حمایت علی شاعر کی محبت کی معراج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ایک انسان کسی دوسرے انسان کو چاہتا ہے ’اس سے پیار کرتا ہے اور اس سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے تو اس کے دل میں
ایک خواہش جاگتی ہے
ایک آزرو ابھرتی ہے
اور ایک امید پیدا ہوتی ہے

کہ وہ انسان اس کا دوست بھی بن جائے اس کا محبوب بھی ’اس کا شریک ِ سفر بھی بن جائے اور اس کا شریکِ حیات بھی۔

لیکن اکثر اوقات
وہ خواہش پوری نہیں ہوتی
وہ آرزو تشنہ ہی رہتی ہے
اور وہ امید ادھوری رہ جاتی ہے

اور بہت سے لوگ کہتے ہیں
؎ آرزو اور آرزو کے بعد خونِ آرزو
ایک مصرعہ میں ہے ساری داستانِ زندگی

لیکن بعض خوش قسمت انسان ایسے ہوتے ہیں جن کی محبت کا خواب شرمندہِ تعبیر ہو جاتا ہے۔ حمایت علی شاعر بھی ان ہی خوش قسمت انسانوں میں سے ایک تھے۔

ان کی خواہش پوری ہو گئی
ان کی امید بر آئی
ان کا خواب شرمندہِ تعبیر ہو گیا
ان کی محبت کو معراج مل گئی

اور معراج نصف صدی تک ان کی دوست ’ان کی محبوبہ‘ ان کی بیوی ’ان کی شریکِ سفر‘ ان کی شریکِ حیات اور ان کے بچوں کی ماں رہیں۔
لیکن پھر نصف صدی کی رفاقت اور محبت کے بعد انہیں داغِ جدائی دے کر راہیِ ملکِ عدم ہو گئیں۔ انہوں نے حمایت علی شاعر سے عمر بھر وفا کی لیکن پھر زندگی نے ان سے بے وفائی کی۔

اس جدائی سے حمایت علی شاعر کے دل پر کیا گزری ’ان کے ذہن نے کیا محسوس کیا‘ ایک شاعر کے قلب پر کیا بیتی اور ایک شوہر کی زندگی کس طرح تبدیل ہوئی اس کی تصویر انہوں نے اپنی زندگی کی شام میں لکھی ہوئی اپنی غزلوں اور نظموں میں کھینچی ہے۔ یہ ایسی غزلیں اور نظمیں ہیں جو معراج کی یاد میں لکھی گئی ہیں اور اردو شاعری میں ایک گرانقدر اضافہ ہیں۔

حمایت علی شاعر اور معراج کا رشتہ ایک غیر معمولی رشتہ تھا۔ وہ رشتہ ایک ایسے ماحول میں پلا بڑھا جہاں

شاعر کی محبوبہ اس کی بیوی نہیں بن سکتی
اور بیوی کبھی محبوبہ نہیں بن پاتی
یہ محبت کی کرامت ہے کہ حمایت علی شاعر کی بیوی ان کی محبوبہ تھیں اور ان کی محبوبہ ان کی بیوی تھیں۔
کسی انسان سے محبت کرنا اور پھر اس محبت کے چراغ کو دل میں نصف صدی تک جلائے رکھنا محبت کی معراج نہیں تو اور کیا ہے۔

لیکن اس محبت کو کھو دینا ایک ایسا تجربہ ہے جس میں سکھ بھی ہیں اور دکھ بھی۔ مسرتیں بھی ہے اور اذیتیں بھی اور حمایت علی شاعر نے ان دکھوں اور سکھوں ’ان اذیتوں اور مسرتوں کی کہکشاں کے سب رنگ اپنی شاعری میں بکھیر دیے ہیں۔

معراج نسیم جو 25 دسمبر 1936 کو پیدا ہوئی تھیں 21 نومبر 2002 کو فوت ہو گئیں اور انہیں پاکستان کی بجائے کینیڈا کے شہر PICKERING میں دفن کیا گیا۔ حمایت علی شاعر کی نظم۔ معراجِ غم۔ کا ایک بند ہے

؎ اے کینیڈا کی خاک امانت ہے تیرے پاس
میری متاعِ عشق مری دولتِ ثبات
میری بہشتِ خواب مری کائناتِ دل
میری تمام عمر مرا حاصلِ حیات

جہاں حمایت علی شاعر کو معراج کے جانے کا دکھ تھا وہیں انہیں خدا پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ اس نے اس عمر میں ان کا محبوب ان سے چھین لیا۔ لکھتے ہیں

؎ موت آئی اور لے گئی سب کچھ سمیٹ کر
میں دیکھتا ہی رہ گیا پتھر بنا ہوا
میرا تھا کیا قصور جو یہ دی گئی سزا
کیوں ڈھا دیا خدا نے میرا گھر بنا ہوا

ماہرینِ نفسیات جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے محبوب کو کھو دیتا ہے تو وہ GRIEF PROCESS کے کئی مراحل سے گزرتا ہے۔ ان مراحل میں سے ایک مرحلہ DENIAL ہے کیونکہ اسے یقین ہی نہیں آتا کہ اس کا محبوب ہمیشہ یمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا ہے۔ بعض دفعہ تو اسے مردہ کی پرچھائیاں گھر میں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔

ایک مرحلہANGER بھی ہے۔ کبھی اسے محبوب پر غصہ آتا ہے کہ وہ اسے داغِ جدائی دے کر رخصت ہو گیا کبھی اسے خدا پر غصہ آتا ہے کہ کیوں اس کا محبوب اس سے چھین لیا۔

اور ایک مرحلہ GUILT بھی ہے کہ اگر زیادہ خدمت کی ہوتی زیادہ تیمارداری کی ہوتی یا بہتر علاج کروایا ہوتا تو محبوب کچھ دن اور زندہ رہ جاتا۔ حمایت علی شاعر اپنے مصرعے

؎ میرا تھا کیا قصور جو یہ دی گئی سزا
میں لاشعوری طور پر اپنے قصور اور سزا کا ذکر کر ریے ہیں۔

بعض دفعہ اس GRIEF PROCESSمیں ایک مرنے کی خواہش بھی شامل ہوتی ہے اور یہ خواہش ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے جو حیات بعد الموت پر یقین رکھتے ہیں۔ حمایت علی شاعر نے بھی اس خواہش کا اظہار ان اشعار میں کیا ہے

؎ معراج تیری قبر کی مٹی ہے میرے ساتھ
کیا جانے کب کہاں میرا دل ساتھ چھوڑ دے
کیا جانے کب یہ خاک ملے میری خاک سے
کیا جانے کب یہ ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑ دے

جب محبت میں دو انسان یک جان دو قالب ہوتے ہیں تو پھر جب ایک انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو دوسرے کے لیے زندہ رہنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ نفسیات کی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ طویل شادی اور محبت کرنے والے نجانے کتنے انسان شریکِ حیات کی وفات کے بعد ایک یا دو سال سے زیادہ زندہ نہیں رہتے۔ حمایت علی شاعر فرماتے ہیں

؎ اس عمر میں اس شخص کو چھینا گیا مجھ سے
جو مجھ میں مری روح کی مانند مکیں تھا

محبوبہ چلی گئی لیکن حسیں یادیں چھوڑ گئی۔ ان یادوں کی خوشبو سے حمایت علی شاعر کا دل اور گھر مہکا تو لکھا
؎ وہ تو چلی گئی مگر اس کے وجود کی
خوشبو بسی ہوئی مرے شام و سحر میں ہے

حمایت علی شاعر نے اپنی بیگم کے ساتھ مل کر اپنے بچوں کے لیے جو گھر بنایا تھا اس کا نام۔ گہوارہ۔ رکھا تھا۔ حمایت علی شاعر نے اس گہوارے کی دیواروں پر اپنے محبوب کی تصویریں لٹکائیں اور پھر لکھا

؎ جس کے لیے تم آج اس گھر میں مکیں ہو
دیکھو مری آنکھوں سے ہر اک سمت تمہیں ہو
دیواروں پہ آویزاں ہیں تصویریں تمہاری
پکرنگ میں گھر ہے مگر آباد یہیں ہو

حمایت علی شاعر اپنی بیگم کی وفات کے دو سال بعد تک ان کی یاد میں نظمیں لکھتے رہے لیکن پھر خاموش ہو گئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ خاموشی بڑھتی گئی اور پھر سترہ برس بعد 2019 میں اس خاموشی نے ان کا موت سے تعارف کروایا اور ان کی اپنی پرانی محبوبہ سے ملنے کی خواہش پوری ہو گئی۔ اس دفعہ یہ ملاقات عارضی نہ تھی دائمی تھی۔

حمایت علی شاعر معراج کی وفات کے بعد جتنے برس زندہ رہے ان میں سے ایک دن بھی اپنی محبوبہ کی یاد سے غافل نہیں رہے
؎ گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

حمایت علی شاعر مرتے دم تک معراج کی تصویروں سے باتیں کرتے رہے۔ لکھتے ہیں
؎ مرے کمرے کی دیواروں پہ تصویریں ہیں جتنی
سب تمہاری ہیں

یہ تصویریں کمرے کی دیواروں پر نہ بھی ہوتیں تب بھی وہ تصویر ان کے دل کی دیوار پر آویزاں تھی اور ان کی یہ حالت تھی
؎ دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

حمایت علی شاعر اور معراج کی محبت کی کہانی
؎ نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ معراج نسیم حمایت علی شاعر کی محبت کی معراج تھیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 240 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail