عید قربان: سنت خلیل اللہ یا جنت میٹرو سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید الضحی کے سلسلے میں دوستوں کی محفل تھی۔ جہاں ذکر تھا وطن عزیز میں عوام کے جوش وخروش کا اور قربانی کے لئے خریدے جانے والے جانوروں کا جن کی قیمت لاکھوں میں ادا کی جا رہی تھی۔ ہم یہ سب سن کر بہت حیران تھے کہ قربانی کا تصور تو بہت علامتی ہے اور بنیادی طور پہ خلیل اللہ کی اپنی اولاد سے محبت اور خالق کی اطاعت کا مظہر ہے۔

علامتی رسومات کسی بھی طرح ادا کی جائیں، اس میں نمائشی اور حد سے گزر جانے والا پہلو اس کی افادیت ختم کر دیتا ہے۔ اگر بی بی ہاجرہ کی یاد تازہ کرنی ہے تو صفا و مروہ کے درمیان سات مرتبہ ہی دوڑنا ہو گا، اس دوڑ کو آپ بیس یا تیس پہ لے جائیں، قبول نہیں ہو گا۔

یہ سوچتے ہوئے ہمارا سوال تھا کہ اگر قربانی پچیس یا پچاس ہزار میں کی جا سکتی ہے تو لاکھوں کا خرچ کیوں اور ایک ہی کنبے میں بہت سے جانوروں کی قربانی کیوں؟

“آپ کو معلوم نہیں کیا”، ایک دوست بولیں، “یہی قربانی کا جانور ہو گا جس پہ بیٹھ کے ہم جنت میں جائیں گے، اس لئے ہر کوئی خوب سے خوب کی تلاش میں رہتا ہے اور اپنی بساط سے بڑھ کے خرچ کرتا ہے”۔

یہ سننا تھا کہ مارے حیرت کے ہمارا منہ کھل گیا، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور ہم کچھ ساعتوں تک کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں رہے۔ سانس میں سانس آئی تو زیرلب بڑبڑائے

“کیا واقعی لوگ یہ سمجھتے ہیں؟ اور سمجھ کے یقین بھی کرتے ہیں۔ کیا اس کے پیچھے کوئی مستند روایت ہے؟”

اپنے آپ پہ تعجب بھی ہوا کہ اب تک ہم کیوں اس قول زریں کی آگہی سے محروم تھے۔

 اس تصور سے تو جنت میں جانا بہت آسان ٹھہرا۔ سارا سال دل کے پیچھے چلو، من موجیاں کرو، عید قرباں پہ پانچ سات لاکھ خرچ کرو، چلو جی سواری تیار اور جنت میں داخلہ پکا!

بلکہ اگر ہر سال یہی ریت نبھائی تو ہو سکتا ہے، روز قیامت جلو میں چالیس پچاس اعلی قسم کے اور ہر قبیل کے جانور ہوں اور سمجھ نہ آ رہا ہو کہ کس پہ سواری کریں!

اب یہ بھی نہیں معلوم کہ میدان حشر سے جنت کے دروازے تک کتنی مسافت ہے۔ اگر دور کا معاملہ ہو تو ہو سکتا ہے سواری کا شرف بہت سے جانوروں کو بخش دیا جائے۔

لیکن کیا کریں کہ خالق کائنات نے جو یہ چھوٹی سی عقل دے کے بھیجا ہے وہ اس کہانی سے انکاری ہے۔ کہاں پالن ہار کا مقام اور کہاں یہ بات کہ وہ دنیا کے باسیوں کو جنت تک کی سواری کے انتظام میں زر کثیر ضائع کرنے کا متقاضی ہو۔

دنیا جہاں ہر طرف غربت اور تلخ زندگی کی بدصورتیاں منہ کھولے کھڑی ہوں، لوگ بھوک سے مر رہے ہوں، مائیں بچوں کو اپنے ہاتھوں قتل کر کے خودکشی کر رہی ہوں، طالب علم سکول جانے کو ترستے ہوئے چائےخانوں میں زندگی بتاتے ہوں، ورکشاپوں اور قالین بافی میں بچوں کا بچپن چھینا جا رہا ہو، دوائیوں کے نہ ہونے سے لوگ سسک سسک کے جان دے رہے ہوں، غریب کی جھونپڑی میں چراغ ہی نہ جلتا ہو، ہر طرف فاقہ کشی کا عالم ہو، بھوک و ننگ کا عفریت نگل جانے کا تیار ہو….. ایسی دھرتی پہ ایک یاد تازہ کرنے کے لئے جانوروں کی قربانی پہ لاکھوں خرچ، سمجھ سے بالاتر؟

آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کے گھر کے ڈرائیور، مالی، خانساماں، خادمہ میں اور آپ میں کیا فرق ہے؟

سڑک پہ ہاتھ پھیلائے بھکاری، فٹ پاتھ پہ پائےجانے والے بے آسرا لوگ، زمینوں پہ کام کرنے والے بے بس ہاری، زندگی کی ہر خوشی کو ترستے مدقوق چہرے، فاقہ زدہ بچے، خرادیوں سے پٹتے ننھے کاریگر، سرکاری ہسپتالوں میں دم توڑتے لوگ، خواہشوں کی کرچیاں آنکھوں میں بسائے بچیاں اور وہ سب جن کی آنکھوں کی جوت آپ کو دیکھ کر بجھ جاتی ہے، ان میں اور آپ میں کیا فرق ہے؟

آپ میں ایسا کیا سرخاب کا پر جڑا تھا، کیا لعل وگہر تھے کہ زندگی آپ پہ دشوار نہیں ہوئی؟ آپ رہ حیات کے درماندہ لوگوں میں سے نہ ہوئے۔ آپ میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ آپ خاص ہوئےاور یہ محرومیاں آپ پہ سایہ فگن نہیں ہوئیں۔

ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ قدرت اور مشیت ایزدی کا فیصلہ ہے کہ کون کہاں پیدا ہو گا اور کیسے نوازا جائے گا؟ لیکن اس کے ساتھ مقام اعلی پہ فائز لوگوں سے وہ یہ چاہتا ہے کہ ان میں اس کا پرتو نظر آئے، وہ زندگی سے ہارے ہوؤں کا ہاتھ پکڑیں، ان کی تشنہ لبی کو سیراب کرنے کا سبب بنیں، ان کو پاتال کے اندھیروں سے اوپر لانے کی تدبیر کریں، جہاں وہ صدیوں سے نسل در نسل سسک رہے ہیں۔

قربانی کیجیے، خلیل اللہ کی یاد تازہ کیجیے! لیکن اگر دس لاکھ مختص کئے ہیں تو لاکھ کا جانور لیجیے اور باقی ان کے نام جو حسرت سے آپ کو تکتے ہیں!

ہمارا دل کہتا ہے کہ وہ خالق جو سب کا خالق ہے، آپ کے اس جذبے کو سراہتے ہوئے آپ کے لئے جنت سے برق رفتار سواری ضرور بھیجے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •