اپنی پرانی محبوبہ کے نئے محبوب سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ نے کبھی محبت کی ہے؟

کیا آپ نے کبھی کسی کو ٹوٹ کر چاہا ہے؟

کیا آپ محبت کی آزمائشوں سے واقف ہیں؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ محبت کا سب سے بڑا امتحان کیا ہو سکتا ہے؟

آئیں آج میں اس امتحان کے بارے میں آپ کو کچھ بتاؤں لیکن اس سے پہلے آپ کو میری پوری کہانی سننی پڑے گی۔

میری ملاقات بے ٹی ڈیوس سے ان دنوں ہوئی جب میں ’آج سے چالیس سال پیشتر‘ نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کینیڈا آیا تھا۔ بے ٹی ڈیوس اور میں نیوفن لینڈ کے ایک ہی ہسپتال میں اکٹھے کام کرتے تھے۔ وہ نرس تھیں اور میں ڈاکٹر تھا لیکن ہم دونوں کو سائیکو تھیریپی سیکھنے کا بہت شوق تھا اس لیے ہم جلد دوست بن گئے۔ انہوں نے مجھے مغربی دنیا سے اور میں نے انہیں مشرقی دنیا سے متعارف کروایا۔

چار سال کی تعلیم حاصل کرنے اور نفسیات میں FRCP حاصل کرنے کے بعد میں اس شہر اور صوبے سے چلا گیا لیکن ہماری دوستی قائم رہی۔ ہم ایک دوسرے کو کارڈ بھیجتے ’خط لکھتے‘ فون کرتے اور زندگی کے مسائل کے بارے میں مشورے کرتے۔

بہت سی مشرقی اور مغربی عورتوں کی طرح بے ٹی ڈیوس کو بھی ماں بننے کا بہت شوق تھا۔ وہ زندگی میں تین مرتبہ حاملہ ہوئیں لیکن ہر دفعہ ان کا اسقاط ہو گیا۔ آخر 1990 میں وہ رومینیا گئیں اور انہوں نے ایک دو ہفتے کی بچی کو گود لے لیا کیونکہ اس کی ماں اس کا خیال نہ رکھ سکتی تھیں۔ بے ٹی نے اس بچی کا نام ایڈرئینا رکھا اور بڑی محبت سے اس کی پرورش کی۔ جب میری ایڈرئینا سے ملاقات ہوئی تو اس کی عمر بارہ برس تھی۔

جب کئی برس بعد 2001 میں میری ملاقات بے ٹی ڈیوس سے دوبارہ ہوئی تو میں نے مشورہ دیا کہ ہمیں اپنی دوستی کو ایک قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ بے ٹی کو میرا مشورہ پسند آیا اور وہ 2003 میں ایڈرئینا کو لے کر ٹورانٹو آ گئیں اور ہم دو دوست دو محبوب بن گئے۔ وہ میرے ساتھ کلینک میں کام بھی کرنے لگیں اور ہم نے مل کر نفسیات اور سائیکو تھیریپی پر کتابیں بھی لکھیں۔

ان ہی دنوں میری بہن عنبرین کوثر ’بہنوئی ارشاد میر اور میری بھانجی وردہ میر مجھ سے ملنے پاکستان سے کینیڈا آئے۔ وردہ میرے پاس رہنا چاہتی تھیں اس لیے عنبر اور ارشاد وردہ کو میرے پاس چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔

اس بار بے ٹی ڈیوس نے مشورہ دیا کہ ہم چاروں مل کر رہیں۔ ایڈرئینا کو ایک پاکستانی باپ اور وردہ کو ایک کینیڈین ماں مل جائے گی۔ چنانچہ ہم نے ایک گھر خریدا اور ہم چاروں مل کر رہنے لگے۔

پھر وردہ کی شادی ہو گئی اور وہ اپنے شوہر سلمان کے ساتھ رہنے لگیں۔ ایڈرئینا نے نفسیات میں بی اے کیا اور سوشل ورکر بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ میری بہت عزت کرتی ہیں اور مجھے FRIENDLY FATHER کہہ کر پکارتی ہیں۔

دو سال پیشتر بے ٹی ڈیوس نے مجھ سے کہا کہ ہم دونوں 65 برس کے ہو گئے ہیں اب ہمیں باقی کنیڈینز کی طرح ریٹائرمنٹ لے لینی چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں 65 برس کا ہو کر بھی 35 برس کا محسوس کرتا ہوں اور اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کی خدمت سے بہت لطف اندوز ہوتا ہوں اس لیے کلینک بند نہیں کرنا چاہتا۔ بے ٹی ریٹائر ہو کر کچھ عرصہ کیلیفورنیا میں رہنا چاہتی تھیں۔ کافی غور و خوض کے بعد ہم دونوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ ہم محبوب سے دوبارہ دوست بن جائیں اور ایک دوسرے کو رومانوی طور پر آزاد کر دیں۔

ایک دن میری ’بے ٹی ڈیوس اور ایڈرئینا کی میٹنگ ہوئی۔ میں نے ایڈرئینا سے کہا‘ بٹیا! تمہاری امی اور میں اب گھر بیچ رہے ہیں۔ اب ہم علیحدہ علیحدہ رہیں گے۔ آپ کس کے ساتھ رہنا پسند کریں گی؟ ’ایڈرئیا نے میری طرف دیکھ کر کہا‘ آپ کے ساتھ ’۔ میں نے بے ٹی کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا‘ مجھے کوئی اعتراض نہیں ’۔

چنانچہ ہم نے گھر بیچ دیا۔ میں نے ایک تین بیڈ روم کا کونڈومینین لے لیا۔ ایک کمرہ ایڈرئینا کے لیے۔ ایک کمرہ میرے لیے اور ایک کمرہ مہمانوں کے لیے۔

اب بے ٹی سردیوں کے چھ ماہ کیلیفورنیا میں رہتی ہیں اور گرمیوں کے چھ ماہ کینیڈا میں۔ ہم 24 برس دوست تھے 14 برس محبوب رہے اور اب دو برس سے دوبارہ دوست بن گئے ہیں۔ ہماری جدائی میں نہ کوئی غصہ تھا۔ نہ نفرت۔ نہ تلخ کلامی۔

چھ ماہ پیشتر بے ٹی نے مجھے بتایا کہ ان کی زندگی میں ایک نیا محبوب آیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ میں ایک دوست کی حیثیت سے ان کے محبوب سے ملوں۔ میں نے کہا میں سوچ کر بتاؤں گا۔ میں اس ملاقات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونا چاہتا تھا۔ میری نگاہ میں یہ ہماری محبت اور دوستی کا سب سے بڑا امتحان تھا۔ اخر پچھلے ہفتے میں نے بے ٹی سے کہا کہ میں اس ملاقات کے لیے تیار ہوں۔ میں نے اپنی پرانی محبوبہ اور اس کے نئے محبوب کو لنچ پر بلایا اور اس شخص سے ملا جو اب میری گزشتہ محبوبہ کے ساتھ رہتا ہے۔

وہ مجھ سے بڑے احترام سے ملا۔ کہنے لگا ’بے ٹی آپ کی بہت عزت کرتی ہیں۔ میں نے آپ کی کتاب FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM ایک دفعہ پڑھی ہے آج کل دوبارہ پڑھ رہا ہوں۔ میں آپ کی شخصیت اور فلسفہِ حیات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ یہ میرے لیے باعث ِ فخر ہے کہ آپ مجھ سے ملنے کے لیے رضامند ہوئے‘ ۔ ہم دونوں لنچ کھانے کے دوران کافی دیر تک مذہب ادب اور فلسفے پر تبادلہِ خیال کرتے رہے۔ میں ان کے خلوص سے بہت متاثر ہوا۔

رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے مجھے میری کتاب پیش کی اور درخواست کی ’کیا آپ اسے میرے لیے آٹوگراف کر سکتے ہیں؟ ‘ میں نے اپنی کتاب پر لکھا

FOR CHRIS۔ WHO IS A WISE MAN۔ SOHAIL

جاتے ہوئے کرس نے میرا شکریہ ادا کیا اور مجھ سے پوچھا ’کیا آپ اپنے آپ کو ایک فلسفی سمجھتے ہیں؟ ‘ میں نے کہا میں تو ایک طالب علم ہوں ایک دوریش ہوں اور نجانے کب سے دانائی کی تلاش میں نکلا ہوا مسافر ہوں۔

بے ٹی نے لنچ کے دوران بتایا کہ کرس کا تعلق بھی نیوفن لینڈ سے ہے۔ میں نے کرس سے کہا کہ میں نے بھی نیوفن لینڈ کی میموریل یونیورسٹی سے نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے۔ میں اس صوبے کے لوگوں کی سادگی اور مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوں۔

اب میں سوچتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بے ٹی۔ کرس۔ اور میرا۔ مل کر لنچ کرنا اور ایک دوسرے سے اس طرح عزت و احترام سے مکالمہ ملنا دوستی اور محبت کی کرامت نہیں تو اور کیا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ نے محبت کی ایسی کرامت پہلے کبھی دیکھی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 251 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail