اوتھیلو سنڈروم: شریک حیات کو بے وفا سمجھنے کی نفسیاتی بیماری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Paranoia میں انسان کو ہمیشہ یہ گمان رہتا ہے کوئی دوسرا آدمی اچھا ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ بار بار اپنی بیوی یا جنسی دوست سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ اس نے دن کہاں گزارا اور کس سے بات کی؟ وہ اس احساس میں مبتلا ہوتا رہتا ہے کہ کچھ بھی اچھا نہیں ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی پر پابندی لگانا شروع کر دیتا ہے۔ اس کے دل میں یہ شک پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیٹھ پیچھے کسی اور سے بات کرتی ہے۔ یہ غلط فہمی اس کے دماغ میں بیٹھ جاتی ہے کہ اس کی بیوی اس میں دلچسپی نہیں لے رہی۔ اس کا دل و دماغ اس طرح کے منفی خیالات کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

محبت کی بنیاد پر بھی یہ بدگمانی کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔ ایسی محبت کہ جس میں انسان اپنی بیوی پر پوری طرح قابض ہو جانا چاہتا ہے۔ اس کی پسند کا خیال نہیں رکھتا۔ اس کی ذاتی زندگی بہت تنگ کردی جاتی ہے۔ اس طرح کی محبت Complete Possession کے دائرے میں آتی ہے۔ اس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبوب بہت زیادہ حسین اور خوبصورت ہے۔ کوئی بھی اسے دیکھ لے تو اس کے حسن میں گرفتار ہو جائے۔ دراصل یہاں یہ ڈر ذہن میں ہوتا ہے کہ کہیں وہ اسے کھو نہ دے۔

اس طرح ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو Insecure محسوس کرتا ہے۔ وہ خود کو دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو مقابل نہ پاکر بدگمان ہونے لگتا ہے۔ اس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ بیوی زیادہ خوبرو ہے اور وہ اس کے مقابلے کچھ بھی نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بہتر مرد اس کو ملے اور وہ اس کے ساتھ فرار ہو جائے۔ اس کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ اس کا پارٹنر اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ اس ڈر کے نتیجے میں بدگمانی کا پیدا ہونا لازمی ہے۔

اس صورت میں وہ بیوی پر مکمل قابض ہونے کی کوشش کرتا ہے کہ کہیں وہ پھسل نہ جائے۔ اس کی ذاتی زندگی کا خیال نہیں رکھتا۔ وہ اس پر پوری طرح مسلط ہو جانا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک غیر فطری رویہ ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آپ شوہر ہوں یا بیوی دونوں کی اپنی ایک ذاتی زندگی ہے۔ اس میں ہونے والی مداخلت کو دونوں میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔ کچھ وقت خالی رہنے دینا ضروری ہے جس میں وہ اپنے طریقے سے جی سکیں۔ ایک اسپیس بنائے رکھنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو انجوائے کر سکیں۔ لیکن شوہر ایک نفسیاتی بیماری کا شکار ہے۔ وہ بیوی پر پوری طرح مسلط ہے۔ اس غیر فطری رویہ پر اگر بیوی کا رد عمل ہوتا ہے تو شوہر کی بدگمانی کو مزید تقویت ملتی ہے۔

اس نفسیاتی بیماری میں میاں بیوی دونوں کا سکون جاتا رہتا ہے۔ شوہر ہر وقت پریشان اور بے چین رہتا ہے۔ وہ تلاش معاش میں خود گھر سے باہر نکلتا ہے لیکن اس کا ذہن گھر کی طرف دوڑتا ہے۔ ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ گھر پر یہ سوچ کر اچانک دستک دیتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں کوئی اور اس کے گھر پر تو نہیں آیا۔ وہ گھر سے باہر بھی ہوتا ہے تو رہ رہ کر بیوی کے نمبر پہ کال کرتا ہے۔ دراصل وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ کسی سے بات تو نہیں کر رہی۔

ادھر شوہر کی عجیب و غریب حرکت سے بیوی کا ذہنی سکون چھن جاتا ہے۔ اسے خوف ہوتا ہے کہ کوئی غیر متوقع بات نہ ہو جائے۔ کیونکہ اس نفسیاتی بیماری میں انسان کے ذہن خودکشی کے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ بیوی کے لیے ہمیشہ خطرہ بنا رہتا ہے۔ اسے ذہنی اذیتیں دی جاتی ہیں۔ والدین کے درمیان اگر سب کچھ خوشگوار نہیں ہوتا تو بچے بھی مثبت فکر کے حامل نہیں ہوتے۔ گھر میں ماں باپ کے درمیان ہونے والی نوک جھونک سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ممکن ہے بچہ بھی بڑا ہوکر باپ کے نقش قدم پر چل پڑے۔ ویسے بھی ڈاکٹر اورسائیکائٹرسٹ کا مشورہ ہے کہ نفسیاتی مرض میں مبتلا انسان کو بچہ پیدا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کی پرورش کے لیے جو ماحول چاہیے ہوتا ہے وہ نہیں مل پاتا۔ وہ بچہ بھی ذہنی طور پر کمزور یا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہو جائے گا جس کے والدین کسی نفسیاتی مرض مبتلا ہوتے ہیں۔

بعض نفسیاتی بیماریاں موروثی ہوتی ہیں وہ بچوں کو پیدائشی طور پر متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر یہاں پہ سقراط کی تقریبا 2500 سال پہلے کہی ہوئی یہ بات نقل کروں تو بے جا نہ ہوگا کہ جسمانی اور نفسیاتی مریضوں کو رومانوی تعلقات کی اجازت تو ہونی چاہیے لیکن بچے پیدا کرنے کی نہیں تاکہ ایک صحتمند ریاست میں صحتمند بچے ہی پیدا ہوں۔

یہاں ایک دلچسپ تحقیق کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ بعض محققین کا ماننا ہے کہ تخلیقیت Creativity اور دیوانگی Insanity کی جینز ایک ہی ہیں۔ اس لیے ان محققین کا کہنا ہے کہ ذہنی مریضوں کے خاندان میں دانشور، شاعر اور ادیب عام خاندانوں کی بنسبت زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی اگر ان کی بات مان لی جائے تو ہمیں یہ مان کر چلنا ہوگا کہ اگر کسی کا تعلق ذہنی طور پر بیمار خاندان سے ہے اور وہ بچے پیدا کرتاہے تو اس کے بچے دیوانے بھی ہو سکتے ہیں یا صاحب دیوان شاعر و ادیب۔

بہرکیف! یہ نفسیاتی بیماری کسی مہلک جسمانی مرض سے کم نہیں۔ جسمانی مرض میں ایک انسان متاثر ہوتا ہے جبکہ نفسیاتی مرض میں ایک پورا خاندان تباہ ہو جاتا ہے۔ اس کے منفی اثرات آگے آنے والی نسلوں پر بھی پڑتے ہیں۔

ہم ابھی جس طرح کے ماحول میں جی رہے ہیں اس میں انسان جسمانی مرض کا شکار کم اور نفسیاتی مرض میں زیادہ گرفتار ہو رہا ہے۔ ہمارے یہاں یہ یہ مرض زیادہ ہے لیکن اول تو اس کی علامات کا علم نہیں ہو پاتا۔ اگر ہوتا بھی ہے تو وہ اسے کوئی بیماری تصور نہیں کرتے۔ اگر اوتھیلو سنڈروم میں گرفتار بھی ہے تو وہ اس کو دبائے رکھتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ بہت پیچیدہ ہے۔ وہ علاج کرانے اس ڈر سے نہیں جاتا کہ لوگ اسے پاگل کہنا شروع کردیں گے۔

ڈاکٹر خالد سہیل کینیڈا میں مقیم ایک مشہور ومعروف سائیکائٹرسٹ اور ماہر نفسیات ہیں۔ وہ اردو اور انگریزی دونوں زبان میں مضامین بھی لکھتے ہیں۔ اپنے مضامین میں وہ اکثر یہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کے پاس مختلف لوگ مختلف نفسیاتی بیماری کا علاج کرانے آتے ہیں۔ کسی شوہر کی بیوی سے نہیں بنتی، کسی بیوی کو شوہر سے شکایت ہوتی ہے، کسی بیٹی کو اپنے باپ کے گھر جانا پسند نہیں، کسی آدمی کو اس کے آفس کے لوگوں سے گلہ ہوتا ہے۔

یہ سب کسی نہ کسی نفسیاتی مرض کے تحت ہوتا ہے۔ اس طرح کی شکایت لے کر ہزاروں لوگ ان کے پاس تھراپی کے لیے آتے ہیں۔ ان کی تحریر پڑھ کے مجھے اندازہ ہوا کہ جس طرح جسمانی بیماری سے لوگ پریشان ہیں اس سے کہیں زیادہ لوگ نفسیاتی بیماری سے پریشان ہیں۔ نفسیاتی بیماری میں سب سے عام بیماری Depression ہے جو ہمارے یہاں بھی بہت کومن ہے۔ ہمارے یہاں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ عام طور پر لوگ نفسیاتی بیماری کو سمجھ نہیں پاتے اس لیے اس کا علاج بھی نہیں ہو پاتا۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ نفسیاتی مرض جسمانی مرض سے زیادہ مہلک ہوتا ہے۔ خاص طور پر جس بیماری کا ذکر میں نے کیا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں ایک پورا گھرانہ ختم ہو جاتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ لا علاج مرض نہیں ہے۔ بڑے سے بڑے سائیکائٹرسٹ موجود ہیں جو سائکو تھراپی کی مدد سے اس مرض سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی اوتھیلو سنڈروم یا پیتھالوجیکل جیلسی کا شکار انسان جاتا ہے تو وہ شروع میں Antidepressant یا Antipsychotic کوئی دوا دیتے ہیں ساتھ ہی ساتھی میاں بیوی کی سائکو تھیراپی کرتے ہیں۔ اس میں پوچھ تاچھ کے ذریعہ ان کی ذہنی آلودگی کو دور کیا جاتا ہے۔

اس مضمون کے لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم جس طرح جسمانی مرض کو لے کر فکرمند رہتے ہیں اسی طرح ہمیں نفسیاتی بیماری کو لے کر بھی محتاط رہنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد ریحان، جامعہ ملیہ، ہندوستان کی دیگر تحریریں
محمد ریحان، جامعہ ملیہ، ہندوستان کی دیگر تحریریں