کوٹ لکھپت جیل میں مریم نواز کی گرفتاری کی اندرونی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور نے چوہدری شوگر ملز سے منسوب مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں مریم نواز اور یوسف عباس کو گرفتار کر لیا۔ دونوں جمعرات کے  روز معمول کے مطابق دیگر اہل خانہ کے ہمراہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے لئے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے جہاں نیب کی ٹیم نے انہیں وارنٹ دکھا کر باضابطہ طور پر گرفتار کیا۔

تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے مریم نواز، یوسف عباس اور عبد العزیز عباس کو 8 اگست کو طلبی کے نوٹسز جاری کئے تھے۔ مریم نواز اپنے والد سے ملاقات کیلئے مختص دن کی مناسبت سے کوٹ لکھپت جیل پہنچیں۔ نیب کی ٹیم کی جانب سے کارکنوں کی مزاحمت سے بچنے کے لئے مِریم نواز کو جیل کے اندر گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور نیب کی گاڑیاں خصوصی اجازت کے بعد نواز شریف سے ملاقات والے کمرے تک پہنچیں۔

مریم نواز اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کر رہی تھیں کہ انہیں جیل حکام کی جانب سے نیب ٹیم کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ اس موقع پر شہباز شریف، نواز شریف کی نواسی ماہ نور صفدر، نواسہ جنید صفدر اور بھتیجا یوسف عباس بھی موجود تھے۔ نیب کی ٹیم میں شامل افسر اور ان کے ساتھ موجود لیڈی اہلکار مریم نواز کے پاس پہنچے اور گرفتاری دینے کا کہا۔ مریم نواز نے وارنٹ گرفتاری مانگے تو انہیں چیئرمین نیب کی جانب سے جاری کئے گئے وارنٹ دکھا دیئے گئے جس پر مریم نواز نے کہا کہ وہ نیب سے تعاون کر رہی ہیں تو ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کے احتجاج کے باوجود نیب کی ٹیم نے انہیں گرفتار کر لیا اور اس کے ساتھ ہی یوسف عباس کو بھی وارنٹ دکھا کر گرفتار کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اس موقع پر اپنی بیٹی مریم نواز کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ حکومت انتقامی کارروائیوں میں اس حد تک گر گئی ہے کہ اب ان کے خاندان کی خواتین کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز کی گرفتاری کے بعد ان کے ساتھ جانے والی ان کی ذاتی سکیورٹی گارڈز کی ٹیم کو جیل حکام کی جانب سے واپس بھجوا دیا گیا۔

مریم نواز کی گرفتاری کی اطلاع ملنے پر شریف خاندان سے اظہار یکجہتی کیلئے آنے والے کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ اس موقع پر کارکن جیل کی طرف جانے والے راستوں پر لگائی گئی رکاوٹیں زبردستی پیچھے ہٹا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے جس کی وجہ سے ان کی جیل اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔ کارکنوں کی جانب سے اس موقع پر احتجاجاً دھرنا بھی دیا گیا جبکہ کچھ کارکنوں نے احتجاجاً اپنے کپڑے بھی پھاڑ لئے۔ مِریم نواز کی گرفتاری کی خبر سن کر مسلم لیگی رہنما اور کارکن نیب ہیڈ کوارٹرکے باہر بھی پہنچ گئے اور حکومت اور نیب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •