مریم نواز کی گرفتاری اور حکومت کی کشمیر پالیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذرا اپنی چشم تصور سے یہ نظارہ دیکھیں کہ مریم نواز اپنے والد اور اس ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف سے ملنے کے لیے جیل میں موجود ہے اور اس وقت ان کی بیٹی بھی ہمراہ ہیں۔ ایسے میں نیب کے ہرکارے آتے ہیں اور مریم نواز کو گرفتاری کے وارنٹ دکھا کر حراست میں لے لیتے ہیں۔ کیا ایسا فعل کسی مہذب ملک یا جمہوری معاشرے میں ممکن ہے کہ قانون کے نفاذ کے نام پر دورِ جاہلیت کی روایات دہرائی جائیں۔ اس فسطائیت کا واحد مقصد یہی نظر آتا پے کہ ووٹ کو عزت دلوانے اور سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے والے نواز شریف کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرکے سر جھکانے پر مجبور کیا جائے۔

فسطائیت کے مارے ذہن یہی سوچتے ہیں کہ وہ ہر قانون اور ضابطے سے بالاتر ہو کر اپنے مخالفین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرکے انہیں اپنے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی کوتاہ بینی کے سبب اس تاریخی حقیقت کو دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں کہ اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمیشہ الٹ نتائج نکلتے ہیں اور کمزور سے کمزور شخص بھی اپنی عزت نفس کے لیے ظالم کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ یہاں تو ان کا مقابلہ اس شخص سے ہے جو ماضی میں اس سے بھی سخت حالات کا سامنا کر چکا ہے اور اس کی بیٹی نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جرات اور بہادری کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔

نیب نے مریم نواز کو جس بھونڈے انداز میں گرفتار کیا ہے یہ قانونی تقاضوں سے بھی کھلا تجاوز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب نے انہیں سہ پہر تین بجے پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا جبکہ نیب ٹیم انہیں گرفتار کرنے کے لئے ایک بجے ہی کوٹ لکھپت جیل پہنچ چکی تھی۔ ایسی کارروائیاں موجودہ کٹھ پتلی حکومت کی فرسٹریشن کو ظاہر کرتی ہیں کیونکہ جان بوجھ کر یا انجانے میں یہ کشمیر کے ایشو پر ایک ایسی صورتحال پیدا کر چکے ہیں کہ جس سے عہدہ برآ ہونے کا کوئی باعزت حل یہ ابھی تک تلاش نہیں کر سکے ہیں۔

ان وجوہات کے سبب قوم حکومت کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھا رہی ہے کیونکہ قوم کو بار بار یہ خوشخبری سنائی جاتی رہی ہے کہ تاریخ میں پہلی بار حکومت اور فوج ہر معاملے پر ایک پیج پر ہیں۔ ایسے میں عسکری قیادت یہ کہہ کر اپنا دامن بچا نہیں سکتی کہ وہ حکومت کے ہر فیصلے پر عمل درآمد کے لئے تیار ہے کیونکہ یہ اوپن سیکرٹ سب کو پتہ ہے کہ کون کس کے ماتحت ہے اور موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں کس کا کیا کردار ہے۔

کشمیر ایشو پر بھارت کی نئی چال کے بعد سے یہ حکومت اب تک سنبھل نہیں سکی ہے یا شاید اپنی لا ابالی طبعیت کے سبب انہیں اس قدر شدید عوامی ردعمل کا اندازہ نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نیم دلی سے بلایا گیا پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن حکومت کے لئے مزید شرمندگی کا باعث بنا اور اصل ایشو سے توجہ ہٹانے کے لیے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ساتھ ہتھ جوڑی کی صورتحال پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سابق مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو گرفتار کیا گیا اور پھر معاملات میں مزید بگاڑ پیدا کرنے کے لیے گھٹیا پن کی انتہا کرتے ہوئے مریم نواز کو نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر پابند سلاسل کیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ اس اقدام سے کشمیر کے محاذ پر کوئی آسانی پیدا ہو گی تو اس کا جواب نہیں میں ہے۔ آج اگر لوگ عمران خان اور ان کو لانے والوں پر کشمیر کا سودا کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ خود ہیں۔ الیکشن میں مودی کی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے انڈین پائلٹ ابھیندن کی فوری رہائی نے بنیادی کردار ادا کیا جبکہ اس دوران خود عمران خان یہ ڈھول پیٹتے رہے کہ مودی کی جیت سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

ہمارے کھلاڑی وزیراعظم یہیں تک محدود نہیں رہے بلکہ مودی کی تقریب حلف برداری میں شمولیت کی آرزو کا کھلے بندوں اظہار کرتے رہے اور جب دعوت نامہ نہیں ملا تو پھر مبارکباد دینے کی لگن میں ٹیلی فون سے جڑ کر بیٹھ گئے۔ کیا ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے وزیر اعظم کو یہ رویہ زیب دیتا تھا کہ وہ اپنے ازلی دشمن ملک کے وزیر اعظم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس حد تک جائے۔

ان حالات میں جب بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 ختم کیا گیا تو اگلے 24 گھنٹے گزرنے تک وزیراعظم کوئی واضح بیان یا پالیسی دینا تو دور کی بات ہے ایک ٹویٹ بھی نہیں کر سکے۔ اس دوران موصوف ”محکمہ زراعت“ کے زیر اثر قوم کو شجر کاری کے فوائد گنواتے رہے۔ اگلے دن جب اپوزیشن کے احتجاج کے باعث انہیں با امر مجبوری پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں آ کر پالیسی بیان دینا پڑا تو ان کی اپنی تقریر تضادات کا مجموعہ تھی۔ کوئی واضح لائحہ عمل پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے کی بجائے پہلے انہوں نے آر ایس ایس کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور پھر یہ کہہ کر پلو جھاڑ لیا کہ ”اگر ہم جنگ ہار گئے تو پھر کیا ہو گا“ لڑے بغیر ہتھیار ڈالنا اور کسے کہتے ہیں؟

ان کی نا امیدی یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے بعد بھی ترنت کھڑے ہو کر یہ پوچھے بغیر نہ رہ سکے کہ ”کیا میں ہندوستان پر حملہ کر دوں؟ “ دنیا میں شاید ہی کسی ایٹمی طاقت کے حامل ملک میں ایسی ”نابغہ روزگار“ قیادت پائی جاتی ہو گی۔ شہباز شریف کی تقریر کے دوران بھی موصوف جس ذہنی کرب میں مبتلا تھے وہ ان کے چہرے اور حرکتوں سے عیاں تھا۔ بعدازاں جب بلاول بھٹو تقریر کے لئے کھڑے ہوئے تو وزیراعظم صاحب قلانچیں بھرتے پارلیمنٹ سے رخصت ہو گئے کہ جیسے پتہ نہیں مملکت کا کون سا کاروبار ان کی غیر موجودگی کہ سبب رکا ہوا تھا۔

اس کے بعد بھی پارلیمنٹ کا سیشن دو دن تک جاری رہا لیکن ہمارے سلیکٹڈ وزیراعظم کو اس میں آمد گوارا نہ ہوئی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں اور اس امر کی پردہ پوشی کے لئے پارلیمنٹ کو اپوزیشن کی بے توقیری کا اکھاڑہ بنا لیا جاتا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کو کیا الزام دیا جائے جب خود حکومتی وزرا بردباری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اپوزیشن کو اشتعال دلانے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہوں۔ اس پالیسی کے پیچھے شاید یہ سوچ کارفرما ہے کہ اپوزیشن کو اتنا زچ کیا جائے کہ وہ اس سارے عمل کا ہی بائیکاٹ کر دے تاکہ اسے موجودہ صورتحال پر موردالزام ٹھرایا جا سکے۔

عالمی سطح پر بھی کشمیر کے حوالے سے حکومت خاطر خواہ تعاون حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ چین کی طرف سے جاری سرکاری بیان میں صرف لداخ کو بھارت کی یونین ٹیرٹری قرار دیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے چین کی سرحد سے چھیڑ چھاڑ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان اور جموں کشمیر کا اس بیان میں کہیں ذکر نہیں ہے یعنی چین بھی اب اس مسئلے کا ایک باقاعدہ فریق بننے جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے کشمیر سے متعلق بھارتی پالیسی کی کھل کر حمایت کر دی ہے جبکہ امریکہ اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے چکا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب، قطر اور ایران سمیت دیگر مسلم ممالک نے بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بتک صرف ترکی اور کسی حد تک ملائشیا نے پاکستان کی حمایت کی ہے لیکن یہ حمایت بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے کیا پیشرفت ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

اسے پاکستان کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر ملک میں نرگسیت کا مارا ایک ایسا شخص وزیراعظم کے عہدے پر مسلط ہے جو قوم کو اکٹھا کرنے کی بجائے تقسیم در تقسیم کرنے میں لگا ہوا ہے۔ انہیں اقتدار میں آئے ایک سال ہونے کو ہے لیکن نہ تو معیشت کی بحالی کا کوئی روڈ میپ نظر آتا ہے اور نہ ہی دیگر معاملات میں کوئی بہتری کی امید نظر آ رہی ہے۔ صورتحال اس حد تک دگرگوں کر دی گئی ہے کہ پاکستان معاشی طور پر آئی ایم ایف کا دست نگر بن چکا ہے اور ملک کا پورا معاشی نظام آئی ایم ایف کے مقرر کردہ افراد کے ہاتھوں میں جا چکا ہے۔

ایسے میں ان کے پاس یہی آخری راستہ بچتا ہے کہ اپنی ذاتی انا کی تسکین اور اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لیے اپوزیشن کو تختہ مشق بنا کر اپنی ناقص کارکردگی چھپائی جائے۔ اس سے ایک مخصوص طبقہ تو خوش ہو سکتا ہے لیکن یہ پالیسی ملک کے مستقبل کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گی اور جب اس کا ری ایکشن آئے گا تو حالات اور بھی زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت یہ صاحب شاید اپنا ”تھیلا“ اٹھا کر دساور سدھار جائیں اور عوام سر پکڑے سوچتی رہ جائے کہ یہ کون آیا تھا اور اسے کون لایا تھا؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعیم احمد

نعیم احمد ماس کمیونکیشن میں ایم ایس سی کر چکے ہیں۔ سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔

naeem-ahmad has 5 posts and counting.See all posts by naeem-ahmad