کشمیر: اب آگے کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت نے کشمیر میں جو کچھ کرنا چاہا تھا، انہوں نے کر دیا ہے۔ اب اس کو ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت کی کمینگی کہیں، یا عیار بنیے کی مکاری، یا جو بھی کچھ کہتے رہیں، اس سے حقیقت تبدیل ہونے والی نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وہ اب مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے قدم مضبوطی سے جما چکے ہیں۔ 1947 میں انگریزوں سے آزادی کے وقت سے لے کر 5 اگست 2019 تک ہندوستان نے جہاں جہاں پر بھی بس چلا انہوں نے ہر جائز و ناجائز طریقے سے مختلف علاقوں پر قبضہ جمایا، اور اپنے ملک کو توسیع دی، اسے مضبوط و مستحکم کرنے میں لگے رہے، اور ان کے ارادے ابھی اور آگے بڑھنے کے بھی ہیں۔

اور یہ ازل سے دستور رہا ہے، کہ طاقتور ممالک اپنے رقبے اور وسائل میں اضافے کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ اور کمزور ملک سوائے کوسنے دینے، بددعائیں کرنے اور رونے کے اور کچھ نہی کر سکتے۔ آزادی کے وقت ہندوستان میں موجود 560 کے قریب دیسی ریاستوں اور راجواڑوں میں ریاست جموں و کشمیر ایک بڑی ریاست تھی، جس کے زمینی راستے، کاروباری رشتے، مذہبی شناخت اور ثقافت سب پاکستان سے ملتے تھے۔ آبادی کی غالب اکثریت مسلمان تھی، لیکن وہاں کے ہندو ڈوگرہ مہاراجہ نے ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دیا، حالانکہ یہ الحاق تقسیم ہند کے وقت طے ہونے والے اصول، کہ جس کے مطابق ہندو اکثریت کے علاقے بھارت، جبکہ مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے کے خلاف تھا۔

لیکن ریاست کی غالب آبادی کی خواہشات کے برعکس ہونے والے الحاق کے باوجود ہندوستان نے آگے بڑھ کر کشمیر پر اپنا قبضہ جما لیا، جبکہ دوسری طرف ایسا ہی اقدام کرتے ہوئے جب جونا گڑھ اور مناوادر کی ریاستوں کے مسلمان نوابین نے اپنی ریاستوں کا الحاق پاکستان سے کر دیا، تو ہندوستان نے یہ کہہ کر ان دونوں ریاستوں پر قبضہ جما لیا کہ یہ الحاق وہاں کی عوام کی خواہشات کے خلاف تھا۔ اسی طرح حیدر آباد دکن کی ریاست کے مسلمان حکمران نظام حیدرآباد نے آزاد رہنے کو ترجیح دی تو، بھارت نے فوجی چڑھائی کر کے ریاست پر قبضہ جما لیا گیا۔

اسی طرح کے قبضے مشرق میں منی پور، ناگا لینڈ، میزو رام اورسکم کی ریاستوں پر کیے گئے۔ آخری قبضہ ساٹھ کی دہائی میں پرتگالی نو آبادی گوا پر کیا گیا۔ اس سارے عرصے میں دنیا کی کسی طاقت نے بھی ہندوستان کے ہاتھ نہیں روکے۔ دنیا ہمیشہ طاقتور کا ساتھ دیتی ہے، کمزور کا نہیں۔ آج ہمارے پاس کشمیر کا جو حصہ ہے، یہ کچھ قبائلیوں کے یلغار کے ذریعے اور کچھ کشمیر اور گلگت بلتستان کے ریٹائرڈ فوجیوں اور مجاہدوں کی کوشش کا ثمر ہے، ورنہ مذاکرات کی میزوں پر تو ہمیشہ ہم نے کچھ نہ کچھ کھویا ہے، اور آئیندہ بھی یہی ہوگا۔

1948 میں بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا، کیونکہ اس وقت ہمارے اندر کچھ نہ کچھ مزاحمت کی قوت موجود تھی۔ وہاں پنڈت نہرو نے اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ اقوام متحدہ نے اس پر قراردادیں بھی منظور کر لیں۔ یہ ایک طرح سے اقوام متحدہ کی طرف سے اس مسئلے پر ایک اسٹے آرڈر تھا۔ ہندوستان کو وہاں اپنے قدم پوری طرح سے جمانے کے لئے کچھ وقت درکار تھا، جیسے جیسے ان کے قدم وہاں جمتے گئے، انہوں نے دوبارہ کشمیریوں کی خواہشات کا کبھی نام بھی نہ لیا، بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔

اس کے بعد 1962 میں جب بھارت چین کے ساتھ الجھا ہوا تھا، اس وقت چین کی طرف کشمیر پر پیش قدمی کرنے کے مشورے کو بھی ہم نے نظر انداز کیا، اور ایک نادر موقع گنوا دیا۔ اس کے بعد 1965 میں مقبوضہ وادی کے مکینوں کو اعتماد میں لئے بغیر آپریشن جبرالٹر شروع کردیا گیا، جس کے جواب میں بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پار کر کے حملہ کر دیا، اس بے نتیجہ جنگ کے بعد تاشقند کا معاہدہ ہوا، اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے مقبوضہ علاقے واپس کر دیے۔

اس جنگ میں مشرقی پاکستان کے باسیوں کو عملی طور پر بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ جس سے ان کے اندر عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا، اور صرف چھ سال بعد 1971 میں بھارت نے بنگالیوں کو تربیت دے کر پاکستان کے خلاف کھڑا کر کے اور باقاعدہ فوجی مداخلت کر کے پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے۔ 1971 میں آدھا ملک گنوانے کے بعد شملہ میں ہم نے مذاکرات کی میز پر بین الاقوامی ثالثی کا دروازہ بند کر کے آزادی کشمیر کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔

اس کے بعد 1984 میں انہوں نے آرام سے سیاچن کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا، اور ہم ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ 1999 میں جب ایسا ہی ایڈوینچر کر کے ہم نے کارگل کی کچھ چوٹیوں پر قبضہ کیا، تو وہ اپنی پوری فوج اور ائیرفورس لے آئے۔ دنیا نے ان کا ساتھ دیا۔ اور اس وقت کی پاکستانی حکومت کو امریکہ کو بیچ میں ڈال کر اپنی جان چھڑانا پڑی۔ کارگل کے بعد پاکستان کسی بھی طرح سے بھارت کو چیلینج کرنے کی پوزیشن میں نہ آسکا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، سب سے بڑی وجہ تو ہماری کمزور اقتصادی حالت، ظاہر ہے جو اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو سکے وہ کسی دوسرے کو کیا للکار سکے گا۔

مشرف دور حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی افغان جنگ میں امریکیوں کو ہماری پہلے جیسی ضرورت نہ رہی، جس کی وجہ سے ڈالروں کی فراوانی رک گئی۔ اس کے علاوہ پچھلے دس سال میں باری باری آنے والی دونوں روائیتی حکمران جماعتوں نے ملکی ترقی کی بجائے اپنی شکم پروری پر زیادہ توجہ دی، تنیجہ اور زیادہ اقتصادی بدحالی کی صورت میں نکلا۔ اور سب سے آخر میں اندرونی محاذ پر دہشت گرد تنظیموں نے ملک کو لہولہان کیے رکھا۔ بھارت نے ان دہشت گرد گوپوں کی مدد کر کے پاکستان کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

اس دوران وہ مستحکم شرح نمو کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے رہے، اور پاکستان اور بھارت کے درمیان اقتصادی تفاوت عدم توازن کی شکل اختیار کر گیا۔ وہ ہمارے ملک میں دہشت گردی بھی کرواتے رہے، اور کشمیر میں ہونے والی مزاحمت کو ہمارے کھاتے میں ڈال کر الٹا ہم پر دہشت گردی کا لیبل بھی لگاتے رہے۔ خارجہ محاذ پر اپنی مضبوط سفارت کاری کی بدولت وہ پوری دنیا کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب رہے، جبکہ ہماری سابقہ پانچ سالہ حکومت میں کوئی وزیرخارجہ ہی نہیں تھا۔

نتیجہ خوفناک سفارتی تنہائی کی صورت میں نکلا۔ آخر کار 5 اگست 2019 کو جب انہوں نے کشمیر کو مکمل طور پر اپنے اندر ضم کرنے کا اعلان کیا، تو پاکستان کے ساتھ دنیا کا کوئی ملک بھی نہیں کھڑا تھا۔ آج وہ اتنے بڑے اس لئے ہو گئے ہیں، کیونکہ ہم نے اپنے آپ کو بہت چھوٹا کر لیا ہے۔ اس وقت حقیقت یہی ہے کہ ہم عسکری، اقتصادی اورسفارتی ہر محاذ پر پٹ چکے ہیں۔ وہ اس وقت اپنی مضبوط اقتصادی حالت، دنیا کی سب سے بڑی متوسط طبقے کی مارکیٹ اور دنیا بھر میں اپنی بہترین اعلیٰ تعلیم یافتہ آبادی کے بل پر دنیا بھر میں چھائے ہوئے ہیں۔

جبکہ ہم پہلے مسلم امہ کے مامے چاچے بن کر ان کا بوجھ ڈھوتے رہے، اس کے بعد امریکیوں کی خاکروبی کرتے رہے، اور اب دنیا کی نظروں میں میں دہشت گردی کا تلک ماتھے پر سجا کر گھوم رہے ہیں۔ اس سارے عرصے میں ہم نے اپنی معیشیت کو ٹھیک کرنے کی بجائے مانگے تانگے کے ڈالرز لے کر گزارا کرنے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہی ہونا تھا کہ آج وہ جب دل کرے یہاں آکر دو چار بم برسا کر نکل سکتے ہیں، اور ہم محض اسی چیز کا جشن منا کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ یہاں کوئی نہیں مرا۔

سوال یہ ہے کہ بھارتیوں نے آخر کشمیر کی خصوصی حیثیت کیوں ختم کی۔ کیونکہ ان کے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 A، کے تحت کشمیریوں کو کسی حد تک اندرونی خودمختاری حاصل تھی اور کوئی بھارتی شہری وہاں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا۔ اور مقبوضہ کشمیر بھارت کے پاس وہ واحد علاقہ ہے جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ جبکہ بھگوا گینگ (آرایس، ایس، بجرنگ دل، وشو ہندوپریشد) کو ہندوستان کے کسی بھی علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت قبول نہیں، بلکہ ان کے لئے تو کوئی مسلمان بھی ہندوستان میں قابل قبول نہیں ہے۔

تو کیا وہ صرف آئین میں تبدیلی کر کے مطمئین ہو جائیں گے؟ بالکل بھی نہیں۔ بدقسمتی سے زیادہ امکان یہ نظر آ رہا ہے کہ، ان کا اگلا قدم کشمیری مسلمانوں کو تشدد سے دہشت ذدہ کر کے ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا ہو گا۔ اس کام کے لئے وہ کشمیری مسلمانوں، خاص کر نوجوانوں کا قتل عام کریں گے، اور خدانخواستہ عورتوں کو ریپ کریں گے، ان ی ہر حال میں کوشش ہوگی کہ کشمیری مسلمانوں کو پاکستان اور آزاد کشمیر کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کر دیں۔

آر ایس ایس کے مسلح جتھے بھارتی فورسز کی حفاظت میں یہ مکروہ کام سرانجام دیں گے۔ ان کے پاس اسرائیلی ماڈل موجود ہے۔ ان کا اگلا لائحہ عمل یہی ہو گا کہ کشمیری مسلمانوں کو فلسطینی اور روہنگیا مسلمانوں کی طرح گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے، اور فوج کی نگرانی میں، یہاں جگہ جگہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کی طرز پر ہندو آبادیاں قائم کی جائیں۔ اس دوران جو بھی مزاحمت کرے گا، اسے گولیوں سے بھوننے کے ساتھ ساتھ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا کام جاری رہے گا۔ بھارت آئیندہ دہشت گردی کا راگ اور بلند آواز سے الاپے گا، تاکہ کشمیریوں کی کمزور آوازیں دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں کنٹرول لائن پر مسلسل مصروف رکھیں گے، تاکہ ہماری ساری توانائیاں ان کی طرف سے کسی بھی ممکنہ جنگی کارروائی کے دفاع پر صرف ہوتی رہیں۔

تو ہمارے پاس کیا آپشن ہیں؟ ظاہر ہے کمزور قوموں کے پاس محدود آپشن ہوتے ہیں۔ ہم اقتصادی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے کسی بھی جنگی ایڈوینچر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ دشمن کی طرف سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ ہم اس وقت اقتصادی طور پر پسماندہ اور سفارتی طور پر بالکل تنہا ہیں۔ ہمیں اس مرحلے پر بھارت سے کسی بھی قسم کے تصادم سے بچتے ہوئے اپنی پوری توجہ اپنی معیشیت ٹھیک کرنے پر دینی چاہیے۔ اور دنیا کے سامنے اپنا موقف آبرومندانہ طریقے سے پیش کرنا چاہیے۔ اپنے ملک کے اندر اب ازکار رفتہ ہو چکے اثاثوں سے جلد ہی جان چھڑانی چاہیے۔ ابھی آزاد کشمیر پر ہی اکتفا کر لینے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ دنیا کو یہ احساس دلانے کی سخت ضرورت ہے کہ دو ایسے ملک جو ایک دوسرے کو مکمل طور پر تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے درمیان تصادم کوئی خوش کن خیال ہرگز نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •