کشمیر: داستان ختم ہونے والی ہے

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے بعد سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہونا شروع ہوئی۔ بھارتی فورسز کی اضافی نفری، نقل و حرکت، حریت پسند قیادت کی گرفتاریاں اور نظر بندی سے کرفیو تک اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے لے کر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کے نظام کی بندش تک ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ تشویش میں اضافہ ہوا کہ آخر ہونے کیا جارہا ہے کوئی بھی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی تھی۔

Read more

سیاسی انحطاط کا ماتم

حقیقت کو تسلیم کر لینا اور حقیقت سے نبردآزما ہونا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ قوم کبھی ترقی کے دشوار گزار راستوں پر سفر نہیں کرسکتی جو حقیقت سے دور بھاگتی ہو یا جس میں حقیقت کا سامنا کرنے کی اخلاقی جراَت نہ ہو۔مملکت خداداد پاکستان میں یوں تو ہم بے شمار بنیادی حقائق سے لاعلم رہتے ہیں یا حقائق کو نظر انداز کرتے ہیں، جن حقائق کو یہاں ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ان میں سے ایک تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست ملک و قوم کے لیے نہیں ہے، یہاں حکمرانی کے لیے یہ معاملہ اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ ملک میں آمریت کا دور دورہ ہے یا مطلق العنان جمہوریت اپنے عروج پر ہے، یہاں مقصد اقتدار کی کرسی ہوتی ہے اور کرسی تک پہنچنے کے لیے راستے کا انتخاب معنی نہیں رکھتا۔

Read more

سیاسی انحطاط کا ماتم

حقیقت کو تسلیم کر لینا اور حقیقت سے نبردآزما ہونا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ قوم کبھی ترقی کے دشوار گزار راستوں پر سفر نہیں کرسکتی جو حقیقت سے دور بھاگتی ہو یا جس میں حقیقت کا سامنا کرنے کی اخلاقی جراَت نہ ہو۔ مملکت خداداد پاکستان میں ہم بے شمار بنیادی حقائق سے…

Read more

سات دہائیوں سے اپنا ’کردار‘ مانگتا آزاد کشمیر

24 اکتوبر 1947 کو ریاست جموں کشمیر کے 4144 مربع میل کے رقبہ پر محیط ایک چھوٹے سے حصے پر آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا، تین ڈویژن، 10 اضلاع، 32 تحصیلوں اور 1771 دیہاتوں پر مشتمل انتظامی طور پر نیم خود مختار کہلائی جانے والی ریاست کے قیام…

Read more

تحریک حریت کشمیر: فرض عین سے تعزیت تک

یوں تو بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ظلم و ستم کی خبریں آنا معمول کی بات ہوگئی ہے، آئے روز جبر و تشدد کی ایک نئی داستان سننے کو ملتی ہے مگر جب سے حریت لیڈر یاسین ملک کی ناسازی طبع اور تشویشناک حالت کی خبریں میڈیا کی زینت بنی تو طبیعت میں شدید اضطراب پیدا ہونے لگا سینکڑوں سوالات ذہن کی دیواروں سے ٹکراتے اور اطمینان بخش جواب نہ پاکر لوٹ جاتے، بیسیوں مرتبہ یہ کوشش کی قرطاس وقلم کا سہارا لیا جائے مقبوضہ وادی میں بڑھتے ہوئے بھارتی مظالم اور آزادی کے بیس کیمپ کے کردار پر لکھا جائے مگر اس پر کیا نیا لکھا جائے وہی روایتی رسمی باتیں، وہی جملے کہ ”ریاست جموں کشمیر کی غلامی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ طویل عرصے سے کشمیر بھارت سامراج کے مختلف النوع ظلم و استبداد کی چکی میں پس رہا ہے مگر کشمیر ی جھکے نہیں، کشمیریوں نے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، قربانیوں کی نئی تاریخ رقم ہورہی ہے، تحریک اپنے عروج پر ہے اور بھارتی سامراج کے ظلم و استبداد کی ناکامی الم نشرح ہے۔ عالمی ضمیر مردہ ہوچکا ہے، عالمی برادری کو بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور اقوام متحدہ کو کشمیر سے متعلق قراردادوں پر عملدرآمد کرانا چاہیے ”

Read more