بلند اقبال کا ناول ”ٹوٹی ہوئی دیوار”: نفسیاتی اور نظریاتی تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


(یہ میرے ایک تجزیاتی مضمون کا خلاصہ ہے جو دو سال قبل کینڈا میں مقیم ڈاکٹر بلند اقبال کی ناول‘‘ٹوٹی ہوئی دیوار’’کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔ اس دن ان کے والد حمایت علی شاعر کی سالگرہ کا جشن بھی منایا گیا جو ایک محبتی اولاد کا اپنے عظیم والد کے لیے عقیدت کا اظہار تھا۔ یہ ناول بلند اقبال کی انسان دوستی، امن پسندی اور دوراندیشی کا بولتا ثبوت اور ان کی والد کی سکھائی قدروں کا امین بھی ہے جو بلند اقبال کو ورثہ کی صورت ودیعت ہوئیں۔ مجھے اس مضمون کی اشاعت کا خیال حمایت علی شاعر صاحب کی رحلت کے حوالے سے آیا۔ ۔ ۔ ۔ مصنفہ :گوہر تاج)

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے بلند اقبال کے ناول’’ٹوٹی ہوئی دیوار’’ پہ کچھ لکھنے کا موقع ملا جو ہمارے پر آشوب عہد کے المیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ناول جغرافیائی، تا ریخی، سماجی اور ثقافتی اعتبار سے مختلف ممالک پاکستان، افغانستان اور کینیڈا کے زمینی پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ برخلاف ان اسلامی ممالک پاکستان اور افغانستان کے کینیڈا ایک سیکولر ملک ہے جس کی سرزمین نے ساری دنیا سے آئے ہوے مختلف مذاہب، قومیت اور رنگ و نسل کے مہاجرین کو اپنی گود میں پناہ دی اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق بھی دیا۔ اس حوالے سے اس ناول میں بیان کردہ مختلف کہانیاں گویا ایک تقابلی جائزہ ہیں، جو قاری کو محدود سوچ کے دائرہ سے باہر نکلنے پہ اکساتی ہیں۔
بلند اقبال کے ناول ـ’’ٹوٹی ہوئی دیوار ـ‘‘میں تین مختلف ممالک( پاکستان ، افغانستان اور کینیڈا) کی کہانیوں کے جن کرداروں کو تین نسلوں کی علامت کے طور پر بیان کیا گیا، وہ بحیثیت سوشل ورکر اور تھرپسٹ میرے لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سب سے کم عمر اور جدید نسل کا نمائندہ کردار نو سالہ عثمان کا ہے جو پاکستان کے شہر کراچی کی بستی فیصل کالونی میں رہتاہے۔ دوسرا کردار احمدی مسلمان لڑکی ثانیہ کا ہے جو اس نوجوان نسل کی نمائندگی کر رہی ہے جن کے والدین نے جنوبی ایشیاء کے ممالک سے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اورکینیڈا جیسے ممالک میں نقل مکانی کی۔ ثانیہ کے والدین مسی ساگا، کینیڈا میں آ بسے تھے اور ثانیہ باوجود مغرب میں پیدا ہونے کے متضاد تہذیبوں سے متصادم ہے۔ جبکہ تیسرا کردار کابل افغانستان کے پروفیسر واحدی کا ہے جو غیر ملکی سطح پر اپنے مضامین اور روشن خیالی کے حوالے سے معتبر دانشور کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔
ہماری پہلی نسل کا نمائندہ کردار عثمان پہلے باب سے کہانی میں داخل ہوتا ہے اس طرح پاکستان کا معاشرتی پس منظر کہانی کی بنیاد ہے اور باقی ممالک کی کہانیاں اس طرح شامل ہوتی ہیں جیسے کسی فلم کے پردہ سکرین پر مناظر بدلتے رہتے ہیں۔ پہلا منظر شدت پسند مذہبی جنونی الیاس کا ہے۔ جو عثمان کا باپ ہے اور دہشت اور تشدد پسندی کی ایک تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ منظر ناموسِ رسالت کی توھین کی بنیاد پر ایک غیر مسلم کو زندہ جلا دینے کا منظر ہے جہاں الیاس بغیر کسی احساسِ جرم کے کہتا ہے۔ دین کا معاملہ تھا میری جانی دشمنی نہیں تھی اس’’ حرام کے تخم‘‘ سے اور پھر غصے میں ادریس نے زمین پر تھوک دیا۔ ’’دیکھ بھائی ایک بات سن لے۔ حرمتِ رسول پر ہماری جان بھی قربان ہے۔ ‘‘


زندہ تڑپتے انسان کو بالآخر دھواں نکلتی مردہ لاش میں تبدیل ہونے کا بھیانک منظر اور باپ کی درندگی کا یہ کریہہ عمل، عثمان خوف اور دہشت کے عالم میں ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے دیکھتا ہے جو شدید ٹراما کی صورت اس کے ننھے سے وجود سے چمٹ کر پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر(PTSD) کے آسیب کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ جو ذہنی بیماری کی وہ کیفیت ہے کہ جس میں شدید ٹراما، خوف، ہیجان، شدید اداسی اور متلی پیدا کرتا ہے اور ٹراما کے مناظر بار بار خواب میں آ کر نیند سے جگاتے ہیں۔ اس طرح یہ کیفیت مریض کے اعصاب کو مفلوج اور شل کر دیتی ہیں کیونکہ اسے یہ لگتا ہے کہ وہ واقعہ بار بار حال ہی میں ہو رہا ہے۔ عثمان کہتا ہے۔
” نہیں اماں میں کچھ نہیں کھاؤں گا مجھے متلی آتی ہے۔ نہیں اماں نہیں۔ ”
عثمان اچانک سے چیخنے لگا۔ ابا کو نہیں بلانا مجھے ڈر لگتا ہے۔ عثمان پھر چیخنے لگا اور بڑی سی اُبکائی کے بعد چھوٹی سی الٹی کر دی۔
یہاں عثمان ان تمام بچوں کی نمایندگی کر رہا ہے جنہیں اس قسم کے تشدد کا سامنا ہے۔ کم عمری سے مذہبی جنونیت کا سبق لیتے ہوئے بچوں کی نفسیاتی کیفیت اور ان کے مستقبل پہ اس کے اثرات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق سالانہ پندرہ سال سے کم عمر کے چالیس ملین بچے کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا شکار ہیں۔ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں کہ جن پر ظلم تو نہیں ہوا مگر انہوں نے تشدد ہوتے دیکھا۔ اٹھارہ ملین تو وہ بچے ہیں جو جنگوں کی زد میں پل رہے ہیں۔
پی ٹی ایس ڈی(PTSD) سے گزرنے والوں میں ڈیپریشن اینزائٹی، خود اذیتی، خود کشی کے امکانات، نشہ آور ادویہ کا استعمال اور پرسنیلٹی ڈس آرڈر کے علاوہ اعتماد کی کمی اور فکر کے ارتکاز میں فقدان کا احتمال صحت مند بچوں کی نسبت زیادہ ہوتاہے۔ سائنس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ یہ کیفیات اگلی نسل میں بھی منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس تکلیف دہ صورتحال کا اندازہ لگانا بھی اذیت کن ہے کہ اس قسم کی تشدد آمیزی اور نفرتوں سے موسوم فضا میں پلنے والی ہماری اگلی نسل کا مستقبل کتنا بیمار اور تاریک ہو سکتا ہے تاہم عثمان کا مسلسل الٹیاں کرنا اور نیند کے عالم میں اس خوفناک منظر کی نفی کرنا اس بات کی علامت بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہماری اگلی نسل اس نفرت اور بہیمانہ رویہ کو قبول کرنے کی روادار نہیں جو پچھلی نسل اپنی کم علمی، تنگ نظری اور جہالت کی بنا پران پر لاد رہی ہے۔ وہ ان آلودہ سوچوں کو اپنے وجود میں نہیں اتارنا چاہتی۔
ناول میں دوسرا اہم کردار ثانیہ کا ہے جو مغرب میں بسنے والے مہاجرین گھرانے کی نسل کی نمایندگی کر رہا ہے یہ نسل مغرب اور مشرق کی دو متضاد ثقافتوں اور اقدار میں پل رہی ہیں۔ گھر میں محدود مشرقی سوچ ہے تو باہر مغربی تمدن کہ جہاں انٹرنیشنلزم حاوی ہے، گلوبل ورلڈ کہ جہاں مختلف مذاہب، قومیتوں، رنگ و نسل اور زبانوں کے لوگ اور شعور کی بنیاد پر منقسم تاہم دونوں ایک ساتھ ہی رہیں گے، شادی کریں گے،لہذا ثانیہ جو کہ ایک سکھ لڑکے سے محبت میں مبتلا ہے اور شادی کرنا چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ہم دونوں ایک دوسرے سے شادی کریں گے وہ یونہی سکھ اور میں یونہی احمدی مسلمان‘‘۔ دوسری طرف مما نے سن کر ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا ’’اور کل جو تمہارے بچے ہوں گے وہ؟‘‘ ثانیہ نے اتنے ہی سکون سے جواب دیا’’ وہ اپنے مذہب اور قومیت کا فیصلہ بالغ ہونے کے بعد اپنے علم اور شعور کی روشنی میں کریں گے۔ ‘‘
اس دکھ بھرے جہاں میں کوئی کہاں رہے
گرجا ہو، گوردوارہ ہو، مندر ہو یا حرم
جس کو جہاں سکون ملے وہ وہاں رہے
(حمایت علی شاعر)
تیسرا اہم اور نفسیاتی طور پر مثبت اور مضبوط کردار پروفیسر واحدی کا ہے۔ جو کابل یونیورسٹی کا پولیٹیکل سائنس کا استاد ہے۔ پچاس سال کی عمر سے زیادہ ہے گویا عمر کی دو تہائی گزار چکا ہے۔ سیکولر مزاج پروفیسر واحدی نے اپنی سچائی اور حق گوئی کی بنیاد پر انٹرنیشنل پریس میں تو اپنی جگہ بنائی مگر افغانستان کے ان پچاس بااثر صحافیوں کی لسٹ میں بھی شامل ہے کہ جن کو طالبان کی طرف سے فون پر مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ شعور کی تبدیلی کا عمل فکری ارتقاء سے ہے جس کی کمی محض تنگ حالی کو دور کرنے سے پوری نہیں ہوتی بلکہ سائنسی انداز فکر اور مشاہداتی و تجرباتی تبدیلیوں سے مکمل ہوتی ہے۔
خود آگہی نہ جدت فکر و نظر ملی
وہ قوم آج بھی پرستارِ چاند ہے
جس قوم کو روایتِ شقِ قمر ملی
(حمایت علی شاعر)
واحدی نے پوری زندگی شادی نہیں کی۔ اس کی محبوبہ صوفیہ مختلف اسلامی مسلک سے تعلق رکھتی تھی۔ جس کو خود اس کے بھائیوں نے اس کی محبت کی سزا موت کی صورت میں دی۔ واحدی کے والدین کی بھی اس مذہبی جنونیت نے جان لے لی تھی لیکن واحدی ان تمام منفی تجربات کے باوجود اسے انسانوں سے اور علم سے محبت کا جنون ہے۔ وہ غیر روایتی انداز میں پڑھانا اور اپنے شاگردوں کو سوال کرنے پر اکسانا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قومیت اور مذہب کے تصورات انسانی ضرورتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ تصورات معاشیات یا اقتصادیات کے سہارے پرورش پاتے ہیں۔ (صفحہ: 45)
مصنف نے واحدی کے کردار کے توسط سے افغانستان کی تاریخ کے اوراق پلٹ کر ان تمام عوامل کا گہرا جائزہ اور تجزیہ کیا ہے۔ جو موجودہ صورتحال کا سبب ہیں۔ اس اعتبار سے میں بلند اقبال کو ایک محقق اور غیر معمولی فکر رکھنے والا سائنسدان قرار دیتی ہوں جس نے پوری عرق ریزی سے کی گئی تحقیق اور جراتمندی سے تمام حقائق اور سوالات سے اپنے قاری کو سوچنے پر مجبور کیا، اگر معاشرہ اقتصادی طور پر کمزور ہے اور وہاں پر آباد لوگ جدید علم سے بے بہرہ اور شعوری اعتبار سے صدیوں پیچھے ہیں تو اس کی کمزور اخلاقیات انہیں تشدد پر آمادہ کردیتی ہے۔ یہ تشدد ایک ایسا مخصوص (Vicious Cycle) پیدا کرتا ہے جس میں پھنس کر پہلے کمزور اخلاقیات اور پھر پرتشدد نسلیں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ یوں وہ تہذیب اجتماعی خودکشی کے ذریعے ہلاک ہو جاتی ہے۔ واحدی کی نظر میں سچ سے آگہی کے لئے ہمیں صدیوں سے تعمیر اسلامی اذھان میں قائم اس مصنوعی دیوار کو اپنی شعوری کوشش سے پوری طرح توڑنا ہو گا جو اس فرق کو پیدا کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ہمیں روحانیت اور مذہب یا وطنیت اور قومیت کے درمیان پیدا شدہ سیاسی اور معاشی عزائم کو سمجھنا ہو گا کیونکہ یہ عزائم نادانستگی یا دانستگی میں محبت میں نفرت کی آمیزش کا سبب ہیں۔
ناول کا آخری باب بھی پاکستان میں ہونے والے ایک پرتشدد واقعہ کی منظر کشی کرتا ہے۔ جب احمدی باپ بیٹے کو مارا جاتا ہے اور درد سے کراہتے انسانوں کو ہسپتال لے جانے کی بجائے لوگ سیل فون سے ان کی وڈیو بناتے رہے۔ جبکہ عثمان اور اس جیسے کئی اور بچے ٹوٹی ہوئی دیوار کے پیچھے چھپ کر خوف اور وحشت سے اس سارے تماشے کو دیکھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔ یہ دردناک منظر اس بات کی دلیل ہے کہ کس طرح فرد اور گروہ کی نفسیات قوموں کی اجتماعی سائیکی کو متاثر کرتی ہے اور وہ کس طرح ہمارے فکری اظہار اور روئیے سے منعکس ہوتی ہے۔ بلند اقبال نے ایسے ہی واقعات اور مکالموں سے بے شمار اہم نکات اٹھائے ہیں اور فکر کی دعوت دی ہے تاکہ ہم اپنے حال کو بدل کر مستقبل کو تابندہ کر سکیں۔
کیا راز ہے پوشیدہ پسِ پردہ تقدیر
اس دور کے انسان کی تدبیر کہے گی
(حمایت علی شاعر)
یہ عین ممکن ہے کہ اس نظریاتی ناول سے بہت سے لوگ اتفاق نہ کریں یا ادب برائے ادب کے ماننے والے ادبی محاسن کی کمی کا رونا روئیں لیکن مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اس کو پڑھنے والے ان کی انسان دوستی، حق گوئی، تحقیقی اندازِ فکر اور جرات مندی کے متفقہ طور پر قائل ہوں گے۔ بلند اقبال کا ناول ”ٹوٹی دیوار ” ہمارے عہد کی اعلیٰ عکاسی کرتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •