کشمیر، شہ رگ یا اٹوٹ انگ؟


انگریز ہندوستان کو تقسیم تو کرگیا مگر اس تقسیم میں کچھ ایسی فاش غلطیاں کرگیا جس کی سزا آج بھی یہ خطہ بھگت رہا ہے۔ کہیں یہ غلطی پنجاب کی تقسیم میں کی گئی تو کہیں ریاستوں کے الحاق میں۔ ان غلطیوں کی وجہ سے بہت سے تنازعات نے جنم لیا جن میں سب سے بڑا اور گمبھیرتنازعہ کشمیر کا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جسے ہر دور کے شاعروں اور ادیبوں نے ہمیشہ جنت کا نام دیا اور اس کی بے پناہ خوبصورتی آج تک اپنی مثال آپ ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں، خوبصورت و سرسبز چراگاہوں، قدم قدم پر بہتے ہوئے جھرنوں اور ہر گام پر پہاڑوں کی کوکھ سے ابلتے میٹھے پانی کے چشموں کی دولت سے مالا مال یہ خوبصورت قطعہِ ارض پچھلے بہتر سال سے خاک و خون کی لپیٹ میں ہے۔ برطانوی سامراج نے نجانے کس مقصد کے تحت اس کے الحاق کا فیصلہ نہ کیا اور یوں ایک ایسے تنازعے کا آغاز ہوا جو دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی المیوں میں سے ایک ہے اور جس کی وجہ سے پاکستان اور بھارت تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔

حال ہی میں بھارت کی جانب سے آئین میں تبدیلی کرکے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی جو بھونڈی کوشش کی گئی ہے وہ خطرناک ہے۔ اگر بھارت واقعتاً وہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جو اس کے عزائم ہیں تو کشمیر کے حالات مزید خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے اور کشمیر اگلا فلسطین ثابت ہوگا۔ ہندوستان کشمیر میں آبادکاری کی کوشش کر رہا ہے جس کا واضح مقصد آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اکثریت کو اپنے حق میں کرنا ہے جو انتہائی مکروہ عمل اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

مودی حکومت کے خطرناک عزائم بتا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید شدت اختیار کرے گا اور وادی میں حالات گمبھیر سے گمبھیر تر ہوتے چلے جائیں گے۔ پاکستان کا اس معاملے پر جو موقف سامنے آیا ہے وہ میرے خیال میں کافی نہیں ہے اور پاکستان اس صورتحال کا صحیح ادراک اور اپنے کردار کو سمجھنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ یا پھر شاید ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ بھارت پر زیادہ دباؤ ڈال کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر سکیں۔ اسی طرح عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی بھی اپنی جگہ شرمناک ہے۔ کشمیریوں کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اس جنگ میں تم اکیلے ہو اور نام نہاد انسانیت پرستوں کے لیے تمہاری شہادتیں کوئی معانی نہیں رکھتیں۔

اب اس تناظر میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں ہر طرح سے ہر فورم پہ کشمیر کاز کے لیے متحد ہونا چاہیے مگر گزشتہ دنوں جو صورتحال کشمیر کے مسئلے پر بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دیکھنے کو ملی وہ شرمناک ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس موقع پر متحد ہوتے اور دنیا کو یہ پیغام جاتا کہ پاکستان کشمیر کے لیے سنجیدہ ہے اور اس مسئلے کا مستقل حل چاہتا ہے مگر ہمارے رہنماؤں نے اس موقعے پر بھی اپنے مفادات اور سیاست کو ترجیح دی اور ایوان کو مچھلی منڈی بنائے رکھا جو عالمی برادری میں منفی تاثر کا باعث بنا۔

مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ہر طرح کی مدد فراہم کرتا آرہا ہے اور پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال بھی مثالی ہے۔ دنیا کے ہر فورم پر پاکستان ہمیشہ کشمیر کے حل کی بات کرتا ہے مگر بھارت اس معاملے میں بالکل ہٹ دھرم نظر آتا ہے اور وہ کسی کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ اگر چہ کچھ ادوار میں بھارتی حکام اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ نظر آئے مگر اکثر و بیشتر اسے مسئلہ ہی نہیں مانا گیا اور اپنا اٹوٹ انگ قرار دیا جاتا رہا۔ اور اب مودی حکومت اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر کشمیر کی متنازع حیثیت کو بھی ختم کرنے کے درپے ہے جو بہت خطرناک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیری چاہتے کیا ہیں۔ آیا وہ پاکستان میں شمولیت چاہتے ہیں یا بھارت میں یا پھر وہ آزادی چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور ممتاز حریت پسند رہنما یسین ملک نے 2014 میں انڈیا ٹی وی کے ایک معروف پروگرام میں یوں دیا تھا ”ہمارا سیاسی منشور یہ ہے کہ کشمیر کو آزاد ریاست بننا چاہیے تاہم یہ فیصلہ کشمیریوں پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔“

یہ وہ بات ہے جو بھارت اور پاکستان دونوں کے لیے خطرہ ہے۔ دونوں ممالک میں آزادی سے اب تک کشمیر پر سیاست ہوتی رہی ہے اور کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اور دونوں میں سے کوئی بھی اپنے اس حق سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے بہت سے رہنماؤں کی نظر میں کشمیریوں کے پاس صرف دو راستے ہونے چاہییں، یا تو وہ بھارت میں شامل ہوں یا پھر پاکستان میں۔ دراصل کشمیری جس بربریت کا شکار ہوئے ہیں اس کے بعد وہ اب آزادی کو ہی اپنا واحد حل سمجھتے ہیں اور اس سے کم کسی حل پہ وہ آمادہ نہیں ہوں گے۔ اور یہ چونکہ دونوں ممالک کے مقتدر حلقوں کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے اس لیے آزاد ریاست کا آپشن ان کے نزدیک بہت فاش غلطی ہوگا مگر میری نظر میں کشمیریوں کو تین آپشن ہی دینے چاہییں۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر کشمیر کا معاملہ مجھے حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔

Facebook Comments HS