گورکھ ہل میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے گندگی کے ڈھیر
کچھ ماہ پہلے میرا دوستوں کے ساتھ گورکھ ہل جانا ہوا وہاں پہنچ کر دیکھا تو راستے میں گند کچرہ پھیلا ہوا تھا۔ اتنی گندگی دیکھ کر مجھے سخت مایوسی ہوئی یہ پہلے والا گورکھ نہیں تھا جو دو سال پہلے تھا۔ افسوس کہ آج آدم زادوں کے ہجوم نے قدرت کے عجوبے گورکھ کا برا حال کر دیا ہے۔ وہ جو کئی سالوں سے اس کی خوبصورتی کا چرچا ہو ا کرتا تھا۔ اب کچروں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ صفائی ستھرائی کا نظام ابتر ہے۔
دوست نے سوال کیا کے یونس بھائی یہاں پر صفائی کا خیال کیوں نہیں کرتے؟ میں نے جواب دیا سائیں اب آدم زادے اتنے زیادہ ہو گئے ہیں۔ کہ اب یہاں صفائی کا کوئی خیال نہیں رکھتا اور گورکھ کی اس طلسماتی سحر کو ٹھیس پہنچ رہی ہے جس کی خوبصورتی کا ذکر کتابوں میں پڑھا تھا۔ اگر اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو صفائی نصف ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔
یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ کہ اس کے تعلق سے لوگ غیر محتاط اور غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں ”، اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ فالتو چیزیں کوڑا کرکٹ ڈسٹبن میں ڈالنے کے بجائے سڑکوں اور راستوں پر پھینک دیتے ہیں، حتی کہ پڑھے لکھے لوگ بھی صاف ستھری جگہوں پر کوڑا پھینکنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ ویسے بھی گندگی اور صفائی ستھرائی کا تعلق غربت اور امرا سے نہیں ہے۔ ایک ہسپانوی کہاوت ہے کہ“ غربت اور صفائی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ”۔
یعنی کسی شخص کا امیر ہونا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں گا۔ یا کسی کا غریب ہونا اس کے گندے ہونے کی علامت نہیں ہے۔ ایک غریب سلیقہ مند بھی اپنے ماحول کو صاف ستھرا اور خوشگوار بنا سکتا ہے۔ خواہ آپ کسی بنگلے میں رہتے ہیں یا ایک سادہ سے گھر میں، یا کسی گاؤں دیہات کے جھونپڑی میں۔ گھر کے باہر والے حصے کو صاف ستھرا رکھنا ہماری اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری ہے۔
انسان کی اتنی بے حسی بڑھ گئی ہے کہ گورکھ جیسی دلکش وادی اور تباہی کچرے کی کرامات کو دیکھ کر سخت مایوسی ہوتی ہے زیادہ تر پڑھے لکھے نوجوان یہ سب کرتے ہیں۔ اگر کوئی بندہ کسی کو کچرہ پہنکتے ہوئے دیکھتا بھی ہے تو ان دیکھی کرتے ہیں اور کہنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اسی طرح جہاں تھوکنا منع ہے وہیں زیادہ تھوکتے ہیں جہاں کوڑا پھینکنے پر پابندی ہو وہاں کوڑے کاڈھیر لگا ہوتا ہے، کچرے کے ڈبے اندر سے خالی ہوتے ہیں اور اُن کے باہر کوڑے کا ڈھیر لگا ہوتا ہے۔ یہ ہماری معاشرتی زندگی کی تربیت کا فقدان ہے کہ ہم ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے منع کیا جائے۔
آپ جہاں بھی سیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں۔ اور اپنے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں اور دیگر لوازمات جس شوپر میں لے جاتے ہیں۔ اور کھانے پینے کے بعد جو چیزیں بچ جاتی ہیں وہ جمع کرکے تھیلے میں ڈال کر اپنے ساتھ واپس لے جائے یا ڈسٹبن میں ڈال دے تو ”گورکھ ہل“ وادی کا حسن برقرار رہے گا۔ جبکہ گورکھ ہل کو سندھ کا مری بھی کہا جاتا ہے۔ خدارا جہاں بھی گھومنے جائے تو صفائی کا خاص خیال رکھیں۔







