آرٹیکل 370 کا خاتمے کے بعد کشمیریوں کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انڈیا میں برسراقتدار جماعت بھارتی جنتا پارٹی نے بالآخر ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35۔ اے کو ختم کیا جس سے اس خطے کی جیوسٹرٹجک پوزیشن یکسر تبدیل ہوچکی ہے اورجنوبی ایشیاء میں جنگ کا ماحول پیدا ہو چکا ہے۔ انڈیا نے جموں وکشمیر کے اہم سرکردہ سیاسی رہنماؤں عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون کو ہاؤس اریسٹ جبکہ حریت پسند رہنما یاسین ملک کو پہلے سے ہی نظر بند کرکے اس کی جماعت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

انڈین حکومت نے ارٹیکل 370 کے خاتمے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ پورے سرینگر ڈسٹرکٹ میں دفعہ 144 نافذ کرکے ہر طرح کی پبلک میٹنگ، ریلیاں نکالنے اور جلسہ جلوس پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ دوسری جانب مودی سرکار کے اس اقدام کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ریاست جموں وکشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم قرار دے کر سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر توقیر گیلانی نے ارٹیکل 370 کے خاتمے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ”بھارتی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ختم ہو گیا ہے۔“ ریاست کا بھارت کے ساتھ تعلق اسی آرٹیکل کے تحت قائم تھا اس لیے جموں وکشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو بھارت سے مکمل علیحدگی یعنی آزادی کا اعلان کرنا چاہیے۔

آرٹیکل 370 کے خاتمہ کا اعلان سے قبل ہی انڈیا کی مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر مزید تیس ہزار افواج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے، واضح رہے کہ انڈین زیرِ کنٹرول جموں وکشمیر دنیا کا سب سے زیادہ Militarized Zone بن چکا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار نے یہ فیصلہ عین ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران عمران خان کی گزارش پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تنازعہ کشمیر پر انڈیا پاکستان کے درمیان مصالحت یا ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دوران انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی مسئلہ کشمیر کی حل کے بارے میں بات کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر انڈیا پاکستان تیار ہوں تو وہ مسئلہ کشمیر پر مصالحانہ یا ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ مگر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نرنیدر مودی کے حوالے سے اس بیان کو بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹر پر جاری بیان میں رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان اور انڈیا کا باہمی مسئلہ ہے۔

جبکہ انڈین میڈیا کے مطابق ریاست جموں وکشمیر سے متعلق انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی کے زیر صدارت پیر کے روز ایک اہم اجلاس بمقام دہلی میں کیا گیا اور اس کا باقاعدہ اعلان بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے انڈین پارلیمنٹ میں کیا۔ انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے انڈین مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا فیصلہ علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال اور مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں کیا گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انڈین لوک سبھا کے چناؤ کے دوران ہی ریاست جموں وکشمیر سے متعلق انڈین آئین کے آرٹیکل A۔ 35 اور 370 کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اور اسی انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی اور وزیر مالیات آرون جھیٹلی نے بہت صاف الفاظ میں کہا تھا کہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے ریاست جموں کشمیر کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اس لیے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد وہ اس آرٹیکل کو ختم کریں گے۔ جموں وکشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راویندر رائنا نے بھی کہا تھا کہ ”آرٹیکل 370 نفرت کی ایک دیوار اور 35 اے ایک فاش آئینی غلطی ہے لہذا ان دونوں آرٹیکل کو ختم کرنا ان کی پارٹی کی پالیسی کا حصہ ہے۔ “

گزشتہ روز بھارتی جنتا پارٹی نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 370 کو ختم کرکے پاکستان اور جموں کشمیر کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ بنیادی طور پر آرٹیکل 370 انڈین آیئن کا مستقل حصہ نہیں تھا بلکہ ایک صدارتی حکم نامے کے تحت اسے انڈیا کے آئین میں شامل کیا گیا تھا جسے توسیع دیتے ہوئے آج تک چلایا گیا تھا۔ انڈیا کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ یہ ایک عارضی اور عبوری قانون ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ شرائط تھیں جو سابق شاہی ریاست جموں وکشمیر کے آخری حکمران مہاراجہ گلاب ہری سنگھ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے سے قبل اپنی ریاست کے باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ”دستاویز الحاق نامہ“ میں طے کیے تھے۔

مہاراجہ گلاب ہری سنگھ کے اسی مشروط الحاق نامے کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیر کو انڈین آیئن کے آرٹیکل 370 کے تحت انڈین یونین میں ایک خصوصی نیم خود مختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔ ریاست جموں وکشمیر کے لیے مہاراجہ گلاب ہری سنگھ کے منتخب کردہ وزیراعظم شیخ عبداللہ نے اس آرٹیکل کو مرتب کیا اور اس سے انڈین دستور کے حصہّ XXlمیں شامل کیا گیا تھا جو کہ عارضی، عبوری اور خصوصی قوانین سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل کی وجہ سے ہی ریاست جموں وکشمیر کو ایک علیحدہ آئین بنانے کی اجازت ملی تھی۔ لہٰذا 1951 میں ریاست جموں وکشمیر کی اسمبلی نے اپنا علیحدہ آئین مرتب کیا تھا جو تب سے تاحال جموں وکشمیر میں نافذ العمل تھا۔

مگر گذشتہ روز مودی سرکار نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت جموں وکشمیر سے متعلق انڈین آئین کے اس اہم آرٹیکل کو ختم کر دیا جس سے ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی اور نیم خودمختار حثیت ختم ہو گئی۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے نتیجے میں انڈین آئین کی وہ تمام شقیں جو انڈین یونین کی دیگر تمام ریاستوں پر قابل اطلاق ہیں وہ اس کے بعد ریاست جموں وکشمیر میں بھی قابل اطلاق ہوں گی ۔

ریاست جموں وکشمیر انڈین یونین میں شامل واحد ریاست تھی جس کا اپنا علیحدہ آئین، علیحدہ پرچم کے علاؤہ سنہ 1965 تک اپنا ایک صدر اور وزیراعظم بھی تھے مگر بعد میں آنڈیا کی مرکزی حکومت نے 6thآیئنی ایکٹ کے تحت انہیں تبدیل کیا۔ نتیجتاً وزیر اعظم کی جگہ وزیر اعلیٰ نے لی جبکہ صدارت کے عہدہ پر ڈاکٹر کرن سنگھ پہلے اور آخری صدر ریاست کے طور پر براجمان رہے پھر صدر کے عہدے کومکمل طور پر ختم کردیا گیا۔ مگر ریاست جموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون بدستور بحال اور نافذ العمل تھا مگر ستر سال سے بھی طویل عرصے گزرنے کے بعد بالآخر انڈیا کی مودی سرکار نے انڈین آیئن کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر ڈالا۔

آرٹیکل 35 اے مئی 1954 میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت انڈین آیئن میں شامل کیا گیا ایک خصوصی قانون تھا، جو ریاست جموں وکشمیر کے پشتینی باشندوں کی حیثیت بیان کرتا تھا اور ریاست جموں وکشمیر کے مستقل باشندوں کی پہچان کرنے کے علاؤہ یہ قانون ریاست جموں کشمیر کے مستقل باشندوں کو حاصل خصوصی حقوق اور مراعات کو آئینی تحفظ بھی فراہم کرتا تھا۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کی وجہ سے کشمیریوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے کیونکہ اس قانون کے خاتمے کی وجہ سے نہ صرف ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی سٹیٹس ختم ہو گیا ہے بلکہ اس قانون کے تحت ریاست کشمیر کے شہریوں کو حاصل مندرجہ ذیل خصوصی مراعات بھی ختم ہو گئی ہیں۔

1۔ انڈیا کے زیر کنٹرول ریاست جموں وکشمیر کی اپنی ایک علیحدہ قومی تشخص کے ساتھ اپنا ایک علیحدہ جھنڈا بھی تھا جس کا سٹیٹس انڈین جھنڈے کے برابر تھا، جو کہ انڈیا نے گزشتہ روز ایک صدارتی حکم نامے کے تحت ختم کیا ہے۔

2۔ انڈین آئین کے آرٹیکل 352 کے تحت صدر انڈیا ریاست جموں وکشمیر میں ایمرجنسی نافذ نہیں کر سکتا تھا البتہ جنگ کی صورت میں آرٹیکل 360 کے تحت ایمرجنسی ڈیکلیئر کر سکتے تھے۔ جبکہ آرٹیکل 360 کے تحت بھارت کی سنٹرل گورنمنٹ پورے آ نڈیا میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرسکتی تھی مگر آرٹیکل 370 کی وجہ سے جموں کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی مگر آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ یہ جموں وکشمیر کو حاصل یہ امتیاز اب ختم ہوچکا ہے۔

3۔ ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کے پاس دوہری شہریت تھی یعنی وہ قانونی طور پر جموں وکشمیر اور انڈیا دونوں کے شہری تھے مگر انڈین شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل شہریت حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ کشمیری یہ منفرد حق بھی کھو بیٹھے ہیں۔

4۔ اسی آرٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاؤہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمنٹ آف انڈیا ریاست جموں وکشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق جموں وکشمیر میں نہیں کرسکتے تھے مگر اب یہ خصوصی قانون ختم ہو کیا گیا ہے اس لئے جموں وکشمیر میں آنڈین قوانین لا گو کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں رہی اور اب ریاست جموں وکشمیر کو ایک ریاست کا درجہ بھی حاصل نہیں رہا۔

بی بی سی اردو میں کشمیر اور آرٹیکل 370 کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اب ریاست جموں وکشمیر کی جگہ وفاق کے زیر انتظام دو علاقے بن جائیں گے جن میں ایک کا نام جموں وکشمیر اور دوسرے کانام لداخ ہوگا۔ ان دونوں علاقوں کا انتظام اور انصرام لفٹیننٹ گورنر چلائیں گے۔ جموں وکشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہوگی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی اور لداخ کو انڈین مرکز کے زیر انتطام علاقہ قرار دیا گیا ہے۔

انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق اب جموں کشمیر کے داخلہ امور وزیر اعلیٰ کی بجائے براہ راست انڈیا کے وفاقی وزیر داخلہ کے ماتحت آئیں گے اور انڈیا کے تمام مرکزی قوانین جو پہلے ریاست جموں وکشمیر اسمبلی کی منظوری کی مختاج تھے اب اس علاقے میں خودبخود نافذ ہو جائیں گے۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 35 اے کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے 4 اھم ترین معاملات پر غیر ریاستی باشندوں یعنی انڈین شہریوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہوا ہے۔

1۔ آرٹیکل 35 اے کے تحت انڈیا کا کوئی بھی شہری ریاست جموں وکشمیر میں زمین و جائیداد نہیں خرید سکتا تھا مگر اب یہ قانونی رکاوٹ ختم کی گئی ہے۔

2۔ ریاست جموں وکشمیر میں سرکاری ملازمتوں پر صرف باشندہ ریاست کا حق تھا جبکہ انڈین شہری جموں وکشمیر میں سرکاری ملازمت حاصل نہیں کرسکتے تھے مگر اب اس رکاوٹ کو دور کر تمام انڈیا کے شہریوں کو جموں وکشمیر میں ملازمت حاصل کرنے کا دروازہ کھول دیا گیا ہے۔

۔ 3۔ آرٹیکل 35 اے کے تحت انڈین شہری جموں کشمیر میں آبادکاری نہیں کرسکتے تھے مگر اب یہ رکاوٹ بھی دور کرکے انڈین شہریوں کو جموں کشمیر میں آبادکاری کی اجازت دی گئی ہے۔

4۔ اس سے قبل اس خصوصی قانون کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے تمام تر سرکاری سکالرشپس اور کوٹے پر صرف جموں وکشمیر کے مستقل باشندوں کا حق تھا اور غیر ریاستی باشندوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے مگر اب تمام انڈین نیشنل کو یہ حق حاصل ہوگا۔ اس کے علاؤہ اس خصوصی قانون کے تحت تمام غیر ریاستی باشندوں کو ریاست جموں وکشمیر کے انتخابات میں حصہّ لینے اور ووٹ دینے ہر بھی قانونی طور پر پابندی عائد کردی گئی تھی مگر اب یہ رکاوٹ بھی ختم ہوگئی ہے۔

مہاراجہ گلاب ہری سنگھ نے ریاست جموں وکشمیر کے باشندوں کے لیے حقوق کے تحفظ کے لیے سال 1927 سے 1932 کے درمیان جو قانون وضع کیا تھا اسے SSR کا قانون یعنی سٹیٹ سبجیکٹ رول کہا جاتا ہے جس کے تحت غیر ریاستی باشندوں کو ریاست جموں وکشمیر میں زمین خریدنے اور مستقل سیٹلمنٹ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس قانون کو سال 1954 میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت آرٹیکل 35 اے کی شکل میں انڈین آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس آرٹیکل کے تحت ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ اگر کوئی بھی کشمیری خاتون/لڑکی اگر کسی غیر ملکی یا کسی غیر ریاستی باشندے یعنی کسی انڈین نیشنل کے ساتھ شادی رچائے تو ایسی صورت میں اس خاتون کو جموں وکشمیر کے ریاستی حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایسی خواتین کے بچوں کو وراثت کے حقوق بھی نہیں ملتے ہیں۔ مگر اب یہ قانون رکاوٹ بھی ختم ہوچکی ہے۔

انڈیا کے بعض ماھرین قانون کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کی ضرورت اس لیے بھی ہے چونکہ یہ آرٹیکل انڈین آیئن کے تحت انڈین شہریوں کے حقوق سے متعلق پانچ بنیادی آرٹیکلز جیسے کہ آرٹیکل نمبر 14، 15، 16، 17 اور آرٹیکل نمبر 21 سے متصادم ہے جو انڈین شہریوں کے پانچ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ یہ آرٹیکل آئین کے مطابق درست بھی نہیں ہے چونکہ انڈین آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت کسی بھی قانون کو آئین میں شامل، اضافہ یا ختم کرنے کے لیے لازمی ہے اس کو پارلیمنٹ سے گزارا جائے مگر آرٹیکل 35 اے کوانڈین پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان میں پیش نہیں کیا گیا ہے اس لیے یہ آرٹیکل خلاف آئین اور قابل منسوخ ہے۔ چنانچہ اس اہم قانونی نقطے کو جواز بنا کر ارٹیکل 35 اے کے خاتمے کے لیے ان دنوں انڈیا کے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے، گزشتہ سالوں میں انڈیا کی مرکزی حکومت نے اس مقدمے میں سات مرتبہ تاریخ لی ہے اور عرصہ 3 سال گزرنے کے باوجود بھی اس مقدمے کے بابت اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے بقول اٹارنی جنرل آف انڈیا کے کے گوپال ”یہ سپریم کورٹ آف انڈیا پر منحصر ہے کہ وہ اس مقدمے کا کیا فیصلہ کرتا ہے؟ “

البتہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں آرٹیکل 35 اے کے حوالے سے زیر سماعت مقدمے کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی مودی سرکار نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت ریاست جموں کشمیر سے متعلق انڈین آئین کے دو بنیادی شقوں آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا ہے۔ بھارتی سرکار کے اس اقدام سے نہ صرف ریاست جموں وکشمیر کے مستقل باشندوں کو حاصل خصوصی حقوق و مراعات بلکہ ریاست کی نیم خودمختار اور انڈین یونین میں اسے حاصل خصوصی حیثیت بھی ختم ہو گئی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ بھی نہیں رہا۔ اور اب ریاست جموں وکشمیر کی حکومت کی اجازت کے بنا ہی انڈین قوانین کا جموں وکشمیر میں اطلاق ہوگا۔ اس طرح انڈین سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق بھی اب جموں کشمیر میں براہ راست ہوگا۔ جموں وکشمیر کی ریاستی اسمبلی کی مدت چھ سال کی جگہ اب پانچ برس ہوگی۔ انڈیا کی وفاقی حکومت یا پارلیمان فیصلہ کریں گی کہ آیا ریاست جموں وکشمیر میں تعزیرات ہند نافذ ہوگا جس طرح گلگت بلتستان میں تعزات پاکستان نافذ ہے یا پھر جموں وکشمیر کا اپنا تعزیرات آر پی سی ہی بدستور نافذ رہے گا۔

17 جنوری 2019 کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حالیہ فیصلے میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں وکشمیر کا حصہ قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر تین حصوں پر مشتمل ہے جو کہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور انڈیا کے زیر کنٹرول جموں وکشمیر پر مشتمل ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ نے 84 ہزار چار سو اکہتر مربع میل پر مشتمل پوری ریاست جموں وکشمیر کو متنازعہ قرار دیا ہے اور استصواب رائے کو اس مسلئہ کا حل قرار دیا ہے گزشتہ ستر برس سے زیادہ عرصہ گزرنے تک استصواب رائے تو نہیں ہو سکا مگر گزشتہ روز بھارتی حکومت نے ارٹیکل 370 کو ختم کرکے جموں وکشمیر میں انڈین شہریوں کی آبادکاری کے لئے دروازہ کھول دیا ہے جس کی وجہ سے اس خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

مودی سرکار کے اس اقدام کے بعد ریاست جموں وکشمیر کے ان تین حصوں میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون اس وقت صرف پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر میں ہی نافذ العمل ہے چونکہ دوسری طرف گلگت بلتستان میں 1974 میں ہی سٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ مودی سرکار نے گزشتہ روز اپنے زیر کنٹرول ریاست جموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کا قانون یعنی ارٹیکل 370 اور 35 اے کو باقاعدہ ختم کرکے دنیا بھر کے کشمیری بشمول پورے پاکستان کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چونکہ مودی سرکار نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے انڈین زیر کنٹرول ریاست جموں کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کرکے انڈین باشندوں کی آبادکاری کے لئے دروازہ کھول دیا ہے جس کے نتیجے میں جموں وکشمیر کی مقامی آبادی اقلیت میں بدل جانے کے واضح امکانات ہیں۔ انڈیا نے ارٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی مستقبل قریب میں کسی بھی وقت ہونے والی استصواب رائے کے امکانات پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ چونکہ اس وقت سٹیٹ سبجیکٹ رول متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کے صرف ایک چھوٹے سے حصّے، آزاد کشمیر، میں نافذ العمل ہے باقی دو حصوں میں یہ قانون معطل کر دیا گیا ہے۔

لہٰذا غیر مقامی اور غیر ریاستی باشندوں کی ریاست جموں وکشمیر میں آبادکاری کے نتیجے میں مقامی آبادی اقلیت میں بدل جائے گی اور پھر یہ طے کرنا بہت مشکل ہوگا کہ مستقبل قریب میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی استصواب رائے کی صورت میں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے حق رائے دی کا استعمال کون اور کس ملک کے شہری کریں گے؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم ہونے کی وجہ سے غیر ریاستی باشندوں کی آباد کاری کے نتیجے میں کشمیر کے باشندوں کو یہ خدشہ ہے کہ کہیں ایک دن وہ بھی فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو کر نہ رہ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •