تعصب کے نفسیاتی محرکات اور ان کا حل (حصہ دوم)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات سننے کی عادت اپنائیے!
ایسے افراد جن سے آپ کسی نظریاتی اختلاف کی بِنا پر بات کرنے سے کتراتے ہوں، ہمت کر کے ان سے بات کیجیے۔ ان کی بات کو فراخ دِلی اور غیر جانبداری کا رویہ اپناتے ہوئے سنیے اور مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ جلد ہی آپ کو محسوس ہو گا کہ بہت سے خدشات جو اب تک آپ کو گفتگو سے روکنے اور غلط فہمیوں کا باعث تھے، وہ رفع ہو گئے۔ حسن ظن کی سوچ کے تحت مثبت طریقے سے گفت و شنید پر مائل رہنا ایک صحت مند عمل ہے جبکہ مختلف رائے کی بنا پر دوسروں سے قطع تعلقی کا راستہ اختیار کرنا نفرت اور تعصب جیسے غیر صحت مندانہ عوامل کی وجہ بنتا ہے۔

روایت کی رکاوٹ کو توڑیے!
آپ کو اپنے معاشرے میں بہت سی مروجہ روایات اور قاعدوں سے واسطہ پڑتا ہے جو انسان اپنے کسی مخصوص تناظر کی بنا پر اپنا لیتے ہیں حالانکہ وہ اپنی اصل میں درست نہیں ہوتیں۔ ایسی کئی بے فائدہ روایات کو توڑ کر فائدہ مند اور درست روایات کو اختیار کرنے میں آپ کو بعض اوقات شدید معاشرتی مشکلات ردعمل اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی بناء پر آپ ان آراء کو اختیار کر لیتے ہیں اور پھر دنیا داری رکھنے کی دھن میں ان کے دفاع کی خاطر تعصب کے فروغ میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ بِلا تجزیہ ہی معاشرے کے افراد کی توقعات پر اپنا رویہ تشکیل دینا آپ کے اندر ایک بہت بڑے بیمار خطے کو جنم دیتا ہے اور زمانے کے ساتھ چلنے کی دھن آپ کو شدید ترین تعصب میں مبتلا کیے رکھتی ہے۔

ایک مطالعے کے مطابق ہمارے معاشرے میں پچھتر فیصد سے زیادہ لوگ اپنی آراء اور رویوں کی تشکیل میں اندرونی سے زیادہ بیرونی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس غیر صحت مند رویے کا حل یہ ہے کہ اپنے کنٹرول کے محور (locus of control) پر غور کیجیے۔ مثلا اگر آپ سے آپ کی رائے کی بنیاد کے بارے میں سوال کیا جائے اور آپ کا جواب کچھ یوں ہو کہ فلاں فلاں شخصیات یا اکثریت کا یہی نقطہ نظر ہے یا دنیا تو آج کل اسی ٹرینڈ پر چل رہی ہے تو یہ آپ کا بیرونی محور ہے اور اگر آپ کی رائے کی بنیاد آپ کی دریافت اور غور و فکر کے مطابق دلائل پر مبنی ہو تو یہ آپ کا اندرونی محور ہے۔ چنانچہ تعصب سے محفوظ رہنے کے لیے شعوری طور پر یہ وضع کرنا ضروری ہے کہ ہم جو کہتے اور کرتے ہیں کیا وہ اپنی اصل میں درست ہے یا نہیں، کیا اس پر فطرت کی گواہی اور اندرونی سکون کی دولت میسر ہے یا نہیں۔ اس کے لیے اپنی آراء اور عمل کو اپنے اندرونی محورِ کنٹرول پر پرکھتے رہیے۔

مختلف آراء کی درست تفہیم

اختلافِ رائے کرتے ہوے اپنی ذات اور معاشرے میں تعصب کے فروغ کا ایک اہم سبب اگلے کی رائے کو درست طریقہ سے نا سمجھنا ہے۔ مخالف کا نقطہ نظر (perspective) سمجھنے کی کوشش کیے بغیر ہی اپنی بات پر اصرار اختلاف کو طول دینے کی بڑی وجہ ہے۔ اس کے حل کے لیے تین باتیں قابلِ غور ہیں :

1۔ مخالف کی بات پوری ہونے تک خاموشی اور قرار سے مکمل بات سنیے اور درمیان میں اسے بار بار ٹوکنے کی کوشش مت کیجیے۔

2۔ جو بھی دلائل مخالف کی طرف سے آئیں ان کا فوری طور پر جواب سوچنے کی بجائے پہلے ان دلائل کے بارے میں غور و فکر کیجیے۔ بے شک آپ کو اس کے لیے وقت لینا پڑے، جواب دینے میں جلدی کرنے کی بجائے، غور و فکر کی نشست تک اسے ملتوی کر دیجیے اور اسے ہار جیت کا نفسیاتی مسئلہ ہر گز نہ بنائیے۔

3۔ مخالف کی گفتگو کے دوران اکثر آپ دماغی طور پر بے چینی محسوس کرتے ہیں جس بنا پر اس کی بات پر سے ارتکاز (concentration ) محو ہو جاتا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں مثلا ایک وجہ مخالف کی طرف سے کسی ایسی دلیل کا خوف ہے جس کا آپ سے جواب نا بن پائے۔ یعنی آپ کی ساری توجہ جوابی ردِ عمل کی فکر میں رہے۔ چنانچہ اس بے چینی کی کیفیت سے صرفِ نظر کرتے ہوے مخالف کی بات پر توجہ مرکوز رکھنے کی کوشش کیجیے۔ دوسری وجہ ہمدردی کے جذبات (empathy) کو نظر انداز کر دینا ہے۔ ہمیشہ دوسرے کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھتے ہوے مختلف رائےکی اساس اور توجہہ کو دریافت کیجیے۔ پھر اس کے مطابق حل پیش کیجیے۔

دوسروں کی آزادی کا احترام

حکمت سے اپنا تناظر پیش کر لینے کے بعد یہ بات یاد رکھیے کہ ہر انسان اپنی سرشت میں آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اپنے انتخابات پر قادر ہے خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔ دوسرے کے انتخابات یا عوامل اور ان کے نتائج کی ذمہ داری آپ پر ہر گز نہیں ہے۔ آپ مطلوبہ عمل کے لیے سپورٹ کر سکتے ہیں، رائےدے سکتے ہیں اور حکمت سے نصیحت کر سکتے ہیں لیکن آپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ انتخاب کے اختلاف پر اور اپنی رائےمسلط کرنے کی دوڑ میں کسی کی جان، مال یا عزت کے درپے ہو جائیں۔ چنانچہ آپ اپنی رائےو نظریہ پیش کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن اسے الزام تراشی، دھمکی، گالی گلوچ یا تحقیر ذات کے ذریعے زبردستی دوسرے پر مسلط کرنے کی کوشش سراسر ایک غیر معقول و غیر صحت مند رویہ ہے۔ آپ کے پاس انسانیت کے تحت حکمت کے ساتھ صرف پیغام پہنچانے یا مشورہ دینے کا حق ہے۔ چنانچہ اپنے دائرہ اختیار کا تعین اور اس کے اندر رہتے ہوے سرگرم عمل رہنا نفسیاتی طور پر ایک صحت مند شخصیت کا ضامن ہے جبکہ اس سے تجاوز تعصب سمیت بہت سے غیر صحت مندانہ عوامل کا باعث بنتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •