اوتھیلو سنڈروم: شریک حیات کو بے وفا سمجھنے کی نفسیاتی بیماری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیماری دو طرح کی ہوتی ہے، ایک جسمانی اور دوسری نفسیاتی یا ذہنی۔ جسمانی بیماری کی علامتیں بہت واضح ہوتی ہیں۔ ایک جاہل اور انپڑھ انسان کو بھی جب جسمانی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھ جاتا ہے کہ اسے کسی بیماری نے آ گھیرا ہے۔ وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور اس کا علاج کراتا ہے۔ نفسیاتی بیماری کی نشاندہی مشکل ہے۔ اس کی علامتیں بہت پیچیدہ ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ وہ کسی نفسیاتی مرض کے شکار ہیں جب کہ وہ اس میں جوجھ رہے ہوتے ہیں۔

جسمانی بیماری کا علاج ہم ادویہ کے ذریعہ کرتے ہیں جبکہ نفسیاتی بیماری کا علاج اکثر و بیشتر سائکو تھراپی سے کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ہم کسی ایسے طبیب کی مدد لیتے ہیں جو طب نفسی کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم ماہرین نفسیات سے بھی رجوع کرتے ہیں۔ وہ کچھ ادویہ تجویز کرتے ہیں لیکن اس میں اکثر و بیشتر مریض کا علاج سائکو تھراپی یا Behavioral تھراپی کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ طبیب نفسی کو ہم انگریزی میں Psychiatrist کہتے ہیں جب کہ ماہر نفسیات کو Psychologist۔ مختلف اقسام کے نفسیاتی یا ذہنی امراض ہوتے ہیں۔ یہاں میں ایک خاص قسم کی ذہنی بیماری یعنی اوتھیلو سنڈروم ”Othello Syndrome“ کا ذکر کروں گا۔

میں شکر گزار ہوں اپنے سینئر دوست ڈاکٹر زاہد ندیم کا جنہوں نے اس اصطلاح کے بارے میں مجھے بتایا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس پر ایک مکمل مضمون تحریر کروں گا۔ اسی وعدہ کو وفا کرتے ہوئے میں نے یہ مصمون لکھا ہے۔

اوتھیلو سنڈروم کو ہم پیتھالوجیکل جیلسی (Pathological Jealousy) موربڈ جیلسی (MorbidJealousy) اورڈیلوژنل جیلسی

(Delusional Jealousy) کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ اگر آپ اس کی تعریف وکیپیڈیا میں دیکھیں تو پیتھالوجیکل جیلسی کے تحت اس کی تعریف اس طرح کی گئی ہے :

“Pathological jealousy, also known as Morbid jealousy, Othello syndrome or delusional jealousy, is a psychological disorder in which a person is preoccupied with the thought that their spouse or sexual partners is being unfaithful without having any real proof, along with socially unacceptable or abnormal behaviour related to these thoughts.

مذکورہ بالا تعریف سے یہ معنی نکلتا ہے کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں بنا کسی ثبوت و شواہد کے انسان کے ذہن میں یہ خیال پہلے سے گھرکر چکا ہوتا ہے کہ اس کی شریک حیات یا جنسی دوست اس کے ساتھ وفاداری نہیں کر رہا ہے۔ اس بیماری میں سماجی طور پر ناقابل قبول اور خلاف معلوم برتاؤ کا سرزد ہونا اس کا حصہ ہے۔ اس بیماری میں شوہر کو بیوی کے تئیں یہ بدگمانی ہوتی ہے کہ اس کی بیوی کے جنسی مراسم کسی دوسرے مرد سے ہیں۔ اسی طرح بیوی کو اس بات کا شک ہوتا ہے کہ اس کے خاوند کے جنسی تعلقات کسی دوسری عورت سے ہیں۔

اوتھیلو سنڈروم ”کی اصطلاح در اصل شیکسپیئر کے ڈرامہ“ اوتھیلو ”سے ماخوذ ہے۔ شیکسپیئر نے یہ ڈرامہ تقریبا 1603 کے آس پاس لکھا تھا۔ اس میں دو اہم کردار ہیں ایک“ اوتھیلو ”اور دوسرا اس کی بیوی دیسدیمونا (Desdemona) ۔ ایاگو (Iago) اس کا ایک منفی کردار ہے جو اوتھیلو کو پسند نہیں کرتا ہے۔ وہ اوتھیلو کی شادی شدہ زندگی برباد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اوروہ اوتھیلو کو اس بات پر یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ اس کی بیوی دیسدیمونا کے لیفٹننٹ میکائیل کاسیو (Michael Cassio ) کے ساتھ غلط مراسم ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ڈرامہ کے آخر میں اوتھیلو اپنی بیوی کا قتل کر دیتا ہے۔

”اوتھیلو سنڈروم“ کی اصطلاح پہلی بار ایک انگریزی سائکارٹسٹ جان ٹوڈ John Todd نے 1955 میں اپنے ایک مضمون ( ”The Othello syndrome: A study in the Psychopathology of Sexual Jealousy“ ) میں کیا تھا۔ بعد کے محققین نے اوتھیلو سنڈروم اور پیتھالوجیکل جیلسی کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے یہ بتایا کہ اس میں Deception کی کارفرمائی ہے نہ کہ Delusion کی۔ اس تفریق اور تحقیق کے باوجود بھی یہ سب ایک ہی نام سے جانے جاتے ہیں۔

اوتھیلو سنڈروم یا پیتھالوجیکل جیلسی کی علامات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس نفسیاتی بیماری میں مبتلا انسان ہر وقت پریشان اور ذہنی کرب میں رہتا ہے۔ وہ اپنے پارٹنر کی ہر حرکت و عمل پر نظر رکھنے لگتا ہے۔ کچھ خاص علامتوں کی نشاندہی اس طرح کی جا سکتی ہے :

اپنے پارٹنر پہ یہ الزام لگانا کہ وہ کسی اور کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے / رہی ہے۔
وقفہ وقفہ سے موبائل فون چیک کرنا اور یہ دیکھنا کہ کس کی کال آئی اور کس کا میسج آیا۔

سماجی رابطے کی سائٹس جیسے فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ چلانے کی اجازت نہیں دینا۔
ہمیشہ یہ پوچھتے رہنا کہ وہ کہاں ہے اور کس کے ساتھ ہے؟
اس کے رویہ پر سوال کرنا۔

دوست و احباب اور رشتہ داروں سے دور رکھنا اور ملنے کی اجازت نہیں دینا۔
سماجی رابطے کو محدود کرنا۔
گھر سے باہر اس کی ذاتی پسند کی چیزوں کا خیال نہیں رکھنا۔

زبانی یا جسمانی زدوکوب کرنا۔
خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا۔
کسی بھی طرح کے الزام کے ذریعہ اپنے اس برتاؤ کو صحیح ٹھہرانا۔

مذکورہ بالا علامات کے پنپنے کی بنیاد کیا ہو سکتی ہے؟ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان اپنی ہی بیوی سے بدگمان ہونے لگتا ہے اور اس کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔ پیتھالوجیکل جیلسی ایک پیچیدہ احساس ہے۔ اس احساس کو بہت سے لوگوں نے دماغی خلل کا نام دیا ہے یعنی محض دماغی خلل کی وجہ سے اس طرح کی بدگمانی انسان کے دماغ میں جنم لیتی ہے۔ اس کو انگریزی میں Paranoia کا نام دیا گیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ریحان، جامعہ ملیہ، ہندوستان کی دیگر تحریریں
محمد ریحان، جامعہ ملیہ، ہندوستان کی دیگر تحریریں