مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جارحیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نریندر مودی کی جنونی اور ہندوتہ پر مبنی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35۔ Aکو ختم کرکے اس کی خود مختار حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ حالیہ فیصلہ سے مقبوضہ کشمیر اب نیم خود مختار ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں وکشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا اس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

یہ اقدام عملی طور پر جنیوا کنونشن سمیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس ہے اور بھارت نے ثابت کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی حل میں بری طرح ناکام ہوا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب اس نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا شدید ردعمل مقبوضہ کشمیر میں ہوگا اور وہ لوگ بھی مودی سرکار سے نالاں ہیں جو کل تک وادی میں ان کے حمایت یافتہ سمجھے جاتے تھے۔ بقول محبوبہ مفتی کہ حالیہ فیصلہ کے بعد ثابت ہوا کہ 1947 میں مقبوضہ کشمیر کی قیادت کا دو قومی نظریے کو ٹھکراتے ہوئے بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط ثابت ہوگیا ہے۔ اس عمل نے عملی طور پر بھارت کو مجموعی طور پر کشمیر کی سیاست میں مزید سیاسی تنہائی میں ڈال دیا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے چند برسوں او ربالخصوص وانی کی شہادت کے بعد سے لے کر مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد نے کشمیر کے مسئلہ کو ایک بین الا اقومی مسئلہ بنادیا ہے۔ اب یہ مسئلہ محض کشمیر یا پاکستان او بھارت کے درمیان تنازعہ کے طو رپر ہی موجود نہیں بلکہ وہاں جو کچھ انسانیت سوز مظالم اور بربریت کے تناظر میں بھارت کی فوج طاقت کے نشے میں کررہی ہے اس نے عالمی دنیا کے ضمیر کو بھی جگایا ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے؟ سوشل میڈیا کی اس نئی دنیا نے لوگوں کے سامنے اپنے موقف کو پیش کرنے کے لیے بہت سے نئے مواقعوں کو پیدا کیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان نسل اپنا مقدمہ اس سوشل میڈیا کی مدد سے عالمی دنیا میں اجاگر کرنے یا ان کی توجہ دلانے میں پوری طرح کامیاب نظر آتی ہے۔

اقوام متحدہ ہویا یورپی یونین یا ایمنسٹی انٹر نیشنل کی رپورٹس ہوں سب ہی ایک آواز میں یہ صدا بلند کررہے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے سب سے زیادہ بربریت یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ آوازوں کی گونج ہمیں بھارت کے اہل دانش یا انسانی حقوق کے کارکنوں میں بھی سننے کو مل رہی ہے کہ بھارت بس کرے اورمسئلہ کشمیر کا حل طاقت کی بجائے مذاکر ات یا سیاسی حل کی مدد سے تلاش کیا جائے۔

سب سے زیادہ اہم بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات اور خاص طو رپر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے کردار ادا کرنے کے بیان کے بعد بھارتی جارحیت سامنے آئی ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدام پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے ایک بڑے بحران کا ماحول پیدا کردیا ہے جو سب کے لیے نئے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ بھارتی اقدام سے کشمیر کا مسئلہ دب جائے گا وہ غلطی پر ہیں۔ بلکہ اس اقدام کی وجہ سے ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر نئے راستے اورامکانات ملے ہیں اورہمیں اس محاذ پر زیادہ فعال ہوکر بھارت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ اب مسئلہ کشمیر کی عالمی حیثیت بڑھ رہی ہے اورچین، روس، ترکی، ملائیشیا، برطانیہ سب ہی اس مسئلہ کے حل پر زور دے رہے ہیں۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں اسی انداز پر بھارت پر اپنے دباؤ کو بڑھاتے رہے تو مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اس وقت بھارت پر جنونیت سوار ہے اور وہ ہر قیمت پر کشمیریوں کو سبق سکھانا چاہتا ہے۔ کیونکہ بھارت کا موقف ہے کہ پچھلے چند برسوں میں کشمیر کی جدوجہد نے ان کو عالمی دنیا میں جوابدہ بنایا ہے۔ مودی سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اگر ہم نے ابھی بھی طاقت کے استعمال کے ساتھ اس مسئلہ کو یہیں ختم نہ کیا تو یہ بحران بھارت کے تناظر میں اوربڑھے گا او راس کا ایک نتیجہ بڑے عالمی دباؤ کی صورت میں سامنے آئے گا جو بھارت کے مفاد میں نہیں۔

بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں طاقت یا فوج کے استعمال کا نتیجہ اس کے حق میں نہیں آیا۔ کیونکہ طاقت کے بے جا استعمال نے وہاں کی تحریک کو کمزورکرنے کی بجائے اسے اور زیادہ شدت دی ہے۔ نئی نسل واقعی فیصلہ کن جنگ چاہتی ہے کیونکہ اس نئی نسل کے کم ازکم ایک سے چار افراد نے اس جنگ میں شہادت حاصل کی ہے۔ عورتوں، بچوں، بچیوں اور بوڑھوں کے حوالے سے جو انسانیت سو ز مظالم پر تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ واقعی لوگوں میں غصہ اور نفرت کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بن رہی ہیں اور لوگوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ کشمیر میں بھارت واقعی ظلم و زیادتی کررہا ہے۔ بھارت کے اس حالیہ اقدام سے اقوام متحدہ کی قراردادیں، شملہ سمجھوتہ اور اعلان لاہور سمیت جنیوا کنونشن یا معاہدے یا سمجھوتے تقریباً غیر مؤثر ہوگئے ہیں۔

لیکن لگتا ہے کہ بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اپنے حق میں بہتری لانے کے لیے پہلے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کو طاقت کے انداز میں روکا جائے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تشدد کا نیا راستہ اور نئے نئے خطرناک طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔ لیکن اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اس عمل سے تحریک کمزورہوگی تو وہ غلطی پر ہے۔ اسے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے کہ طاقت کے استعمال کی پالیسی سے ہی کشمیر کا مسئلہ بگاڑ کا شکار ہوا ہے اورجو آج عالمی دنیا میں اسے سیاسی تنہائی کا سامنا ہے وہ بھی طاقت کے کھیل کی وجہ سے ہوا ہے۔

یہ سمجھنا کہ محض قانون سازی سے کشمیر کی خصوصی حیثیت، الگ پرچم او ر آئین کا اختیار ختم کرکے وہ کشمیر کی تحریک کوختم کرسکتا ہے تو وہ یقینی طو ر پر ایک بڑی غلطی پر ہے۔ کیونکہ کشمیر کے طرز کی تحریکوں میں کوئی قانون بڑی رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتا اور اس طرح کی تحریکوں کا مقابلہ طاقت کی بجائے سیاسی انداز میں کیا جانا چاہیے۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اوربھارت کے سخت ردعمل کے باعث پاکستان کا سفارتی محاذ پر کام بڑھ گیا ہے۔ ہمیں اس وقت عالمی دنیا میں جو مسئلہ کشمیر کے حق میں ماحول بن رہا ہے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ اس وقت لوہا گرم ہے اورعالمی دنیا مسئلہ کا حل چاہتی ہے تو ہمیں عالمی دنیا کو بھارت کے موجودہ طرز عمل او ربالخصوص انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک بڑی مہم چلانی چاہیے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کروانا ہوگا کہ بھارت کی جارحیت سے مسئلہ حل نہیں بلکہ اورزیادہ بگاڑ کا شکار ہوگا۔ ہمیں فوری طور اقوام متحدہ اورعالمی فورمز سے رجوع کرنا چاہیے کہ وہ اس تناظر میں اپنا بڑا کردار ادا کریں۔ خاص طو رپر یہ جو سید علی گیلانی نے الزام لگایا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے اس پر عالمی دنیا کی خاموشی خو دمجرمانہ غفلت ہوگی۔

پاکستان کو ایک متحرک اور فعال طرز کی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے اوریہ کا م ایمرجنسی بنیادوں پر ہونا چاہیے بلکہ لفظ ڈپلومیٹک ایمرجنسی دیا جائے جہاں ہمیں سفارت کاری کے محاذ پر غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ہماری سیاسی قیادت کو اپنے باہمی تضادات اور مسائل کو پس پشت ڈال کر بھار ت کی کشمیر پالیسی کے بارے میں ایک ٹھوس موقف پیش کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک میں موجود سابق سفارت کاروں کو متحرک اورفعال کریں اوران کی مدد سے ڈپلومیسی کے محاذ پر مؤثر حکمت عملی اختیارکریں۔

وزیر اعظم کو قومی سطح پر نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس کی قیادت بھی کرنی چاہیے او راسی طرح سابق سفیروں کے ساتھ بھی مل کر ان کی تجاویز سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کیونکہ بھارت نے جو کچھ کیا ہے اس پر عالمی دنیا کو بیدا رکرنا ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا کہ اگر عالمی دنیا نے اس مسئلہ پر اپنا موثر کردار ادا نہ کیا تو وہ بھی حالات کی خرابی کے ذمہ دار ہوں گے اور یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان، بھارت اورکشمیر کو بحران سے نکالیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •