جنوبی وزیرستان: دو قبائل میں جنگ چھڑ گئی، مورچہ بند لڑائی، متعدد ہلاک و زخمی


جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں دوتانی اور زلی خیل وزیر قبائل کے مابین شدید مسلح جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ اب تک ہونے والی لڑائی میں فریقین کی جانب سے دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 14 اگست کی شب دوتانی قبائل کے 300 کے قریب مسلح افراد نے کرکنڑہ کے مقام پرزلی خیل قبائل کے رہائش پذیر درجنوں افراد پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجہ میں زلی خیل قبائل کا ایک شخص جان بحق جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ دوتانی قبائل کرکنڑہ اور اس کی مضافاتی پہاڑی چوٹیوں پر قبضہ کرکے مورچہ زن ہ وگئے۔

ردعمل میں زلی خیل قبائل نے ہنگامی طور پر 1400 افراد کا لشکر تیار کرکے کرکنڑہ کی جانب پیش قدمی شروع کر دی۔ اطلاعات کے مطابق زلی خیل قبائل کے مسلح لشکر نے 15 اگست کی درمیانی شب دوتانی قبائل کے مسلح مورچہ زن افراد کو پسپائی پر مجبور کر کے ان سے درجنوں مورچے واپس لے لئے ۔

تازہ اطلاعات کے مطابق تابی کے مورچہ پر ابھی تک دوتانی قبائل قابض ہیں اور زلی خیل قبائل کے مسلح افراد نے ان کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ اس مقام پر چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی اطلاعات آ رہی ہیں جبکہ دوسری جانب سے زلی خیل قبائل کے مسلح افراد کی جانب سے جوابی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہے۔ زلی خیل قبائل تابی مورچے کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں جس سے ایک بار پھر وزیرستان میں بڑے مسلح تصادم کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

انتظامیہ کی بھرپور کوششوں کے باوجود تاحال دونوں قبائل کے مابین مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ دونوں قبائل کے مابین کرکنڑہ کی ملکیت پر پرانا تنازع چلا آ رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سول انتظامیہ کے ذمہ دار اور اہل افسران تعینات ہوتے تو دونوں قبائل کے مابین مسلح تصادم کی نوبت نہ آتی اور حالات پر بروقت قابو پایا جاتا تھا۔

Facebook Comments HS