کیا خواجہ سرا ایک باعزت زندگی گزار سکتے ہیں؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

ہمارے معاشرے میں اگر کسی گھر میں مخنث بچہ پیدا ہو جائے تو پھر وہ گھرانہ ایسی اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کو ابھی حال ہی میں لینا حاشر صاحبہ  نے اپنی تحریر میں بخوبی بیان کیا ہے۔ وہ اسے رکھنے کو بھی تیار نہیں ہوتے ہیں، اور جینے بھی نہیں دیتے ہیں۔ پھر صدیوں سے اس معاشرے میں چلتا ہوا اس معاملے کا حل خود چل کر اس گھر کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ گھر والے چپ چاپ اپنا مخنث بچہ خواجہ سراؤں کے گرو کے حوالے کر دیتے ہیں۔ باقی زندگی اس بچے کے پاس ایک ہی راستہ کھلا چھوڑتی ہے۔ وہ جسم فروش اور ناچنے گانے والی طوائف بن کر ہی زندگی گزار سکتا ہے۔ باعزت زندگی گزارنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

اگر وہ جسم فروشی سے انکار کرے تو اس کا وہی حشر ہو سکتا ہے جو مئی 2016 میں پشاور میں علیشا نامی خواجہ سرا کا ہوا تھا، جس کو جسم فروشی سے انکار کرنے پر ایک شخص نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس معاملے کا المناک ترین پہلو یہ تھا کہ پشاور کے ہسپتال اسے طبی امداد دینے کی بجائے اسے باہر گیلری میں ڈال کر یہی بحث کرتے رہے تھے کہ اسے زنانہ وارڈ میں رکھا جائے یا مردانہ میں اور اس حالت میں بھی اس کے ساتھ آنے والے خواجہ سراؤں پر رکیک جملے بازی کی جاتی رہی۔ ابھی چند ہفتے پہلے ہی ایسا ایک دوسرا واقعہ ہوا ہے جس میں ہسپتال ابھی تک یہی کنفیوژن دکھاتے نظر آئے ہیں۔

مگر اب خواجہ سراؤں کے لیے حالات کچھ کچھ تبدیل ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سالوں میں خواجہ سراؤں کو حقوق دلانے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں، اور ان فیصلوں کا اثر کم از کم ایک جگہ دکھائی دے رہا ہے۔ اور وہ جگہ ہے ایک وفاقی سرکاری ادارہ، نیشنل کالج آف آرٹس، راولپنڈی۔

\"veena-khan-2\"

گزشتہ سال کالج کے ایک ایم فل کے طالب علم عثمان مغل خواجہ سراؤں کے لیے ملازمت کے امکانات پر اپنا تھیسس کر رہے تھے۔ کالج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم عمر تارڑ اور عثمان مغل کے سپروائزر ڈاکٹر ابوبکر کے درمیان بات چیت ہوئی کہ خواجہ سراؤں کو ملازمت کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ ان کو جسم فروشی کے علاوہ روزگار کے مواقع ملیں۔ کالج میں اس وقت ایک ایڈمنسٹریٹو اسسٹنٹ کی جگہ خالی تھی۔ ایک پڑھے لکھے خواجہ سرا کی تلاش ہوئی، اور یوں وینا خان کو کالج میں ملازمت دے دی گئی۔

ڈاکٹر تارڑ کہتے ہیں کہ ان کو یہ بڑا فیصلہ کرنے کی ہمت اس لیے ہوئی کہ سپریم کورٹ نے اس کے لیے راہ ہموار کر دی تھی۔ سنہ 2012 میں سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا کہ اگر کسی ملازمت کی اہلیت بی اے کی ڈگری ہو، تو ایک میٹرک پاس خواجہ سرا کو اس ملازمت کے لیے موزوں سمجھا جائے، اور سیلیکشن کمیٹی اسے ملازمت کے لیے ترجیح دینے کی پابند ہو گی۔ ڈاکٹر تارڑ کا کہنا ہے کہ عدلیہ نے خواجہ سراؤں کو باعزت روزگار دینے کے عمل میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے، اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسا لائحہ عمل تشکیل دے جس سے خواجہ سراؤں کو ملازمت دی جا سکے۔

وینا کہتی ہیں کہ وہ پہلے محفلوں میں رقص کر کے اپنا پیٹ پالتی تھیں۔ لیکن اب وہ رقص کو ترک کرنے کے بارے سوچ رہی ہیں کیونکہ اس میں اس پر جو فقرے کسے جاتے ہیں وہ ان کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔ نیشنل کالج آف آرٹس کی ملازمت میں انہیں کہیں کم آمدنی ہوتی ہے، مگر وہ اس باعزت روزگار سے بہت خوش اور مطمئن ہیں جہاں انہیں بھرپور عزت اور احترام دیا جاتا ہے۔ وینا نے بتایا کہ اب ان کو کئی دوسرے اداروں کی طرف سے ملازمت کی پیشکشیں بھی ہو رہی ہیں مگر نیشنل کالج کا ماحول ان کو جو عزت دیتا ہے، وہ اس سے خوش ہیں۔ وینا نے بتایا کہ ان کے گرو کی طرف سے ان کو مکمل آزادی دی گئی تھی کہ وہ جو روزگار چاہیں اسے اختیار کریں۔

\"bubbly-malik\"

وینا کے گرو کی بات ہو رہی ہے، تو پھر این سی اے کے ایک دوسرے بڑے قدم کی طرف جاتے ہیں۔ پچھلے سال ہی این سی اے کی کالج کینٹین کا ٹھیکہ ختم ہوا تو ڈاکٹر تارڑ نے سوچا کہ خواجہ سراؤں کی حالت بہتر بنانے کے لیے اسے ایک ایسے مخنث فرد کے حوالے کیا جائے جو کہ کیٹرنگ کا تجربہ رکھتا ہے۔ یہ فرد تھا ببلی ملک، خواجہ سراؤں کا گرو۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور نے ڈاکٹر تارڑ کے فیصلے کی توثیق کی اور یوں این سی اے راولپنڈی کی کینٹین کا ٹھیکہ خواجہ سراؤں کو دے دیا گیا۔

یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایسے سوال بھی اٹھائے گئے تھے کہ کیا طلبا خواجہ سراؤں کو اپنے درمیان قبول کریں گے؟ کیا ان کو ویسے تو ہراساں نہیں کیا جائے گا جیسے معاشرے میں کیا جاتا ہے؟

ابتدائی طور پر طلبا اور اساتذہ اپنی کینٹین میں خواجہ سراؤں کو دیکھ کر شدید بے چینی کا شکار ہوئے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ ہمارے معاشرے کے افراد ہونے کی وجہ سے خواجہ سراؤں کے متعلق کچھ تعصب اور تاثرات رکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ خواجہ سراؤں کو مخاطب کیسے کیا جائے۔

\"شرمیلی\"

ایک طالبہ کہتی ہیں کہ میں نے خود کو یہ سوچ کر مطمئن کیا کہ یہ بے چینی اس وجہ سے نہیں تھی کہ وہ کوئی برے لوگ ہیں، بلکہ اس نظر کی وجہ سے تھی جس سے میں ان کو دیکھتی تھی۔

کینٹین میں کھانا پکانے پر مامور شرمیلی کہتی ہیں کہ اب وہ اتنا خوش کر دینے والے ماحول کے بعد کسی اور جگہ کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ہیں۔

آہستہ آہستہ طلبا اور سٹاف کا یہ اوپرا پن ختم ہوا، اور اب کینٹین میں کام کرنے والے گرو ببلی ملک کو طلبا آنٹی یا باجی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ وہ کالج میں بہت مقبول شخصیت ہیں اور نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

ببلی ملک بتاتی ہیں کہ ان کا بنیادی مقصد ان کو گرو ماننے والے 46 افراد کو ایک باعزت ذریعہ آمدنی فراہم کرنا ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے ”وجود“ نامی ایک رفاہی ادارہ بھی چلاتی ہیں اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ آمدنی کے لیے مختلف دعوتوں میں کیٹرنگ کا بندوبست کرتی ہیں۔

\"nadeem-omar-tarar\"

ڈاکٹر ندیم عمر تارڑ کہتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کو چھوٹے کاروبار شروع کروانے میں مدد دینے کی بجائے، ان کو تحفظ آمیز ماحول میں ملازمیں دی جانی چاہئیں جہاں وہ آرام سے سیٹل ہو سکیں۔ اور سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بارے میں ایک واضح لائحہ عمل دیتا ہے۔

کیا حکومت کا یہ فرض نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق خواجہ سراؤں کو ایک باعزت روزگار دینے کے لیے آگے بڑھ کر کوشش کرے، اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا ایک بڑا پراجیکٹ بھی لانچ کرے جو کہ خواجہ سراؤں کے گرو کی بجائے مخنث بچوں کے گھروں پر دستک دے تاکہ بقیہ زندگی وہ اس جرم کی سزا مت کاٹیں جو کہ انہوں نے کیا ہی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “کیا خواجہ سرا ایک باعزت زندگی گزار سکتے ہیں؟

  • 19/09/2016 at 4:40 شام
    Permalink

    bht alla waqi o insaan hain our an insaan ki hayseyyat say treat ki jani chahye baqi in may be potentialhogeee ki okr saky

  • 24/09/2016 at 11:31 شام
    Permalink

    It is a nice decision to accommodate she boys in the society.They deserved the same rights as the other people of the society unless there has been any special amendment in the constitution of Pakistan. However,I had the proposal for this community that has been now recognized by the recent decision of the Dr. Tarar but the community of the she boys still need some sort of education and awareness that may help them achieve access to justice as the equal gender with equal rights and respect in the society.The detailed proposal can be sent if needed.

Comments are closed.