”قربانی“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


رات کے کھانے کے بعد سبز چائے کا دور چل رہا تھا۔ تجمل صاحب، بیگم، بچے اور تجمل صاحب کی بیرونِ ملک سے آئی ہوئی ہمشیرہ، جو گزشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال بھی عید منانے بچوں سمیت تجمل صاحب کے یہاں آئی ہوئی تھیں، سب خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک بات تجمل صاحب کے آٹھ سالہ بیٹے ایقان کی ذہانت پرآپہنچی۔ اب جناب پھپھو اور ان کے بچے ایقان کی ذہانت کا امتحان لینے پہ تُل گئے۔

سائنس، جغرافیہ ِ ِ معلوماتِ عامہ، کھیل سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے سوالات آتے رہے اور ایقان ہر سوال کا جواب بروقت اور درست دیتے رہے اور پھپھو بار بار سراہتیں۔ تجمل صاحب بظاہر لاتعلق سے بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے لیکن ایقان کے ہر درست جواب پر ان کے ہونٹوں پر اک فخریہ مسکراہٹ کھیلنے لگتی۔ دفعتاً پھپھو نے سوال پوچھ لیا کہ ہم لوگ قربانی کیوں کرتے ہیں؟

ہر بار کی طرح جواب اس بار بھی فوراً ہی آیا تھا”ہم لوگ دراصل ہر سال آپس میں مقابلہ کرتے ہیں کہ کون سب سے مہنگا اور خوبصورت جانور خریدتا ہے، جانور خریدنے کے بعد پورے محلے میں سب اپنے جانور کی نمائش کرتے ہیں اور جب مقابلے کا مقصد پورا ہوجاتا ہے، یعنی ”وِنر“ اور ”رَنر“ کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو سب لوگ اپنے اپنے جانور ذبح کر لیتے ہیں۔“

سب حیران تھے کہ اتنے آسان سوال کا جواب ایقان کیوں نہ دے پایا اور سب حسبِ توفیق اب ایقان کی معلومات میں اضافہ کرنے اور اسے فلسفہ قربانی سے آگاہ کرنے میں مصروف تھے۔ اگر اس وقت کوئی چپ تھا تو وہ تجمل صاحب خود تھے۔ اب ان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ بھی معدوم ہو گئی تھی، ان کے چہرے پہ افسردگی بھی واضح طور پر نظر آرہی تھی اور یہ افسردگی ایقان کی کم علمی پہ نہیں بلکہ اس بات پر تھی کہ گزشتہ تمام جوابات کی طرح ان کے ہونہار بیٹے کاآخری جواب بھی بالکل درست تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •