اسلام اور سیکولرازم: ایک تلخ حقیقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر حقیقت یہی ہے مسلمانوں کا یہ ارادہ بھی ہے اور اسے اپنا دینی فریضہ بھی سمجھتے ہیں کہ اسلام کو پوری دنیا پر غالب آنا ہے اور اسلام کے غلبے کے لئے ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی۔ مذہبی جماعتوں کا ایک گروہ اس غلبے کی تعبیر محض تبلیغ سے کرتا ہے۔ ان کی نظر میں اسلام کو پوری دنیا پر غالب لانے کا سب سے اعلی اور بہترین ذریعہ تبلیغ ہے جو اس دور کی بہت بڑی ضرورت بھی ہے۔ ان کے فلسفہ کے مطابق موجودہ دور میں اسلام کو پوری دنیا پر غالب لانے کا واحد ذریعہ تبلیغ ہے۔

دوسرے گروہ کے نزدیک تبلیغ اگرچہ اسلام میں بہت ضروری ہے مگر جہاد ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے اسلام پوری دنیا پر غالب آسکتا ہے۔ ان کے فلسفہ کے مطابق جب تک دنیا کی بڑی طاقتوں کو زیر نہیں کیا جاتا تب تک وہ اسلام کو کبھی بھی دنیا پر غالب نہیں آنے دینگی۔ انہیں جہاد کے ذریعے زیر کرکے پھر عوام الناس کو تبلیغ کی جائے۔ محض تبلیغ سے یہ کام نہیں ہوتا۔

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں جس طرح مسلمانوں کی اولین ذمہ داریوں میں ایک ذمہ داری اسلام کو غالب لانا ہے چاہے وہ تبلیغ سے ہو یا تلوار سے اسی طرح دنیا میں دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی بالکل یہی سوچتے ہیں۔ جیسے عیسائیوں کے نزدیک سب سے افضل دین عیسائیت ہے جو دنیا کا سب سے بڑا دین ہے۔ عیسائیوں کے عقائد کے مطابق جب حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول ہوگا تو پوری دنیا میں عیسائیت چھا جائے گی۔ ایسے یہودی اور ہندو بھی سوچتے ہیں کہ ہمارا مذہب سب سے بہتر مذہب ہے اور ہم نے ہی دنیا پر غالب آنا ہے۔ دھریت و ملحدیت اگرچہ خدا کے ماننے والے نہیں ہیں نہ ہی ان کا کوئی خاص مذہب ہے مگر ان کا جو نظریہ ہے وہی ان کے نزدیک سب کچھ ہے۔ ملحدین بھی یہی چاہتے ہیں دنیا میں تمام مذاہب ختم ہوجائیں کوئی کسی خدا کا ماننے والا نہ ہو۔ ہر کوئی ہر اعتبار سے آزاد ہونا چاہیے اور وہ اسی نظریہ کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔

جب سب کی یہی سوچ ہے اب ہو کیا رہا ہے۔ ہم مسلمان بالخصوص پاکستانی یہی چاہتے ہیں بھارت والے سیکولر ہوں تاکہ مسلمانوں پر ظلم و جبر نہ ہوسکے۔ بھارت میں جب جب مسلمانوں پر ظلم و جبر ہوتا ہے ہم دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بھارت سیکولر ملک نہیں وہ انتہائی متشدد مذہبی عقائد رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آئے دن بھارتی مسلمان ہندوؤں کے ظلم و جبر کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ یہی صورتحال چین، برما اور دیگر کئی ممالک میں ہے جہاں مسلمانوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

جب دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم و جبر ہوتا ہے تو ہم فورا سیکولرازم والا مطالبہ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اپنے مذاہب کی آزادی نہیں ہے۔ جبکہ پاکستان میں اگرچہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے مگر عیسائی ہوں یا ہندو اگر وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کسی مسلمان کو کرنا چاہیں تو شاید اس کا سر تن سے جدا ہوجائے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور مسلمان اکثریت والا ملک ہونے کے ناتے ہمیں یہ برداشت بھی نہیں ہوگا کہ کسی اقلیتی برادری کا فرد اٹھ کر اکثریت کے کسی فرد کو اپنے دین کی دعوت دے۔

اب جو نقطہ بیان کرنے لگا ہوں وہ انتہائی قابل غور ہے۔ فرض کرتے ہیں پوری دنیا میں ایک قانون بنایا جاتا ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے مذہب کی تبلیغ کھلم کھلا کرنے کی اجازت ہوگی اور کوئی کسی کو مذہب تبدیل کرنے کی بنیاد پر نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مثال کے طور پر جیسے پاکستان میں کوئی اقلیتی برادری کا فرد اسلام قبول کرلے تو مسلمان اس نئے مسلمان کا پوری طرح تحفظ کرتے ہیں۔ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان اگر کسی غیرمسلم اکثریت والے ملک میں یا پھر پاکستان میں ہی اللہ نہ کرے اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اپناتا ہے اور جس دین کو وہ اختیار کرتا ہے اس کے لوگ بھی یہی دلیل دیتے ہیں کہ جیسے آپ لوگ اپنے نئے مسلمان کا تحفظ کرتے ہیں ہمیں بھی یہی حق دیا جائے ہم بھی اسے اتنا ہی تحفظ فراہم کریں۔ یقینا یہ اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی کیونکہ وہ مرتد ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے ارتداد سے نہ لوٹا تو اس کی سزا سر قلم کیا جائے گا۔

مسئلہ سمجھنا ذرا مشکل ہے کوشش کریں شاید بات سمجھ آجائے۔ مطلب ہم مسلمان اپنے مسلمانوں کے تحفظ کے لئے دنیا میں سیکولرازم کو ڈھال بناتے ہیں تاکہ مسلمانوں کا تحفظ ہوسکے۔ اور اسی سیکولرازم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے ملکوں میں اپنے دین کی تبلیغ کررہے ہیں، غیرمسلمین کو اپنے دین میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر جب اپنے ملک کی باری آتی ہے تو ہم اپنے دین اسلام کی بات کرتے ہیں۔

اب دو ہی صورتیں ہیں: پہلی صورت تبلیغ والی تو پھر دیگر مذاہب کے لوگ بھی یہی مطالبہ کرسکتے ہیں جو ہم مسلمان کرتے ہیں۔ اور اگر تبلیغ والی صورت کی اجازت نہیں ہوتی تو دوسری وجہ تلوار سے اپنے اپنے ادیان کو دنیا پر غالب لانا ہوگا۔ ہم نے بحیثیت مسلمان آج کیا طریقہ اپنایا ہوا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمان اپنے دین کے معاملے میں دو رائے رکھتے ہیں۔ ایک گروہ محض تبلیغ کا قائل ہے تو دوسرا گروہ جہاد کا بھی قائل ہے۔ ہم جیسے جہاد کے قائل ہیں بالکل اسی طرح دیگر ادیان کے لوگ جنگ کو اپنے تسلط کے لئے دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مطلب آج امریکہ، چین یا اسرائیل کیوں مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں کیونکہ سب لاشعوری طور ایک ہی چیز کے قائل ہیں کہ ہم دنیا پر غالب آئیں۔ اور مسلمان بھی یہی چاہتے ہیں کہ دنیا پر ہمارا غلبہ ہو۔

اب ایک موقف سامنے رکھتے ہیں فرض کریں ہر کسی کو اپنے غلبہ کے لئے لڑنے مارنے کی اجازت دی جاتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اس موقف کے لئے کتنی تیاری کر رکھی ہے۔ کیوں اپنے مسلمانوں کے تحفظ کے لئے دنیا کے دیگر غیر مسلم اکثریت والے ممالک میں سیکولرازم کا سہارا لیتے ہیں۔

سچ اور تلخ حقیقت یہی ہے ہم مسلمان جہاد کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اگر آج ہم مسلمان امریکہ کی طرح سپرپاور ہوتے تو اسلام کو غالب لانے کے لئے ڈنکے کی چھوٹ پر کمزور ممالک پر حملے کرتے اور انہیں اپنے تسلط میں لاتے۔ یہ تلخ حقیقت ہے جسے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا۔ چوں چرا کرنے یا صرف اسلام کو امن کا دین کہنے کی آڑ میں جہاد سے دور کرنے والی سوچ حقیقت نہیں دھوکہ ہے جو ہم زبردستی اپنی آنی والی نسلوں کے ذہنوں میں تھوپنا چاہ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •