مودی کے ہاتھ میں کاغذ کا بے وقعت پُرزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راہول گاندھی بے شک ایک نوجوان سیاسی لیڈر ہیں لیکن سوشل میڈیا پر ان کا ٹویٹ پڑھا تو میں نے دل ہی دل میں ان کے دانش اور وژن کی داد دی اس نے لکھا کہ ”کشمیر کی اہم ترین لیڈر شپ کو خفیہ جیلوں میں ٹھونس کر گویا دہشت گردوں کو ان کی خلاء پر کرنے کی دعوت دی گئی اور یہ مودی سرکار کا احمقانہ اور دانش سے تہی فیصلہ ہے“

لیکن کیا کیجئے کہ تعصب اور نفرت سے لبریز ہندوستان کے وزیراعظم نریندرا مودی ہمیشہ سے خون جبر اور نفرت کا سوداگر ہی رہا۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ وہ بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلٰی تھے اور مسلمان اقلیت کا خون گلی گلی بہہ نکلا تھا سو کشمیر کے حوالے سے مودی کی تازہ ترین واردات غمناک بہت سہی لیکن حیرت ناک ہرگز نہیں کیونکہ نفرت اور تعصب کے اس بیوپاری سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی مظلوم مسلمان کی داد رسی کرے گا یا اس کا غضب کیا ہوا حق اسے لوٹا دے گا۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والے سینئیر سیاستدان اور کانگرس کے رہنما غلام نبی آزاد جو راجیہ سبھا میں قائد اختلاف ہے نے چیخ کر کہا کہ نریندرا مودی بھارتی آئین کا قاتل ہے ( اشارہ اس آئینی شق 370 کے ختم کرنے کی جانب تھا جس پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت کھڑی تھی) اور تو اور کل تک بھارت نواز رہنے والے طاقتور سیاسی رہنما ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر فاروق عبداللہ اور سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی کا لہجہ اور اشتعال بھی اسی رنگ و آھنگ میں ہے جو کبھی حریت کانفرنس اور حزب المجاہدین کا ہوا کرتا تھا بلکہ اب بھی ہے۔

گویا نریندرا مودی اپنی نفرت انگیز فیصلوں اور متعصب ذہنیت کی بدولت کشمیر کی ساری سیاسی قیادت اور عوامی لہر کو ایک پیج پر لے ہی آیا۔

اب معاملات، مذاکرات، سفارت کاری اور گفت و شنید کے حدود و قیود سے بہت آگے نکل گئیے ہیں۔

اب ایک طرف بی جے پی اور اس کے لیڈر مودی کی فاشزم کھڑی ہے اور دوسری طرف غلامی سے چھٹکارا اور آزادی کی لپک۔

سوال یہ ہے کہ کیا آرٹیکل۔ تین سو ستر کی ہوا بردگی اس سلگتے ہوئے آگ کو بجھے ہوئے راک میں تبدیل کر سکے گی جسے آزادی کی تڑپ دن بدن بھانبڑ بناتی رہی ہے یا یہی آگ ان درو بام کو بھی لپیٹ میں لے گی جس کی غلام گردشوں سے تاریخ کا شرمناک اور جابرانہ فیصلہ برآمد ہوا ہے۔

مودی کا المّیہ یہ ہے کہ وہ صرف تعصب اور خون سے شغل فرماتے ہیں۔

تاریخ سے انھیں کیسا سروکار ورنہ کشمیر کے بارے میں ایک خوفناک اور دہشت انگیز فیصلہ کرنے سے پہلے وہ ضرور تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھتے تو بہت سے ملکوں اور بہت سے جابروں کو دیکھ کر کانپ اُٹھتے۔

الجزائر سے جنوبی افریقہ اور لیبیا سے مشرقی تی مور تک آزادی کی لہر کہاں رکی تھی؟

ھلاکو خان سے ہٹلر اور جنرل پنوشے سے میلازووچ تک کون ٹکا تھا؟

حماقت کو تکبر اور طاقت کو جبر چمٹ جائیں تو اس سے صرف تباہی ہی برآمد ہوتی ہے سو حماقت تکبر اور جبر کے مجموعے نریندرا مودی کو اس کے حال پر چھوڑ کر زمانوں سے ٹکراتے مظلوم لیکن غیور حوصلہ مند اور آزادی کی اُمنگ سے لبریز کشمیریوں پر نگاہیں مرکوز کر لیتے ہیں کہ وہ جبر اور قہر کے شناسا موسموں سے اب کے بار کیسے اور کس طرح نمٹتے ہیں۔

انہیں تو ماضی میں بھارتی فوج کی آٹھ لاکھ بندوقیں پسپا نہیں کر سکی تھیں تو ایک وحشت انگیز تاریخ میں لت پت بے مغز نریندرا مودی کے ہاتھ میں لہراتا ہوا آرٹیکل تین سو ستر نامی کاغذ کا پرزہ کیا ان کا راستہ روک لے گا یا آزادی کی تڑپ میں بھانبڑ بنتی آگ کو وہ اس بے وقعت فیصلے سے کیا بجھا دے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •