سینیٹر مشاہداللہ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری میں تلخ کلامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ سینیٹر مشاہداللہ کے خطاب کے دوران اُن کے اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا۔ فواد چودھری کے ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے مشاہد اللہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں، یہ تمیز سیکھ جائیں گے۔ چیئرمین سینٹ نے نازیبا ریمارکس کارروائی سے حذف کردیے۔

اجلاس سے خطاب میں سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ بھارت سے کہا تھا کہ کشمیرآپ کا اٹوٹ انگ نہیں ہے، کیا اٹوٹ کے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے؟ یاسین ملک، آسیہ اندرابی تہاڑ جیل میں ہیں، علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق نظربند ہیں۔

مشاہد اللہ نے کہا کہ کل وزیراعظم صاحب اتنی تاخیر سے آئےکہ اتنی تو پی آئی اے کی فلائٹ میں بھی دیر نہیں ہوتی اور پھر وزیراعظم ہم سے پوچھتے ہیں کہ میں کیا کروں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی بات ہوگی تو ہم سب ایک ساتھ ہیں، حکومت نے امریکا میں جو نواز شریف اور آصف زرداری کےخلاف تقریر کی کیا ہم سے پوچھ کرکی تھی، پوری فوج اور آئی ایس آئی کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کےساتھ کندھے سے کندھا ملا کرکھڑے ہیں لیکن ہم ایک سیاسی جماعت کے وزیراعظم کےساتھ نہیں۔

مشاہد اللہ کا کہنا تھا کہ آپ مودی کو مس کالیں مارتے ہیں اور وہ نہیں اُٹھاتا۔ حکومت چاہے تو کوٹ لکھپت چلے جائیں، کوئی فارمولا مل جائے گا اور اگر وہاں نہیں جاتے تو آصف زرداری صاحب کے پاس چلے جائیں۔ وہاں سے ایک فارمولا مل جائے گا جس سے مودی آپ کی کال ضرور اٹینڈ کرے گا۔

سینیٹر مشاہداللہ نے مزید کہا کہ آپ سی پیک کو رول بیک کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ چین آپ کے لیے بیان دے گا۔ ہندوستان میں بھی بہت ساری علحیدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ہمیں اب اپنی پالیسی میں جوہری تبدیلی کرنی ہو گی۔ سینیٹر مشاہداللہ نے کہا کہ یہ باتیں میں اشاروں میں کر رہا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •