سائنس کی دنیا پچاس برسوں میں خواتین کے لیے کیسے بدلی؟

ہیلن برگز - بی بی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کے چاند پر قدم رکھنے کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون انجینیئرنے رواں ہفتے بتایا کہ کیسے کنٹرول روم سے انھیں بتایا گیا تھا کہ عورتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

گذشتہ نصف صدی میں چیزیں بہت حد تک بدل گئی ہیں لیکن اتنی تیزی سے نہیں بدلیں جس کی امید کی جا رہی تھی۔ بی بی سی نیوز نے پانچ ایسی سائنسدانوں سے بات کی جنھوں نے مختلف ادوار میں کام کیا اور اپنے شعبوں میں حائل رکاوٹوں کو عبور کیا۔

ہر کوئی جانتا تھا کہ لڑکیاں صرف شادی کریں گی اور انھیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بستر کیسے تیار کرنے ہیں: جوسیلن بیل برنیل

پروفیسر جوسیلن بیل برنیل

پروفیسر جوسیلن بیل برنیل پچاس سال قبل پہلے مقناطیسی نیوٹران کی دریافت کے لیے مشہور ہیں۔ وہ زندگی بھر خواتین کی سائنس کے شعبے میں رہنمائی بھی کرتی رہی ہیں۔

شمالی آئرلینڈ میں انیس سو پچاس کی دہائی میں جب تک انھوں نے والدین سے اس پر احتجاج نہیں کیا، انھیں دوسری لڑکیوں کی طرح سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس دور کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘لڑکوں کو سائنس کی لیبارٹری میں بھجوایا جاتا تھا اور لڑکیوں کو گھریلو سائنسی کمرے میں، کیونکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ لڑکیاں صرف شادی کریں گی اور انھیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بستر کیسے تیار کرنے ہیں۔’

اس وقت وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلکی طبعیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ خواتین سائنس دانوں کے اس گروپ سے تعلق رکھتی ہیں جس نے دیگر خواتین کے سائنس میں آگے بڑھنے میں مدد اور رہنمائی کی۔

ایتھنا سوان سکیم میں یونیورسٹیوں اور کالجوں میں صنفی مساوات پر ہی بات کی جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ عمل آہستگی سے شروع ہوا اور جب تک کچھ امدادی اداروں نے اس رجحان کا نوٹس لیا، اس سوچ نے لوگوں کے ذہنوں پر غلط اثرات مرتب کیے۔’

ان کا کہنا ہے کہ سائنس میں صنفی تقسیم خواتین کی دماغی صلاحیت کے بجائے ثقافتی سطح پر ہے۔ اور بہت سے ممالک میں اس سے بھی بالا ہے۔ جنوبی یورپ کے ممالک مثلاً فرانس، اٹلی اور سپین فلکی طبیعات میں شمالی یورپ کے ملکوں، جرمنی اور ہالینڈ سے بہت آگے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام ممالک میں خواتین کا تناسب بڑھ رہا ہے لیکن ہر ملک میں ایسا مختلف انداز میں ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ترقی کا عمل سست ہے اور چیزیں آہستہ آہستہ بدل رہی ہیں۔

سائنس کے میدان میں موجود خواتین کو اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’ڈریں نہیں، محنت کریں اور ہاں ہمت کریں۔‘

لوگ اکثر خواتین کے لیے ایک یکساں انداز اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ کسی خاص صورتحال میں وہ پر اعتماد ہوں اور ایک مخصوص انداز میں ردعمل ظاہر کریں: نکولا بیئر

ڈاکٹر نکولا بیئر: ریسرچ میں رہبر

نکولا بیئر کی اوائل عمری میں ہی سائنس میں دلچسپی ہو گئی تھی۔ ان کی یاداشت میں اپنے استاد کی جانب آواز کی لہروں کے بارے میں دکھایا جانے والا عملی مظاہرہ اب بھی محفوظ ہے، جس میں انھوں نے کاغذ سے بنی پلیٹ کو چاولوں سے بھرا تھا۔

وہ اپنے خاندان کی پہلی لڑکی تھیں جو یونیورسٹی گئیں۔ ریسرچ ٹیم کی سربراہی سے پہلے انھوں نے برسٹل یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، پھر آکسفورڈ سے پی ایچ ڈی کی اور ایم آئی ٹی اور ہاورڈ سے فُل برائٹ سکالر شپ حاصل کیا۔

نورڈک ریسرچ سینٹر آکسفورڈ میں ڈیپارٹمنٹ فار ڈسکوری بائیولوجی اینڈ فارمیسی کی سینئر سربراہ کی حیثیت سے وہ سائنس دان ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کی سربراہ بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس میں سٹریٹیجک فیصلے لیے جاتے ہیں لوگوں کے خیالات کو بہتر کرنے میں مدد کی جاتی ہے اور انھیں ان کے کریئر میں مدد کی جاتی ہیں۔‘

نکولا بیئر کے بقول ’قائدانہ کردار میں خواتین کی تعداد کم ہے اور خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں،رہبر کے طور پر، انھیں علم دیں اور ان کے لیے راستے کھولنے میں فیاضی کا مظاہرہ کریں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال سے یہ ہمیں ہر سطح پر کرنا چاہیے، چاہے خواتین ہوں یا نوجوان یا اپنے کرئیر کی دوسری سطح پر موجود لوگ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم راستہ نکالیں، بجائے اس کے کہ ہماری پوزیشن کس چیز سے مضبوط ہو گی۔‘

ایک خاتون رہنما کی حیثیت سے انھوں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ لوگ اکثر خواتین کے لیے ایک یکساں انداز اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ کسی خاص صورتحال میں وہ پر اعتماد ہوں اور ایک مخصوص انداز میں ردعمل ظاہر کریں۔`

’میرا خیال ہے کہ ہمیں خواتین کو اچھا لیڈر بننے کے لیے ترغیب دینے میں اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے، بجائے اس کے کہ ہم دقیانوسی انداز پر چلیں۔

اس سے ان کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں پہلے سے یہ طے کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے کہ ہم کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں خواتین کی ترقی میں گلاس سیلنگ یا شیشے کی چھتوں کو اور دیواروں کو توڑنے کے لیے پرجوش ہوں۔ میں واقعی سوچتی ہوں کہ ہمیں بند راستوں کو کھولنے کی ضرورت ہے جو ہمارے اور عصبیت پسندی کے درمیان حائل ہیں۔‘

مجھے آگے یہ حقیقت بڑھاتی ہے کہ کسی کو نیا راستہ بنانا ہے۔ کسی کو چلنا شروع کرنا ہوگا تاکہ کسی دوسرے کے لیے راہ بنے: گلیڈیز نیٹچ

موجد: گلیڈیز نیٹچ

گلیڈیز کو جب ایک بار میٹنگ کے دوران کہا گیا کہ آپ انجینئیر تو نہیں لگتی تو گھر جا کر بھی وہ اس بات پر حیران ہی رہیں کہ انجینئیر کو کیسا لگنا چاہیے۔

وہ مکینیکل انجینئرنگ پڑھ رہی تھیں اور وہ دقیانوسی خیالات کے خلاف لڑتی تھیں۔ وہ کینیا میں مکینیکل انجینئرنگ کی کلاس میں 80 سٹوڈنٹس میں موجود صرف آٹھ خواتین میں شامل تھیں۔

اپنے پہلے سال کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ بہت سے لڑکے سمجھتے تھے کہ وہ یہ نہیں کر پائیں گی لیکن انھوں نے فرسٹ کلاس میں ڈگری حاصل کی۔

وہ اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی سے ائیرو سپیس میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں شمٹ سائنس فیلو شپ میں کامیابی حاصل کی ہے وہ خلائی سائنس و ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنے جا رہی ہیں۔ وہ نئی نسل کے انجینئیرز کی مدد کرنا چاہتی ہیں اور وہ پروفیسر بیل برنل جیسی خواتین سے متاثر ہیں۔

’مجھے یہ بات آگے بڑھاتی ہے کہ کسی کو نیا راستہ بنانا ہے۔ کسی کو چلنا شروع کرنا ہوگا تا کہ کسی دوسرے کے لیے راہ بنے۔‘

وہ کہتی ہیں ’مجھے امید ہے کہ آگے آنے والی خواتین کے لیے امتحان ہوں گے، لیکن انھیں خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

ایک سائنس دان کے طور پر آج یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ لیبارٹری سے باہر قدم نکال سکیں اور بات چیت کر سکیں کہ کام کیوں اہم ہے: میگن ویلر

رکاوٹوں کو ہٹایا: ڈاکٹر میگن ویلر

آپ دنیا کو درپیش بڑے چیلینجز کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں؟ سائنس کے پاس اس کے حل ہیں لیکن وہ تب ملتے ہیں جب آپ مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھیں۔

یہ ڈاکٹر میگن کا نظریہ ہے۔ وہ ایک فیلو پروگرام میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا مشن مستقبل کے سائنسی لیڈروں کی تربیت کرنا ہے۔ انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے نیوورو سائنس میں ڈاکٹریٹ کی اور کلینیکل سائیکالوجی میں امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر ویلر کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں ایسے سائنس دان کم ہیں جو کہ وسیع تجربہ رکھتے ہوں، سوائے ان کے جو ان رکاوٹوں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک سائنس دان کے طور پر آج خواتین میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ لیبارٹری سے باہر قدم نکال سکیں اور بات چیت کر سکیں۔

’اس کے لیے وسیع مہارت کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور فنڈ مہیا کرنے والے اداروں سے اور پالیسی سازوں سے رابطے بنانے کے لیے مہارت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے سائنس دانوں سے بھی تا کہ ان مسائل کا حل بھی تلاش کیا جا سکے جو آپ اکیلے حل نہیں کر سکتے۔‘

ایلینا نوو نارڈسک سائنس ریسرچ سینٹر میں ایجادات اور علاج کے لیے نئے طریقوں پر کام کر رہی ہیں

ابھرتا ہوا ستارہ: ایلینا اینو جوہانہ پورسٹی

ایلینا ایک ڈاکٹر اور طبیعات کے ایک استاد کی بیٹی ہیں۔ وہ فن لینڈ کے ایک گھرانے میں پلی بڑھیں جہاں سائنس پر بات کرنا عام تھا۔ جب بھی بجلی کڑکتی، ان کے والد انھیں اس کی سائنسی وجوہات سے آگاہ کرتے جبکہ ان کی والدہ انسانی جسم کے بارے میں انھیں بتاتی تھیں۔

ایک بچے کی حیثیت سے ان میں اپنا کام کرنے کا جذبہ تھا جو کہ ساحل سمندر پر ان کی بنائی دوائیوں کی دکان سے نظر آیا۔ سکول میں انھوں نے حیاتیات کا ایک کورس کیا جس میں جنیاتی تبدیلیوں کے بارے میں پڑھا، اور یہی ان کے مستقبل کا کرئیر بھی بنا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ بہت شاندار تجربہ تھا کہ آپ ڈی این اے کو نکال کر لیبارٹری میں کام کر سکتے ہیں اور میں نے سوچا یہ بہت زبردست شعبہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے سائنس بہت مسحور کن ہے اور میں ہمیشہ چیزوں کو سمجھنا پسند کرتی ہوں۔‘

اب ایلینا نوو نارڈسک ریسرچ سینٹر میں میں ایجادات اور علاج کے لیے نئے طریقوں پر کام کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ فن لینڈ میں سکول میں ہر ایک سے برابری کی سطح پر برتاؤ ہوتا تھا اور یہ خواتین کی سائنس میں نمائندگی کے لیے بہت ضروری ہے۔

’سائنس میں خواتین کی پوزیشن کو بڑھانے کے لیے میرے خیال سے ہمیں جلد کام شروع کرنا چاہیے۔ ‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9870 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp