فردوس جمال بمقابلہ ماہرہ خان: پاکستان میں خواتین کی عمر آخر اتنا بڑا ’مسئلہ‘ کیوں ہے؟

ثنا آصف & عرفانہ یاسر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار فردوس جمال نے چند روز قبل ایک ٹی وی شو کے دوران اداکارہ ماہرہ خان کے بارے میں کہا کہ ماہرہ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے انھیں اب ہیروئین کے نہیں بلکہ ماں کے کردار ادا کرنے چاہیے۔

فردوس جمال کے اس بیان نے پاکستان کی شوبز انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا اور بہت سے لوگوں نے فردوس جمال کے اس بیان کی شدید مذمت کی۔

پاکستانی فلم ساز مومنہ درید جن کی نئی فلم ’سپر سٹار‘ میں ماہرہ خان مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، نے تو مستقبل میں فردوس جمال کے ساتھ کام کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر مومنہ کو بھی برا بھلا کہا جا رہا ہے۔

اسی معاملے پر ماڈل نادیہ حسین نے بھی ٹویٹ کی کہ عمر کا مسئلہ صرف خواتین اداکاروں کے ساتھ ہی کیوں ہے؟

انھوں نے لکھا کہ جب 30 سال سے زائد عمر کا مرد ہیرو کا کردار ادا کرتا ہے تو اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔ وہ آخر باپ کا کردار کیوں ادا نہیں کرتا؟ یہ دوہرے معیار ہیں۔

تاہم ماہرہ خان نے فردوس جمال کی اس تنقید کا انتہائی دھیمے انداز میں جواب دیا۔

اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کسی کو مخاطب کیے بغیر انھوں نے لکھا: ’یہ دنیا نفرت سے بھرپور ہے لیکن ہمیں محبت کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ہمیں لوگوں کی رائے کو برداشت کرنا چاہیے۔ ہماری جنگ اس مخصوص سوچ کے خلاف ہونی چاہیے جو یہ سمجھتے ہیں کہ کامیاب عورت ایک ڈراؤنی سوچ ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ وہ اُن سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو ان سے پوچھے بغیر ان کی حمایت میں باہر آئے۔

ڈاکٹر اعجاز وارث نے ماہرہ خان کے حق میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: کسی کے کچھ کہنے سے سپر سٹارز کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ماہرہ خان آپ ایک سپر سٹار ہیں جو راج کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہیں۔‘

https://twitter.com/drejazwaris/status/1155791288903655431

مسالہ میگزین کی ڈیجیٹل ایڈیٹر مہوش اعجاز نے لکھا کہ انڈسٹری کے اندر سے ماہرہ خان پر تنقید دیکھ کر انھیں بہت افسوس ہو رہا ہے جبکہ ان سب کو پتہ ہے کہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے۔

https://twitter.com/mahwashajaz_/status/1157144152934510592

خواتین کی عمر آخر اتنا بڑا ‘مسئلہ’ کیوں ہے؟

خواتین کی عمر کے بارے میں پائے جانے والے دقیانوسی خیالات پر بی بی سی نے مخلتف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ خواتین کو آخر ان کی عمر کا طعنہ دے کر تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے اور اس سوچ کو آخر کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

ماڈل نادیہ حسین کے مطابق بہت چھوٹی عمر سے ہی خواتین کو ان کی عمر کی بنیاد پر طعنہ زنی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

’اگر کوئی عورت اچھی دکھتی ہے، بہت سی چیزیں کرتی ہیں، کامیاب ہوتی ہے تو اس پر غیر ضروری قسم کی تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے کہ یہ تو بڈھی ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’اگر خواتین 40 یا 50 سال کی عمر میں بھی اچھی لگ رہی ہوں، اچھا محسوس کر رہی ہوں، اور اگر وہ اس قابل ہیں کہ کامیابیاں سمیٹ سکتی ہیں تو عمر کی بات تو ہونی ہی نہیں چاہیے۔‘

سماجی کارکن صباہت ذکریا کہتی ہیں کہ انھیں اکثر سوشل میڈیا پر ان کی عمر کے بارے میں طعنے دیے جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’آنٹی‘ اور ’نانی‘ جیسے الفاظ کو عورت کی ہتک اور انھیں چپ کرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ عورت کو یہ احساس دلایا جائے کہ نہ تو وہ پرکشش ہے اور نہ ہی کسی کو اس کی خواہش ہے۔

اسی معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرکٹ تجزییہ کار عالیہ رشید نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عمر کو عورت سے جوڑ دیا گیا ہے۔

’سمجھا جاتا ہے کہ اگر عورت 30 سال کی ہوئی تو بس ختم ہو گئی اس کے اندر اب کیا رہ گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو انسان نہیں بلکہ ایک چیز کے طور پر لیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص عمر تک ہی کوئی کام کر سکتی ہے۔

عالیہ نے بتایا کہ وہ کرکٹ کے کھیل میں کافی زیادہ تجربہ رکھتی ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ان کی عمر کی وجہ سے ان کو کوئی پروگرام نہیں دیا جاتا جبکہ ان کے ہم عمر مردوں کو ٹی وی شوز دے دیے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عورت عمر رسیدہ نظر آئے تو نہ تو اس کے ذہن کو تسلیم کیا جاتا اور نہ اسکی محنت کو شمار کیا جاتا بلکہ صرف چہرے اور عمر کو دیکھا جاتا ہے خواہ آپ کو کچھ آتا ہو یا نہ آتا ہو۔

اس سوچ کو کیسے تبدیل کیا جائے؟

عالیہ کے مطابق ہمارے معاشرے میں خواتین کی عمر کو لے کر پائے جانے والی دقیانوسی سوچ کو مرد ہی تبدیل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مردوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ انھوں نے عورت کو عورت سمجھنا ہے یا اسکی عمر کو بنیاد بنا کر اسے رد کر دینا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بدقمستی سے ہمارے معاشرے میں عورت کو ایک خاص عمر تک ہی کارگر اور کارآمد سمجھا جاتا ہے۔

عالیہ نے کہا کہ خواتین کو ’انٹرٹینمنٹ‘ سے مشروط کر دیا گیا ہے کہ وہ آپ کی تفریح کا زریعہ ہے۔

’مجھے اس بات پر شدید افسوس ہوتا ہے کہ کوئی عورت کے دل سے ہم بستری نہیں چاہتا، کوئی اس کے ذہن کو نہیں پڑھنا چاہتا، کوئی یہ نہیں سمجھنا چاھتا کہ وہ کیا سوچتی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10197 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp