ایک مصیبت کی ماری عورت کی بپتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”باجی میرے اندر سے پیپ اور خون ایسے بہہ رہا تھا جیسے کسی نے پانی والا نلکا کھول دیا ہو“۔ وہ ہاتھ کے اشارہ سے اپنی حالت بتاتے ہوئے بولی : ”میرا 7 روز کا بچہ کمرے میں پڑا چلا چلا کر رو رہا تھا کیونکہ مجھے یہاں دروازے میں بیٹھے اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ میری ہمت اب واپس کمرے تک جانے کی بھی نہیں رہی۔ اس پر میرے ٹانکوں میں پڑی پس اس طرح بہہ رہی تھی کہ یہاں سے اٹھنا ممکن نہ رہا۔ دروازے سے باہر ایک عورت نظر آئی۔ بڑی مشکل سے اسے آواز دی۔ وہ آئی تو اسے کہا کہ مجھے دروازے سے ذرا پرے کر کے بٹھا دو۔ وہ گھن کھاتی ہوئی مجھے گھسیٹ کر ایک طرف ڈال گئی۔ میرے بھوکے نومولود کی آوازیں میرے دماغ پہ ہتھوڑے برسانے لگیں۔ مجھے یقین ہو چلا کہ وہ کچھ دیر میں وہاں کمرے میں پڑا مر جائے گا اور میں یہاں پڑی پڑی مر جاؤں گی۔“

”وہ ایک لمحے کو رکی اور پھر روانی سے بولنے لگی: ”میں نے اللہ سے دعا مانگی کہ اتنی ہمت عطا کردے جو خود کو گھسیٹ کر کسی طرح بچے تک لے جاؤں۔ پھر میں نے زمین پر لیٹے لیٹے خود کو گھسیٹنا شروع کیا۔ کمرے کا فرش دو سیڑھیاں اوپر تھا اور میرے بڑے آپریشن کے ٹانکے مجھے چبھ رہے تھے۔ جیسے ہی میں کمرے تک پہنچی میں نے پہلے وہاں پڑی قینچی سے اپنے وہ ٹانکے کاٹ دیے جو میرے نچلے دھڑ کو اوپر والے دھڑ کے ساتھ سئیے ہوئے تھے۔ میرے زخم کھل گئے اب پیپ اوپر والے زخموں سے بھی ابلنے لگی۔ پتا نہیں باجی کیسے میں نے وہ سب کچھ کیا۔ میرے بچے سکول گئے ہوئے تھے اور دو گھنٹے بعد انہوں نے واپس آکر کھانا مانگنا تھا۔ میں نے ان کے آنے سے پہلے صحن میں پانی بہایا تاکہ وہ گند صاف ہو جائے جو میرے اندر سے نکلا تھا۔ پھر پڑوس سے ایک بوڑھی عورت میرا پتا کرنے آئی تو میری حالت دیکھ کر اس کی اپنی حالت خراب ہوگئی۔ باجی وہ مجھے کہنے لگی کہ ’تونے اپنے ٹانکے کاٹ دیے اب تو نے نہیں بچنا۔ تیری تو حالت بہت خراب ہے۔ یہ کیا ظلم کیا؟‘

”میں نے اسے بتایا کی ان ٹانکوں سے تکلیف اور کھچاؤ اتنا تھا کہ میں مجبور ہوگئی۔ پھرمیرے بچے سکول سے بھوکے لوٹے تو اس پڑوسن کو کہا کہ کسی طرح مجھے اس چولہے کے پاس بٹھا دو۔ باجی اس روز بچوں کو کچی پکی روٹی بنا کر دی اور پھر ہسپتال جانے کے لئے اپنے یتیم بچوں کا سہارا لیا۔“

باہر بارش بہت زور کی برس رہی تھی۔ وہ اس کے تھمنے کا انتظار کررہی تھی اور اپنے دکھوں کی داستان مجھے سنا رہی تھی۔ میں اس کی باتیں توجہ سے سنتی رہی کہ پتا نہیں اس غریب کی بات کوئی سنتا بھی ہوگا کہ نہیں۔

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک عورت کی عقل میں تھوڑا پاگل پن تھا، اس نے عرض کی کہ ”یا رسول اللہ! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کام ہے (یعنی کچھ کہنا ہے جو لوگوں کے سامنے نہیں کہہ سکتی) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اے ام فلاں! (یعنی اس کا نام لیا) تو جہاں چاہے گی میں تیرا کام کر دوں گا۔‘“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں اس سے تنہائی ( میں بات) کی، یہاں تک کہ وہ اپنی بات سے فارغ ہو گئی۔ “

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز کرم دیکھئے کیا خوب پیغام دیا کہ اس بچاری کی بات تو کوئی بھی نہیں سنتا ہوگا پاگل سمجھ کر تو کیا میں بھی نہ سنوں؟ مجھے تو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔

بس ایسی ہی سنتوں کی پیروی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مخلوق کے دکھتے دل پہ مرہم والا ہاتھ بن جائیں۔

مجھے اس مظلوم کی داستان سن کر دکھ تو ہوا لیکن حیرت بھی ہوئی کہ وہ اب صحیح سلامت اتنی بیماری کے بعد گھروں کے کام کرکے اپنے بچوں کو پال رہی تھی اور اس کی خود داری بھی سلامت تھی۔ ہم جیسے تو بس نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ نہ بھوک مٹی اور نہ خوداری سلامت رہی۔ لالہ کہتا ہے تمہیں تو کبھی ان لوگوں سے فائدہ بھی نہ اٹھانا آیا جو خود اپنے فائدے کے سبب تمہارے نزدیک آئے۔ تمہارا حق تھا کہ جس طرح وہ مطلب رکھتے ہیں ویسے ہی تم بھی اپنا مطلب سامنے رکھو۔ لیکن تم تو ایک دم ناکارہ ہو اس لیں دین میں۔ کچھ نہیں ہوسکتا تمہارا۔

سچ تو کہا لالہ نے لیکن مجھے بہت کچھ چاہیے بھی نہیں۔ بس وہ عزت دینے والا ہے جو اس نے دے رکھی ہے وہ کمال ہے اور جو مزید دے گا وہ احسان ہے۔

وہ اپنی خوداری کی کہانی سنا رہی تھی کہ شوہر کے انتقال کے بعد میرا بچہ پیدا ہوا تو میرے حالات ایسے بھی نہ تھے کہ بچے کے بدن پہ کوئی کپڑا باندھ دیتی۔ جس باجی کے گھر میں نے کام شروع کیا تھا وہ ہسپتال آئی اور میری کچھ مدد کرگئی۔ بس مجھے اس احسان کا پاس تھا کہ جیسے ہی گھر آئی ہفتے بعد ہی باجی کے گھر کام کے لئے چل پڑی۔ تب میرے ٹانکے خراب ہوچکے تھے۔ باجی نے ایک بار پھر میری امداد کی اور کچھ روز آرام کرنے کو کہا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •