کیلے کریں۔ باہر یہ سب غیر محرموں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔ چاہے آپ کا ارادہ بالکل ایسا نہ ہو لیکن غیروں کی نگاہوں سے خود کو محفوظ رکھنا آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ قرآن میں سورۃ نور آیت نمبر 31 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔

( سورۃ نور 31 )

اسی طرح اس سورۃ میں اس سے قبل مرد کو بھی کہا گیا ہے۔

مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالٰی سب سے خبردار ہے۔ (سورۃ نور آیت نمبر 30 )

یہاں مرد و خواتین دونوں کو حکم دیا گیا ہے۔ اور اسی سورۃ میں ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ۔

خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں۔ ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس ( بہتان باز ) کر رہے ہیں وہ ان سے بالکل بری ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی۔ (سورۃ آیت نمبر 26 )

اس آیت میں اتنا خوبصورت پیغام دیا گیا ہے۔ مرد و خواتین دونوں کیلے خبیث عورتیں خبیث مردوں کیلے، خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے، پاک عورتیں پاک مردوں کیلے ہے۔ اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہے۔ اگر خواتین اپنے آپ کی حفاظت کرتی ہے اور خود کو غیروں کی نگاہوں سے بچاتی ہے، اور لوگوں کو اپنی اداؤں سے اور نزاکت بھرے انداز سے نہیں بہکاتی ہے۔ تو ان عورتوں کیلے پاک مرد ہے۔

اور بہکانے والیاں ہے وہ خود بھی بھٹکی ہوئی ہے اور دوسروں کو بھی بھٹکانے کا کام کرتی ہے ان کے لیے برے مرد ہے۔ اور جو بہکانے والے مرد ہے جو خود بھی بھٹکے ہوئے ہیں ان کے لئے بری عورتیں ہے۔ اور جو اچھے نیک مرد ہے ان کے نیک عورتیں ہے۔ جو اپنی حفاظت کرتی ہے۔

اس سے بات بالکل صاف ہے کہ تم جس طرح کا جو کچھ عمل کرونگے حلال طریقے پر کرونگے تو تمہیں بھی پاک دامن مرد عورت ملیں گے۔ اور اگر حرام طریقے پر کرے گے تو تمہیں بد کردار مرد خواتین ملیں گے۔

دنیا مکافات عمل ہے جو جیسا کریں گا ویسا پائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم گناہ پھیلانے والے نہ بنے کے جس سے دوسرے بھی گناہ میں ملوث ہو بلکے اپنی حفاظت کریں، خود شریعت کے مطابق پردہ کریں۔ ناکہ ایسا جو سر راہ چلنے والوں کو دعوت نظارہ دے رہا ہو۔ کیونکہ اگر خواتین ایسا برقعہ اور نقاب استعمال کرتی ہیں جس سے دیکھنے والے کی نظر بہکے تو اس میں وہ دو گناہ کی مرتکب ہوگی۔ ایک تو خود پردہ نہ کرنے کے اور دوسرے کو بھی گناہ میں ملوث کرنے کے سبب میں۔ اس لیے ایسے برقعے اور نقاب کا انتخاب کریں جو حقیقت میں پردہ ہو جس سے پردہ کا احکام مجروح نہ ہو۔ جو نہ جسم کے نشیب و فراز کو ظاہر کرتا ہو، ایسے پردے کا انتخاب کریں۔ ورنہ آپ خود بھی گناہ گار ہوگی اور اوروں کے گناہوں کا بھی بوجھ آپ کے سر پر ہوگا۔

جس کسی کو اگر میری باتیں ناگوار گزرے تو ان سے معزرت خواہ ہوں۔ اور جو خواتین یہ کہتی ہے کہ مردوں نے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنی چاہیے تو ان کی بات بھی صحیح ہے۔ مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ضروری ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں۔ کیونکہ نگاہیں شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ لیکن ایک بات یہ بھی کہ سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ تو کیا پھر جو بے حیا ہے۔ انہیں زبردستی نگاہیں جھکانے کیلے مجبور تو نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پھر ایسی حالت میں جو خواتین یہ کہے کہ تم اپنے آپ کو سدھارو، اپنی سوچ بدلو، تو میں کہتا ہوں اگر ان کے اندر اتنی صلاحیتیں ہے تو وہ اپنے گھر کے مردوں پر پہلے محنت کریں اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اپنی سوچ بدلے۔ کیونکہ اگر گھر کے مرد ہی خواتین کو بے پردگی پر نہیں ٹونکتے ہے تو اس کا مطلب ہے وہ اسی ذہنیت کہ ہے جیسے ان کی خواتین ہے۔ اور ایسے مردوں کو دیوس کہا گیا ہے جو اپنے عورتوں کی خبر گیری نہیں کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •