سوات کے سات رنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کوئی پہلی بار تو نہیں ہوا تھا میں تو اکثر خوابوں میں پہاڑوں کے ساتھ ہمکلام ہوتی ہوں۔ مگر اب کی بار یہ سلسلہ تھوڑا عجیب تھا۔ اب اکیلے پہاڑ مجھ سے ملنے نہیں آتے تھے۔ اب دریاوں کے گیت بھی سُنائی دینے لگے تھے۔ دریاوں کے ساتھ جُڑے پتھروں پر میں اپنے قدموں کے نشان دیکھنے لگی تھی۔ چشموں اور آبشاروں کے رنگوں سے میرا وجود رنگنے لگا تھا۔ میں ان پتھروں پر چلتی تھی۔ میں بادلوں کے سنگ اُڑتی ہوئی پہاڑوں کی بلندیوں کو چھونے لگتی تھی۔ مجھے جھیلیں اپنے پاس بُلاتی تھیں۔ اس سے پہلے کہ میں ان جھیلوں کی خوشبووں سے اپنے وجود کو بھر لیتی۔ میری آنکھ کُھل جاتی تھی۔ شروع کے چند دن تو میں ان خوابوں کو نظرانداز کرتی رہی مگر اب یہ سلسلہ طویل ہونے لگا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر یہ پہاڑ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ پہاڑوں کے قافلے مجھے مزید پریشان کرتے کہ ایک روز علی بھائی کا فون آگیا۔ جو خبر علی بھائی نے مجھے سُنائی۔ اُسے سُن کر مجھے یوں لگا کہ جیسے پہاڑ میرے سامنے کھڑے مُسکرانے لگے ہوں۔ میرے خوابوں کو تعبیر ملنے لگی تھی۔ پہاڑ مجھے کتنے ہی دنوں سے آواز دے رہے تھے۔ مجھے ان آوازوں پر لبیک کہنا ہی تھا۔ کب جانا تھا کیسے جانا تھا۔ یہ ایک الگ بحث تھی۔ بس مجھے پہاڑوں پر جانا تھا۔ مجھے اُن سے ملنا تھا۔

اُن راستوں کو اپنا ہمراز بنانا تھا۔ اُن دنوں گرمی بھی اپنے عروج پر تھی۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سورج ایک ہی بار اپنے اندر کی ساری آگ زمین کے حوالے کر دینا چاہتا تھا۔ زمین پر سانس لینے والی تمام تر مخلوق اس آگ کی شدت سے کُملا کر رہ گئی تھی۔ ایسے میں ٹھنڈی ہواوں کے دیس چلنے کی خبر نے دل کو خوشی سے بھر دیا تھا۔ مگر یہ سب اتنا آسان تھوڑی تھا۔ ابھی بہت کچھ کرنا تھا۔

رمضان اختتام کے قریب تھا۔ عید کی آمد آمد تھی مگر مجھے عید سے زیادہ خوشی پہاڑوں سے ملنے کی تھی۔ دل تو تھا کہ عید ختم ہوتے ہی پہاڑوں کے پاس پہنچ جائیں۔ مگر یہ ممکن نہیں تھا۔ پہاڑوں کی سرگوشیاں صرف میرے وجود نے تو نہیں سُننی تھیں۔ میرے ساتھ کچھ اور دیوانوں نے بھی ان پہاڑوں کو اپنا ہمراز بنانا تھا۔ ہم سب نے مل کر ان آبشاروں پر پانیوں کا رنگوں بھرا رقص دیکھنا تھا۔ اس لئے وقت کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔

میں بہت خوش تھی مگر اب عجیب بات یہ ہوئی تھی کہ پہاڑوں نے میرے خوابوں پر دستک دینی چھوڑ دی تھی۔ اب نہ وہ دریاوں کے گیت تھے، نہ ہی جھیلیں مسکراتی تھیں اور نہ ہی آبشاروں اور چشموں کا شور سُنائی دیتا تھا۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ اور اب اس خاموشی سے مجھے خوف آنے لگا تھا۔ مجھے جانا تھا اور ہر صورت ان پہاڑوں سے ملنا تھا۔ یہی میرا خواب تھا۔ اور مجھے ہر صورت اپنے خواب کی تعبیر پانی تھی۔

؛فاطمہ، کمراٹ کا ارادہ بن رہا ہے :

علی بھائی فون پر اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے مخاطب تھے۔

:جی، بہت خوبصورت جگہ ہے۔ ۔ میں ہوٹلز کی تفصیلات معلوم کرتی ہوں :

یہ کہہ کر میں علی بھائی سے ٹور کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے لگی۔

ایم ایم علی جنہیں ہم سب علی بھائی کہتے ہیں۔ ہماری تنظیم(اپووا) آل پاکستان رائٹرز ویلفئر ایسوسیشن کے سنیرنائب صدر ہیں۔ لکھاریوں سے وابستہ یہ تنظیم جہاں لکھاریوں کی فلاح کے لئے دیگر کام کرتی رہتی ہے۔ وہیں اُن کے لئے مختلف تفریحی ٹورز کا اہتمام بھی کرتی رہتی ہے۔ کمراٹ سے پہلے ہم تین ٹورز کر چکے تھے۔ اس لئے مطمعن تھے کہ اب کی بار بھی ایک زبردست ٹور کرکے ہی واپس آئیں گے۔

کمراٹ پھولوں سے بھری اک وادی ہے۔ جہاں پر رنگوں، پھولوں اور خوشبووں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کچھ سال پہلے چند دوستوں کے ساتھ کمراٹ جانے کا ارادہ بنا تھا۔ مگر ہم وہاں نہیں جا سکے۔ یہ پہاڑوں پر بھی نصیب والے ہی جاتے ہیں۔ ہر ایک کی قسمت میں پہاڑوں کا ساتھ تھوڑی لکھا ہوتا ہے۔ اب جو علی بھائی نے کمراٹ کا نام لیا تو محمد سجاد سے رابطہ کیا۔ محمد سجاد لکھاری ہیں، اپووا کے ممبر ہیں۔ کمراٹ سے میرا پہلا تعارف انہوں نے ہی کروایا تھا۔ محمد سجاد نے مجھے اس علاقے کی دیگر تفصیلات فراہم کئیں۔ علی بھائی سے بات کرکے میں مطمعن ہو گئی تھی کہ ہم کمراٹ ہی چلیں گے مگر دور کھڑے کمراٹ کے پہاڑ وں کا رُخ میری طرٖف نہیں تھا۔ وہ میرے قریب آنے سے کترا رہے تھے۔ میں آنے والے وقت سے بے خبر کمراٹ کے راستوں پر اپنے خواب رکھنے لگی تھی۔

میرے یہ خواب ان راستوں میں آگے بڑھتے ہی نہیں تھے۔ میں کمراٹ کے سارے پھولوں کو چھو لینا چاہتی تھی۔ مگر ان پھولوں نے اپنا رستہ ہی بدل لیا تھا۔ میں اپنی ٹیم کے ساتھ کمراٹ کے خوابوں کا ذکر کرنا چاہتی تھی مگر اس کی نوبت ہی نہیں آئی کیونکہ میرے خوابوں نے اپنا رستہ بدل لیا تھا۔ اور کیوں نہ بدلتے تین سال سے میرا عشق مجھے بلا رہا تھا۔ مہوڈند جہاں جانے کے ارادے جانے کتنے سالوں سے بن رہے تھے اور اب علی بھائی نے خود ہی سوات کا نام لے دیا۔

 سوات وہ جگہ ہے جہاں جانے کا ارادہ بہت بار بنا تھا مگر ہر بار ہم سوات چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف نکل جاتے تھے۔ اب کی بار ایسا نہیں ہونا تھا کیونکہ سوات کے پہاڑوں نے ہماری طرف دیکھ لیا تھا۔ سوات کے آسمانوں پر ہمارا نام لکھا گیا تھا۔ اب ہم نے سوات ہی جانا تھا کیونکہ ان راستوں نے ہمارے خوابوں پر اپنے نام لکھنے شروع کر دیے تھے۔

ہم سوات جا رہے ہیں :

میں نے گروپ میں میسج کر دیا تھا۔ اب مجھے بہت کچھ کرنا تھا۔ پچھلے ٹورز ہم تھوڑی قریب کی جگہوں پر لے کر گئے تھے مگر اب کی بار جس علاقے کا انتخاب کیا گیا تھا۔ وہ نہ صرف بہت دور تھا بلکہ ہمارے ٹور کا دورانیہ بھی تھوڑا طویل تھا۔ سوات کا نام ذہن میں آتے ہی سب سے پہلے مجھے بلال عالم کا خیال ہی آیا تھا۔ تین سال پہلے جب سوات اور مہوڈنڈ کے خواب اپنی تعبیریں ڈھونڈنے نکلے تھے۔ تب بلال عالم نے ہی سوات کے راستوں کو ہمارے آنے کی خبر دی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •