معاشرے میں بڑھتا ہوا خواتین کارڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا پہ دو خبروں کا نہایت چرچا رہا، دونوں خبریں جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی گئیں، دونوں واقعات میں جانبداری کی شرح موجود تھی سو لوگوں نے قدرے دلیلوں اور وضاحتوں سے اپنا موقف بھی بیان کیا، کچھ نے بس جلتی میں تیلی کا کام کیا، پہلی خبر یہ تھی کہ اداکار اور سنگر محسن حیدر نے اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا، زدوکوب کیا ہے اور پھر عوام کے سامنے جھوٹی قسموں اور دلیلوں سے یہ واضح کیا ہے کہ وہ عورت ذات کی ہتکِ عزت کا سوچ تک نہیں سکتے۔

دوسری خبر کے مطابق مشہور کرکٹر امام الحق نے کچھ لڑکیوں کو نازیبا پیغامات بھیجے ہیں ان کو ہراس کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں خبروں پر ٹویٹر پر ٹرینڈز چلے اور لاتعداد memes بنے جو خالصتا عوامی ردعمل تھا جو کہ ہر سوشل میڈیا ایپ پر کئی دنوں تک وائرل رہے۔ ان دونوں خبروں کا بعد میں کیا ہوا، کوئی کچھ نہیں جانتا خدا جانے اک گردوغبار کا طوفان اٹھا اور کہاں چلا گیا۔ سوشل میڈیا بھی اس بارے میں اب کافی حد تک خاموش ہے

پچھلے چند سالوں سے سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔ ہماری خوشی غمی کا اعلان اب سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔ لڑائیوں نے بھی سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ جب تک ہم اپنی روزمرہ زندگی کا اعلان اس سوشل میڈیا پہ نہیں کرتے، ہمیں سکون نہیں ملتا۔ سوشل میڈیا کے جہاں بے شمار فائدے ہیں تو اس کے نقصان بھی کچھ کم نہیں۔ مثال کے طور پر، آپ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے کسی پر بھی الزام لگا سکتے ہیں، کسی کی عزت اچھال سکتے ہیں، اور اس انسان کی عزت اتروانا اتنا آسان ہے جتنا کہ پانی سے گلا تر کرنا، کسی بھی انسان کو ان رسوائیوں میں دھکیلا جا سکتا ہے، جس سے واپسی ناممکن ہوتی ہے اور آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اس کو آزادی رائے میں گردانا جائے گا، کیونکہ آپ ایک آزاد ملک کے ایک آزاد شہری ہیں ہمیں چاہے پورے حقوق نا ملتے ہوں، چاہے ہمیں سیاسی اور سماجی شعور نا ہو مگر ہم سرجھاڑ، منہ پھاڑ دوسروں کی عزت اتارنے میں پیش پیش ہوتے ہیں

وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بھی کافی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ماضی کی نسبت اب زندگی کے ہر شعبے میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں اور تو اور کچھ شعبوں میں مردوں سے کافی آگے نکل چکی ہیں جو کہ ایک نہایت خوش آئند بات ہے۔

ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایک چیز ہمارے معاشرے میں پنپ چکی ہے وہ ہے خواتین کارڈ۔ پہلے ہم سنتے تھے کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے مگر اب یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہم خواتین کے معاشرے میں جی رہے ہیں، جہاں عورت کو اک نہاہت معطر اور پاکیزہ شے کا درجہ حاصل ہے۔ نو ڈاوٹ معاشرے میں عورت جنس کا استحصال ہوتا ہے مگر ہم ان کی نام کی مالا جھپنے میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ ہمیں باقی اجناس پہ ہونے والی زیادتیاں اور ستم بھول جاتے ہیں۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں خواتین کو ایک خاص قسم کا استحقاق حاصل ہے۔ جس کے مطابق عورت کی عزت کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر اکثر مرد اپنی جگہ خواتین کو اسی استحقاق کی وجہ سے دیتے ہیں، کسی لائن میں کھڑی ہوں، بل جمع کرانا ہو یا کوئی ایسا حکومتی امور ہو، ان سب خواتین کو مردوں پہ فوقیت دہ جاتی ہے۔ اس استحقاق کی اور بھی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود مظلوم عورت ہی ہے۔ اگر عورت اور مرد کے درمیان کوئی مسئلہ ہو جائے تو ہم بنا کچھ سوچے سمجھے یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ عورت صحیح ہے اور مرد غلط۔ اکثر ہی ہم لوگ سطح سمندر دیکھ کر اس کی گہرائی کا اندازہ لگاتے جبکہ معاملے کی درست جانچ کے لئے اس کے نہاں خانوں میں جھانکنا پڑتا ہے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو ملتے ہیں اور یوں دوستی ہوتی ہے۔ نمبرز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ باتیں ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا ہے۔ اکٹھے کھانے کھائے جاتے ہیں۔ لیکن جب بریک اپ ہوتا ہے اصل کھیل تب شروع ہوتا ہے۔ وہ جو لڑکا لڑکی کی پہلے دوستی ہوتی تھی اب وہ ہراسمنٹ کہلاتی ہے۔ ایک دوسرے کے تمام کانفیڈنشیلز نظروں کے سامنے پست ہو جاتے ہیں اور کسی کوڑے دان کہ نہیں تو سوشل میڈیا پہ ان کی نمود کی جاتی ہے۔

ان دونوں فریقین کی جو پہلے بے تکلفی ہوتی تھی اب وہ فزیکل ابیوز کہلاتی ہے۔ جب تک لڑکا اور لڑکی راضی تھے تو سب کچھ پرفیکٹ تھا، اب اگر دونوں میں سے کسی ایک کا دل ہٹ گیا تو لڑکا ولن ہو گیا۔ مطلب یہ کہ جب تک لڑکی کو پسند تھا سب ٹھیک تھا، اب اسے نہیں پسند تو یہ ہراسمنٹ ہو گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ پھر جو کچھ کیا ہوتا ہے، پرانی باتوں کے کچے چٹھے کھولے جاتے ہیں۔ وٹس ایپ /مسنیجر کی چیٹس کے سکرین شاٹس لے کر سوشل میڈیا پر شائع کیے جاتے ہیں۔ اگر ساتھ لڑکی کے دو چار آنسو شامل ہو جائیں تو سونے پہ سہاگہ۔ اب سارا سوشل میڈیا اس لڑکے کے خلاف، چاہے وہ بیچارا قصوروار ہو ہی نا۔

اب شروع میں دی گئی دو خبروں کو ہی لے لیجیے۔ ان لڑکیوں نے امام الحق پر ہراسمنٹ کا الزام لگایا۔ ان کی وٹس ایپ چیٹس کہ سکرین ساٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ لیکن یہ ہراسمنٹ تب کہاں تھی جب دونوں کے مابین تعلقات شروع ہوئے تھے؟ یعنی جب لڑکی رضامند تھی تو سب کچھ نارمل تھا لیکن جیسے ہی امام نے شادی سے منع کیا وہ ہراسمنٹ بن گئی۔ دوسری خبر کو لیں، جس کے مطابق گلوکار محسن حیدر نے اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •