بھارت کا کشمیر کی خودمختاری پر ڈرون حملہ اور دنیا کی خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر دنیا میں وہ بدنصیب وادی ہے، جس میں گزشتہ 30 سالوں کے دوران 95 ہزار 430 کشمیری بھارتی درندگی کا شکار ہوکر یوم شہادت نوش کرچکے ہیں، تین دہائیوں میں 11 ہزار سے زائد کشمیری خواتین کو ساتھ بھارتی ہندو فوجیوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک لاکھ کشمیریوں کے گھر مسمارکیے گئے ہیں۔ جبکہ ایک لاکھ 46 ہزار مرد خواتین اور بچے بھارتی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں، یہ اعداد و شمار دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔

اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 7 دہائیوں میں بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کتنا جانی مالی نقصان کیا گیا ہے۔ کشمیری عوام لمحہ بہ لمحہ زندگی اور موت سے گزر رہے ہیں، اقوام متحدہ کی جانب سے کشمیریوں کی خود ارادیت اور آزادی کے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ جس سے بھارت کا من بگڑتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جب عام انتخابات میں ورک مہم چلا رہے تھے اس کی تقاریر آج بھی رکارڈ پر موجود ہیں جس میں وہ پلوامہ واقعہ کا زمیوار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے کہ رہا تھا کہ وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے کشمیر کے متعلق آئین سازی کریں گے، اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم عمران نیازی صاحب مودی کی الیکشن میں کامیابی کے لئے دعائیں کر رہے تھے کہ وہ کامیاب ہوجائیں اگر مودی کامیاب ہوگئے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

لیکن وہ بدنصیب گھڑی آئی جب بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا، بھارتی گھرو وزیر امیت شاہ نے لوک سبھا میں 35 اے اور 370 کا آرٹیکل ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور آئین کو تبدیل کرتے ہوئے بھارت میں جبری طور پر شامل کردیا سوائے پاکستان کے کسی ملک نے مذمت تک نہیں کی، اب تک وائٹ ہاؤس، بیجنگ۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، روس، ایران، سعودی عرب سمیت کسی نے بھی نہ آواز اٹھائی ہے نہ مذمت کی گئی ہے۔

جب بھارت کو سلامتی کونسل میں ووٹ کی ضرورت پڑی تو پاکستان نے اسے ووٹ دیا، مودی کو خوش کرنے کے لئے جماعت الدعوہ پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کی ذیلی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاونڈیشن پر مکمل پابندی عائد کرکے ہسپتال، اسکولز، کالجز ایمبولینس اپنے سرکاری تحویل میں لے لی گئیں اور حافظ محمد سعید کو پہلے نظر بند کیا گیا بعد میں امریکہ کے دورے سے قبل انہیں دہشتگردی کے 7 مقدمات میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا جبکہ مولانا مسعود اظہر کو بھی بھائی اور بیٹے سمیت گرفتار کیا گیا، وزیر اعظم عمران خان جب امریکی دورے پر گئے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مداخلت کی بات کی، ٹرمپ نے فرمایا کہ مودی بھی ہے ایسے ہی کہا تھا۔

وہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے ثالثی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ جب مودی پر بھارتی میڈیا اور اپوزیشن کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو مودی کے ترجمان نے کہا کہ مودی نے ٹرمپ سے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ سمجھ نہیں آتا کہ امریکا اتنا کیوں سیریس لیا اور فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو شاید کہا ہوگا کہ وہ کشمیر میں مداخلت کرے تاکہ انہیں افغانستان سے عزت سے واپسی کا راستہ مل سکے۔ ( کیونکہ امریکا اب 18 سالوں بعد افغانستان سے شکست کے بعد پاکستان کو منتیں کر رہا ہے کہ اسے طالبان کو راضی کرکے راستہ دلوایا جائے۔

) مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی 8 لاکھ بھارتی فوج موجود ہے جبکہ بھارت نے مزید 10 ہزار فوجی تعینات کیے ہیں۔ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ کشمیری رہنما یاسین ملک کی جیل میں تشدد سے حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ کشمیری عوام سراپا احتجاج ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی پوری قوم حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی بھارتی جارحیت کے خلاف متحد ہے۔ عوام کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے جبہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے 9 اگست جمعتہ المبارک کو ملک بھر میں بھارتی دہشت گردی اور کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستانی عوام کی دل سانسیں کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑک رہی ہیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مکمل ہوا اور کور کمانڈر کانفرنس بھی بلائی گئی، پاکستان نے بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے سفارتی، تجارتی تعلقات ختم کرنے کے ساتھ فضائی حدود کی استعمال بھی روک دی گئی ہے، جبکہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف 14 اگست یوم آزادی پاکستان کو یوم کشمیر کا دن منانے کے ساتھ 15 اگست یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ، پاکستان بھارت سے اپنا سفیر واپس بلائے گا، جبکہ بھارتی سفیر کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنا سامان لے کر واپس چلے جائیں۔

جبکہ وزیر اعظم نے فوج کو تیار رہنے کے لئے کہا ہے۔ جبکہ کور کمانڈر کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ جو حکومت فیصلہ کرے گی فوج اس پر عمل درآمد کرے گی۔ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ہے، بلکہ پہلے تو اس سے بھی زیادہ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ اور دو جنگیں بھی لگ چکی ہیں۔ مگر اب جو صورتحال ہے وہ 1965 ع اور 1971 ر کی صورتحال سے کافی مختلف ہے۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف سنگین خلاف ورزی کی گئی اور شہری آبادی پر بھارتی فوج کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال کیا گیا ہے۔

عوامی ابادی پر فائرنگ کرکے کئی کشمیریوں کو شہید جبکہ سینکڑوں افراد کو زخمی کردیا گیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ لائن آف کنٹرول پر عوام کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر اور تحمل سے کام لیا ہے۔ بھارت اب تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ مودی جس کی سوچ ذہنیت مسلمانوں کے تعصب عصبیت میں بھری ہوئی ہے۔ ہزاروں کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کا قاتل مودی نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوستان کے عوام کے لئے بھی مشکلاتیں پیدا کر رہا ہے۔

جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ امریکا نے 40 ممالک کی فوج کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا۔ 18 سال بعد اسے رسوائی ذلت کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا، آج خود کو سپر پاور کہلانے والا امریکا پاکستان کو منت سماجت کر رہا ہے کہ طالبان کو راضی کرکے اسے افغانستان سے نکلنے کا راستہ دیا جائے۔ امریکا نے عراق میں جنگ مسلط کی اس کو جھوٹ رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ کل جب مودی اپنی ہتھ دھرمی کی وجہ سے پہنس چکا ہوگا۔

کشمیری اپنی آزادی کی جنگ کسی صورت ختم نہیں کریں گے۔ امریکا کی طرح بھارت کو بھی کشمیر میں شکست نصیب ہوگی اور تب بھارت جاکر کشمیر سے نکلنے کے لئے سعودی عرب، ترکی، روس اور امریکا کے پاؤں پڑے گا کہ اس کی جان چھڑائی جائے۔ مسئلہ صرف کشمیر کا نہیں بلکہ فلسطین، عراق، شام، لبیا، یمن، لبنان، برما، روہینگیا، بوسنیا، چیچنیا جل رہے ہیں، مسلمان مرغیوں کی طرح ذبح ہو رہے ہیں، مگر کوئی نہیں جو مسلمانوں کی نسل کشی پر آواز بلند کرے۔

آج کشمیر سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کی حالت اس دنبے جیسی ہوگئی ہے جسے قصاب ذبح کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دنبہ مزاحمت کرتا ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے۔ مگر قصاب اس بات پر واویلا کرتا ہے کہ یہ دنبا دہشتگرد ہے۔ یہ مزاحمت کرتا ہے اور مجھے ذبح ہونے نہیں دیتا۔ آج ساری دنیا میں ذبح بھی مسلمان ہو رہے ہیں اور دہشت گرد بھی مسلمانوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا۔ آپس میں اختلافات ختم کرکے ایک جسم کی مانند ثابت کرنا پڑے گا تب جا کر مسلمان اپنی دفاعی پوزیشن میں آجائیں گے وگر نہ ایک ایک کر کے مارے جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •