مستقبل کے معمار، ہم اور ہماری حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح دفتر جانے کے لیے اپنے فلیٹ سے نیچے اُترا تو سامنے والی بلڈنگ کے سیڑھیوں پر جونہی نظر پڑی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بچے کے ہاتھ میں دو بالٹیاں ہیں، جنہیں وہ بمشکل اٹھاتے ہوئے نیچے لا رہا ہے۔ بچے کی عمر اور مشقت دیکھ کر بہت پریشان ہوا، پر اس سخت دل اور ظالم معاشرے کا حصہ ہونے کی وجہ سے صرف مدد کا ہی پوچھا کہ تب تک وہ نیچے اُتر ہی چکا تھا۔ گند سے بھری ہوئی دونوں بالٹی نما ڈسٹ بنز کو چھوٹی ہاتھوں کی بڑی مہارت سے سنبھال کر چل دیا اور گاربیج کنٹینر بلڈنگ کے سامنے سڑک کے دوسری طرف قریب ہونے کی وجہ سے مدد نہ کر سکا مگر میں نے پھر بھی انتہائی ڈھٹائی اور افسوس کی حالت میں اس منظر کو عکس بند کیا اور موبائل سے فوراً تصویر بنالی اور پھرآفس کو چل دیا۔

گلی بدلی، موڑوں سے رستہ بدلا پر میرے ذہن میں چلتے معاشرتی افسوس کا محور نہ بدل سکا۔ حکام بالا سے پہلے اپنے معاشرے کو کوس رہا تھا کہ میرے ذہن میں پیوست ایک واقعہ یاد آگیا جس کی وجہ سے لکھنا لازمی سمجھا۔

یہ 2010 کی بات ہے، میں بینظیر انکم سپورٹ کے تحت وسیلہ ِحق پروگرام میں مستحقین کے لئے ایک ٹیم کے ساتھ والنٹیر رجسٹریشن کنفرمیشن سروے کروایا، جس میں ادارہ کو ایپلیکیشنز اور رجسٹریشن کی کنفرمیشن کروانا تھی۔ میرا کام صرف متعلقہ عملے کو لوگوں کے گھروں تک پہنچانا تھا۔ اس دوران میں دیکھتا ہوں کہ فارمز کی ترتیب میں بہت سے ایسے نام بھی دیکھنے کو ملے، جن پر غربت کا ٹیگ لگانا باعث حیرت چیز تھی۔ جو اچھے خاصے، کھاتے پیتے گھروں میں شمار ہوتے تھے جن کا ذکر متوسط طبقے میں کیا جائے تو غلط نہ ہوگا یہ دوغلے مزاج لوگ ایک طرف سوسائٹی میں اپنی عزت کا طبلہ بجاتے ہیں اور دوسری طرف اخلاقی اقدار میں غریب کا حق کھاتے ہیں۔ وہ نام اج تک میرے دل پر نصب ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیواؤں کے ضروریات کا حق مارنے میں صرف ڈیموکریٹ ملوث ہے؟ کیا غرباء کا سانس محال کرنے میں سسٹم ملوث ہے؟ کیا یہ ملکی کفالتی پروجیکٹس کے بنیادی مقاصد میں ان ”ہم“ (افراد) کو کھلی چھوٹ دی رکھی ہے غرباء کا حق کھانے کی؟ کیا غریب ننھے بچوں کا سکولوں کے بجائے مشقت گری میں گرنا صرف اور صرف کسی سیاسی یا مذہبی یا ملکی سسٹم کا گناہ ہے؟ کیا یہ زرداری، عمران خان، نواز شریف یا مولانا طارق جمیل کا گناہ ہے؟

بالکل نہیں یہاں ”ہمارا“ گناہ ہے، یہ ”ہم“ (معاشرہ) ان جیسے ہزاروں بچوں کے مستقبل کے قاتل ہیں۔ ایسے بچوں کے ہنر کو پیدائش میں ہی ڈھنگ مارنے والے ”ہم“ (معاشرتی سانپ) ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر حصے میں داخل ہوچکا ہے۔ امانت، دیانت، صداقت، عدل، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار صرف اجتماعی تقریب کی جھلکیوں تک محدود ہیں جن کا آج کل سیزن بھی ہے۔ ناجانے کس منہ سے ”ہم“ سوسائٹی اسٹریٹ کرائم کا رونا روتے ہیں جبکہ حکومتی سطح پر پالیسیاں اسی نچلے طبقہ کی خیرخواہ ہوتی ہیں جس کے فوائد ”ہم“ (کرپٹ لوگ) ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دبوچ لیتے ہیں۔ کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح کسی انفرادی اداروں یا شخصیات میں نہیں بلکہ ”ہمارے“ معاشرے میں ہماری ہی پھیلائی ہوئی ہے، جی بیشک ”ہم“ ہی نے پھیلائی ہے۔

یقین جانئیے ظلم و نا انصافی کا دور دورہ کسی حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ ”ہماری“ وجہ سے ہی ہے۔ لوگوں میں قومی درد صرف اجتماعی تنقید کے دوران ہوتا ہے۔ انفرادیت کے ترازو میں ”ہم“ سے بڑا حیوان کوئی نہیں ہے۔ اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی ”ہم“ اپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ”ہمارے“ قومی مزاج میں داخل ہوچکے ہیں۔

یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس میں نظر آتا ہے۔ جی یہ ہی صورت ہے جس میں ”ہم“ تصویر میں موجود ننھے معمارانِ وطن کے قاتل نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رانا محمد طیب کی دیگر تحریریں
رانا محمد طیب کی دیگر تحریریں