مودی سرکار کا خطرناک فیصلہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر“ درویش نے جب سے شعور کی دنیا میں قدم رکھا ہے مسئلہ کشمیر کی حقیقتوں اور نزاکتوں کو پڑھتا، سنتا، سمجھتا سمجھاتا چلا آرہا ہے اور اس بات پر ہمیشہ رنجیدہ و دکھی رہا ہے کہ ایک کروڑ سے بھی کم آبادی والے خطے نے جنوبی ایشیاء کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگیوں کو کیوں یرغمال بنا رکھا ہے لہٰذا ہمیشہ یہ چاہا ہے کہ دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر کسی بھی طرح اس سیاسی و مذہبی دلدل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔

پاکستان کا سرکاری یا علامتی موقف تو یہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے حل کیا جائے جبکہ انڈیا کا موقف ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد UN ریزولیوشنز غیر موثر ہو چکی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان یہ مان چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے بیچ باہمی معاملہ ہے جسے باہمی یادو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جائے گا اعلان لاہور میں بھی اسی اتفاق رائے کا اعادہ کیا گیا ہے اور یہ چیز ہر دو ممالک کو معاملہ UN یا کسی بھی تیسرے فریق یا ثالث کے پاس لے جانے سے روکتی ہے۔ اب مودی سرکار نے یک طرفہ طور پر ہر چیز تیس نیس کر دی ہے۔

ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر UN میں لے جانے والے خود پہلے انڈین پرائم منسٹر پنڈت جواہر لعل نہرو تھے اور انہوں نے کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کے ساتھ مل کر اپنے آئین میں کشمیریوں کے حقوق کو تحفظ دلوانے والی یہ جو شقیں شامل کروائی تھیں ان کے نزدیک یہ در حقیقت ایک طرح سے UN ریزولیوشن کی روح کے زیر اثر تھیں کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ متنازعہ مسئلہ حل نہیں ہوتا انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کے مطابق کشمیریوں کو خصوصی حیثیت حاصل رہے گی انڈین یونین یا وفاق کے پاس محض چار شعبے ہوں گے دیگر امور میں کشمیریوں کو ایک طرح سے خود مختاری حاصل رہے گی ان کا اپنا جھنڈا، اپنا آئین، اپنا پینل کوڈ اور اپنا تشخص بلا روک ٹوک قائم و دائم رہے گا مابعد 1954 میں آئین کے آرٹیکل 35 A کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت اور 1927 والے کشمیریوں کے منفرد حقوق کو تحفظ دیتے ہوئے دیگر انڈین باشندوں پر یہ بندش لگا دی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں نہ تو پراپرٹی خرید سکتے ہیں اور نہ ہی وہاں کا ڈومیسائل حاصل کرتے ہوئے سکونت اختیار کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی کشمیری عورت کسی غیر کشمیری ہندوستانی سے شادی بھی کر لے چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم تب بھی اُس کا خاوند یا بچے یہ خصوصی کشمیری حقوق حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

انڈین عوام میں کئی دہائیوں سے ان آئینی شقوں یا کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خلاف تحفظات و جذبات پائے جاتے تھے وہاں یہ بحث ہوتی رہتی تھی کہ آئین میں دیگر ریاستوں اور ان کے باسیوں کو جو حقوق حاصل ہیں وہی کشمیریوں کے لیے بھی ہونے چاہیں جواب دیا جاتا تھا کہ دیگر ریاستوں میں بھی قوانین کے کئی حوالوں سے تفاوت پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ویسٹ بنگال، کیرالا، آسام، ناگا لینڈ اور آندھیرا پردیس وغیرہ کی مثالیں بھی پیش کی جاتی تھیں مگر ظاہر ہے ان ریاستوں کی وہ حیثیت بہرحال نہیں تھی جو بوجوہ کشمیر کی تھی۔

مہاراجہ ہری سنگھ نے پارٹیشن کے فوری بعد جس طرح انڈیا سے الحاق کا اعلان کیا تھا اُس کی حیثیت بھی دیگر ریاستوں سے مختلف تھی۔ انہوں نے کسمپرسی و بیچارگی کے عالم میں بھی اپنی یہ شرائط وزیراعظم ہند پنڈت نہرو اور گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے منوا لی تھیں کیونکہ قبائلیوں نے ان کی ریاست پر حملہ کر دیا تھا اور وہ انڈین قیادت سے سپورٹ چاہتے تھے۔

پارٹیشن سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ناچاکی یا سر پھٹول کا باعث بنا ہوا ہے دونوں ممالک اس ایشو پر چار جنگیں لڑ چکے ہیں ہزاروں قیمتی جانوں کا خون بہا چکے ہیں اپنے بے پناہ قومی و سائل اپنے عوام پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی افواج اور اسلحہ بندیوں پر اڑا رہے ہیں سچ تویہ ہے کہ خطے میں کروڑوں عوام کی غربت و افلاس کا باعث ہی یہ مسئلہ بنا ہوا ہے اور سب یہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ بدلتے حالات کے ساتھ اب بزور کوئی بھی ملک دوسرے سے کشمیر کی ایک انچ زمین نہیں چھین سکتا۔ اندر خانے یہ بات سب کو سمجھ آچکی ہے کہ جو کشمیر اُن کے پاس ہے وہ انہی کا ہے اور جو ہمارے پاس ہے وہ ہمارا ہے۔

اس وقت واقعاتی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر کا جو حصہ انڈیا کے پاس ہے اس کے تین حصے ہیں 1 جموں، یہاں زیادہ تر کشمیری پنڈت آباد ہیں اس خطے سے انڈیا کو کوئی مسئلہ نہیں بلکہ شکایت رہتی ہے کہ گھس بیٹھیے انتہا پسند کشمیری پنڈتوں کے لیے مسائل کھڑے کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ علاقہ چھوڑ جائیں 2 لداخ چائنہ کی سرحد سے ملحق اس خطے میں بیشتر تر بدھ، ہندو اور شیعہ مسلمان آبادی ہے یہاں سے بھی انڈیا کوآبادی کی طرف سے کوئی ایشو نہیں ہے 3 کشمیر ویلی یا گھاٹی، سرینگر اور اس سے ملحق اضلاع یہاں کے بالخصوص ڈھائی تین اضلاع میں انڈیا کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی خطہ سیاست کا اصل گڑھ ہے۔ جبکہ کشمیر کا دوسرا حصہ جو ہمارے پاس ہے اس کے بھی تین حصے ہیں ایک ہمارے زیر کنٹرول مظفر آباد والا وہ حصہ ہے جسے ہم آزاد کشمیر قرار دیتے ہیں دوسرا وہ حصہ جس کا نام گلگت بلتستان ہے اور تیسرا وہ حصہ جسے ہم نے جنرل ایوب کے دور میں چین کوبطور تحفہ عنایت فرما دیا تھا۔

درویش نے دو دہائیاں قبل اپنے ایک آرٹیکل ”مسلہ کشمیر کا آخری حل؟ “ میں تجویز کیا تھا کہ جب یہ طے ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں سے کسی نے بھی ایک انچ رقبہ زمین سے دستبردار نہیں ہونا ہے اور نہ ہی کوئی عالمی طاقت انہیں اس حوالے سے مجبور کر سکتی ہے تو بہتر یہ ہو گا کہ ہر دو ممالک کی قیادتیں مل بیٹھ کر اپنے ممالک اور کشمیریوں کے مفاد میں یہ طے کر لیں کہ اپنے قبضوں کو قائم رکھتے ہوئے خطہ کشمیر کی یکجہتی کو تسلیم کر لیں تمام علاقہ جات کے باسیوں کو باہمی آمدو رفت میں حائل تمام رکاوٹیں ہٹا دی جائیں۔

ذرائع آمدورفت یا مواصلات کو بہتر بناتے ہوئے ان کی باہمی تجارت میں دونوں ممالک سہولت کار بنیں اور ان کی مشترکہ منتخب اسمبلی کے قیام میں معاونت کرتے ہوئے دونوں ممالک یہ طے کریں کہ وہ کشمیری بھائیوں کو مزید کیا کیا سہولتیں دے سکتے ہیں کنٹرول لائن کی حیثیت برائے نام ہو البتہ ہر دو خطوں کی نمائندگی ان کے اپنے اپنے ممالک کی اسمبلیوں میں بھی موجود ہو۔ اس سوچ اور انتظام سے جہاں پورے کشمیر میں ترقی و خوشحالی کے ساتھ امن و سلامتی کی فضا پیدا ہوگی وہیں ہر دو ممالک کے درمیان بہترین تعلقات یا دوستی کے قیام میں بھی معاونت ملے گی مگر افسوس اس نوع کی تجاویز جہاں پاکستان میں صدابہ صحرا رہیں اور ہماری ایسٹیبلشمنٹ کی روایتی اپروچ کے جبر نے ان کے کھلے اظہار پر قدغنیں لگائیں وہیں انڈین شدت پسندی نے برسرِاقتدار آنے کے بعد دن بدن ایسی مثبت آوازوں کو دبانا شروع کر دیا۔

مودی سرکار نے تو اپنی پچھلی انتخابی مہم میں بھی اور اب کی بار بھی اپنے عوام سے اپنے انتخابی منشور اور انتخابی تقاریر و اعلانات کے ذریعے یہ وعدہ کیا تھاکہ وہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی صورت آئینی ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دونوں دفعات 370 اور 35 A کو ختم کروا دیں گے۔ آج سے بڑھ کر ان کو سازگار موقع کیا مل سکتا تھا جب پاکستان اپنے اندرونی خلفشار جبری ماحول، کمزور خارجہ پالیسی اور ایک طرح کی عالمی تنہائی کا شکار ہے اگر پاکستان چیخ و پکار کر کے کچھ عالمی آوازیں اٹھوانے میں کامیاب ہو بھی گیا تب بھی شاید وہ اس قابل نہ ہوں گی کہ مودی سرکار کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول سے روک سکیں۔ رہ گیا جنگی جنون تو وطنِ عزیز میں کوئی بھی باشعور انسان ایسا نہیں ہوگا جو مسائل میں گھرے پاکستان کو آگ کی ایسی بھٹی میں دھکیلنے کی حمایت کرے گا جنگیں مسائل کا حل نہیں باعث ہوتی ہیں۔

مودی سرکار کے مذموم ہتھکنڈوں کے سامنے اگر کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی ہو سکتی ہے تو وہ اُن کی اپنی آئینی عدالتیں یا ان کی سپریم کورٹ ہے کشمیرکی ہائیکورٹ تو ماقبل اس حوالے سے فیصلہ دے بھی چکی ہے ان کی سپریم کورٹ میں بھی اس حوالے سے چار اپیلیں پڑی ہوئی ہیں ان کا اپنا آئین یہ کہتا ہے کہ کسی بھی ریاستی ایشو پر آئینی ترمیم کے لیے اُس ریاستی اسمبلی سے اس کی منظوری لازم ہے جبکہ اس وقت شیخ عبداللہ کے بیٹے اور مفتی سعید کی بیٹی سمیت کشمیریوں کی وہ قیادت بھی مخالفت پر تلی کھڑی ہے جسے ہمیشہ پرو انڈیا یا پرو دہلی کے طعنے دیے جاتے رہے ہیں لہذا یہ غیر آئینی صورتحال بھی مودی سرکار کے خلاف جائے گی آج کانگرسی رہنما راہول گاندھی کے یہ الفاظ کس قدر واضح ہیں کہ مودی سرکار نے کشمیر کے ٹکڑے کر دیے ہیں۔ اقوام افراد سے بنتی ہیں نہ کہ زمینی ٹکڑوں سے، مودی سرکار نے منتخب کشمیری قیادت کو جیلوں میں ڈال کر آئین کی جو خلاف ورزی کی ہے اس سے انڈین قومی سلامتی کو خطرات لا حق ہو گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •