استانی جی کی ڈائری۔ ہاسٹل میں پہلا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ایچ ڈی میں داخلے کے بعد رہائش کا مرحلہ درپیش تھا لہذا ہاسٹل ہی مناسب آپشن لگا۔ کلاسز شروع ہوتے ہی سامان باندھا۔ زاد راہ کے طور پر اپنے پیاروں کی چند تصویریں، تارڑ صاحب کا ایک سفر نامہ اور دیگر کتب ساتھ رکھیں اور ضرورت کے سامان کے ساتھ گرلز ہاسٹل لینڈ کیا جو کہ جامعہ کے اندر ہی واقع تھا۔ سمسڑ کا پہلا ہفتہ تھا۔ کام اور دیگر مصروفیات کے درمیان ہی پڑھائی کو بھی مینج کرنا تھا لہذا موٹیویشن لیول کافی ہائی تھا کہ ہاسٹل میں جاتے ہی بستر بچھا کر اپنی کرسی اور میز پر کتابیں رکھ کر پڑھنا شروع کر دینا ہے۔

جی ہاں! اتنا ہی ولولہ تھا۔ لہذا خوشی خوشی ہاسٹل پہنچے۔ داخلہ کے بعد اسسٹنٹ وارڈن سے ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں انھوں نے بتایاتھا کہ ایک بیڈ، الماری اور کرسی میز ہاسٹل انتظامیہ مہیا کرتی ہے لہذا طالبات اپنے فوم کے میٹریس، چادر تکیے اور دیگر استعمال کی اشیاء اپنے ساتھ لے کر آئیں۔ اب یہ اشیاء تو ہمارے ساتھ تھیں اور میز پر رکھنے کے لیے فوٹو تک بھی ہم لے آئے تھے لیکن جب کمرے تک رسائی ہوئی تو خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا۔

میز کرسی تو آسائیشوں میں شمار ہوتی وہاں تو چارپائی تک میسر نہ تھی۔ بڑی پریشانی ہوئی کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ شکر ہے کہ ہاسٹل صاف ستھرا اور نیا بنا ہوا تھا۔ کریدنے پر معلوم ہوا کہ کیوں کہ یہ ہاسٹل نیا بنا ہے لہذا ابھی سرکاری طور پر اس کا فرنیچر وغیرہ نہیں آیا۔ اور تین چار مہینے سے پہلے آنے کا چانس بھی نہیں۔ ہوسٹل سٹاف سے پوچھا کہ اگر سامان وغیرہ نہیں ہے تو ہوسٹل میں کمرے کیوں الاٹ کر دیے ہیں اور یہ کہ پھر ہم سوئیں گے کیسے تو انہوں نے ہمیں اتنے بیوقوفانہ سوالات پوچھنے پر کافی غصے سے دیکھا اورغیر ضروری سوالات کو اگنور کرتے ہوئے آرام سے جواب دیا کہ اپنا میٹریس فرش پر بچھا کے سو جاؤ۔

خیر ہوسٹل میں پہلی رات کافی یادگار تھی۔ فرشی شاہی بستر، کالے چنوں کا نہایت پتلے شوربے والا سالن اور انٹرنیٹ کنیکشن کی عدم دستیابی۔ مزید ستم مچھروں نے ڈھا دیا۔ ایک دفعہ تو ایسا لگا کہ پی ایچ ڈی کرنے نہیں کالے پانی کی سزا کاٹنے آگئے ہیں۔ پھر غصہ آیا کہ کس احمق نے کہا تھا کہ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے گھر اور شہر سے دور ہاسٹل میں خوار ہو تو خیال آیا اور کہ وہ احمق تو میں خود ہی تھی۔ آخر میں۔

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا ہی سمجھ لیجیے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •