قضیہ کشمیر پر ہماری کہانیاں ریاست کھا گئیں

کوئی بڑا مقصد حاصل کرنا ہو تو دلائل کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ منزل سے پہلے یا تو انسان راستہ بھٹک جاتا ہے یا ہار کا جھولا جھولنا پڑتا ہے۔ سفر پر جانے سے پہلے مسافروں سے حالات سفر اور ذرائع سفر کی اچھی طرح سے جانچ بہت ضروری ہوتی ہے، بڑے کام کے لیے بڑی دلیل ضروری ہے۔ مسئلہ جموں وکشمیر کو 73 سال ہونے کو ہیں، 73 سالوں میں ظلم کی لازوال داستانیں رقم ہوئیں، تحریک

Read more

سال 2019 ریاست کھا گیا

سال 2019 آخری ہچکی لے رہا، یوں تو یہ نظام قدرت میں وقت گزرنے کا ایک سلسلہ ہی ہے۔ لمحے، دن، مہینے، سال اور صدیاں آتی ہیں گزر جاتی ہے مگر سال 2019 قضیہ جموں و کشمیر کی 73 سالہ تاریخ میں سب سے اہم مگر بدقسمت ترین سال ثابت ہوا۔ سال 2019 نے ریاست جموں و کشمیر کے باسیوں کو کچھ دیا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے مگر اس حقیقت سے نظریں نہیں چرائی جاسکتی کہ سال

Read more

کشمیر! اگلا لائحہ عمل کیا ہے؟

بھارتی مقبوضہ کشمیر کو لے کر 5 اگست 2019 کے ہندوستانی اقدام کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال پر یوں تو آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں کسی نا کسی سطح پر ردعمل دیکھنے کو ملا اور مل رہا ہے۔ آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلسے، جلوس، احتجاج، سیمنارز، کانفرنسز کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے، مختصراً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوامی سطح

Read more

امت کو پھر ہے ضرورت ”حسین“ کی

محرم الحرام کی ابتداء ہوچکی ہے، ماہ محرم قربانیوں کی وہ داستان ہے جس کی مثال تاریخ انسانی میں کہیں نہیں ملتی۔ یوں تو تاریخ اسلام لازوال قربانیوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں کسی نے شہر عافیت و رحمت مدینہ منورہ کو چھوڑ کر کرب و بلا میں اس لیے بستی بسائی ہو کہ قافلہ انسانی کو رہنمائی مل سکے، حق و باطل کا فرق قائم رہ سکے، ایسا رہنما جس نے

Read more

مسئلہ کشمیر: اقوام متحدہ ناکام کیوں؟

1947 میں تقسیم برصغیر کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ جموں و کشمیر کے حل کو لے کر یوں تو اب تک بے شمار معاہدے، قراردادیں، سفارتی، سیاسی، عسکری ہر طرح کے آپشن استعمال ہوتے رہے ہیں، اسی مسئلہ جموں و کشمیر کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تین جنگیں لڑی جاچکی ہیں اور ممکنہ طور پر چوتھی ایٹمی جنگ کے بادل بھی ہر وقت سر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ 5 اگست کو بھارتی مقبوضہ کشمیر کو خصوصی

Read more

کشمیر : ستر سال بعد کے دس دن

5 اگست 2019 کو ہندوستان میں مودی سرکار کے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور ہندوستانی آئین میں تبدیلی کے جارحانہ اقدامات کے بعد سے پیدا ہونے تشویشناک حالات میں تاحال کوئی بہتری نہیں آسکی، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک جیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مودی سرکار اپنے جارحانہ اقدام سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ آزادی کے بیس کیمپ (آزاد کشمیر) کی قیادت اب بھی 72 سال کے

Read more

کشمیر: داستان ختم ہونے والی ہے

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہونا شروع ہوئی۔ بھارتی فورسز کی اضافی نفری، نقل و حرکت، حریت پسند قیادت کی گرفتاریاں اور نظر بندی سے کرفیو تک اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے لے کر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کے نظام کی بندش تک ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ تشویش میں اضافہ ہوا کہ آخر ہونے کیا جارہا ہے کوئی بھی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی تھی۔

Read more

سیاسی انحطاط کا ماتم

حقیقت کو تسلیم کر لینا اور حقیقت سے نبردآزما ہونا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ قوم کبھی ترقی کے دشوار گزار راستوں پر سفر نہیں کرسکتی جو حقیقت سے دور بھاگتی ہو یا جس میں حقیقت کا سامنا کرنے کی اخلاقی جراَت نہ ہو۔مملکت خداداد پاکستان میں یوں تو ہم بے شمار بنیادی حقائق سے لاعلم رہتے ہیں یا حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں، جن حقائق کو یہاں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ان میں سے ایک تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست ملک و قوم کے لیے نہیں ہے، یہاں حکمرانی کے لیے یہ معاملہ اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ ملک میں آمریت کا دور دورہ ہے یا مطلق العنان جمہوریت اپنے عروج پر ہے، یہاں مقصد اقتدار کی کرسی ہوتی ہے اور کرسی تک پہنچنے کے لیے راستے کا انتخاب معنی نہیں رکھتا۔

Read more

سیاسی انحطاط کا ماتم

حقیقت کو تسلیم کر لینا اور حقیقت سے نبردآزما ہونا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ قوم کبھی ترقی کے دشوار گزار راستوں پر سفر نہیں کرسکتی جو حقیقت سے دور بھاگتی ہو یا جس میں حقیقت کا سامنا کرنے کی اخلاقی جراَت نہ ہو۔ مملکت خداداد پاکستان میں ہم بے شمار بنیادی حقائق سے لاعلم رہتے ہیں یا حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں، جن حقائق کو یہاں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ان میں سے ایک

Read more

سات دہائیوں سے اپنا ’کردار‘ مانگتا آزاد کشمیر

24 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں کشمیر کے 4144 مربع میل کے رقبہ پر محیط ایک چھوٹے سے حصے پر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا، تین ڈویژن، 10 اضلاع، 32 تحصیلوں اور 1771 دیہاتوں پر مشتمل انتظامی طور پر نیم خود مختار کہلائی جانے والی ریاست کے قیام کا مقصد ریاست جموں و کشمیر کے باقی حصے کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنا تھا اس لیے اسے آزادی کا بیس کیمپ کہا گیا

Read more

تحریک حریت کشمیر: فرض عین سے تعزیت تک

یوں تو بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ظلم و ستم کی خبریں آنا معمول کی بات ہوگئی ہے، آئے روز جبر و تشدد کی ایک نئی داستان سننے کو ملتی ہے مگر جب سے حریت لیڈر یاسین ملک کی ناسازی طبع اور تشویشناک حالت کی خبریں میڈیا کی زینت بنی تو طبیعت میں شدید اضطراب پیدا ہونے لگا سینکڑوں سوالات ذہن کی دیواروں سے ٹکراتے اور اطمینان بخش جواب نہ پاکر لوٹ جاتے، بیسیوں مرتبہ یہ کوشش کی قرطاس وقلم کا سہارا لیا جائے مقبوضہ وادی میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم اور آزادی کے بیس کیمپ کے کردار پر لکھا جائے مگر اس پر کیا نیا لکھا جائے وہی روایتی رسمی باتیں، وہی جملے کہ ”ریاست جموں کشمیر کی غلامی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ طویل عرصے سے کشمیر بھارت سامراج کے مختلف النوع ظلم و استبداد کی چکی میں پس رہا ہے مگر کشمیر ی جھکے نہیں، کشمیریوں نے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، قربانیوں کی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے، تحریک اپنے عروج پر ہے اور بھارتی سامراج کے ظلم و استبداد کی ناکامی الم نشرح ہے۔ عالمی ضمیر مردہ ہوچکا ہے، عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور اقوام متحدہ کو کشمیر سے متعلق قراردادوں پر عملدرآمد کرانا چاہیے ”

Read more