جب روبوٹ عبادت گاہوں میں ملا، پنڈت اور پادری کی جگہ لیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں عربی زبا ن سے نا بلد دنیا دار انسان ہوں۔ میری دانست میں عبد عبداللہ کے معنی اللہ کے بندے کا بندہ ہے۔ اللہ کے (امریکن) بندے جارج ڈیول نے 1954ء میں اپنا پہلا ذاتی بندہ ”یونی میٹ“ نامی روبوٹ ایجاد کیا۔ 1956 ء میں ڈیول نے اپنے پارٹنر جوزف اینجل برگر کے ساتھ مل کر دنیا میں ذاتی بندے بنانے کی یعنی پہلی روبوٹ فیکٹری ”یونی میشن“ قائم کی۔ یونی میٹ اپنی پیدائش کے ٹھیک سات سال بعد یعنی 1961 ء میں نیو جرسی میں واقع جنرل موٹر آٹو موبائلز فیکٹری میں مزدوری پر لگ گیا جہاں وہ لوہے کے گرم ٹکرے ڈائی کاسٹنگ مشین سے اٹھا کر ایک جگہ سٹاک کرتا تھا۔ بعدازاں یونی میشن نے اپنے بندوں کی افزائش نسل کا ٹھیکہ یعنی اس ٹیکنالوجی کا لائسنس جاپان میں کاواساکی ہیوی انڈسڑیز اور انگلینڈ میں GKN نامی کمپنی کو دے دیا۔ 1970 ء کے آخر تک یو نی میٹ کی خاطر خواہ افزائش نسل ہو چکی تھی جس کی وجہ سے دیگر امریکی کمپنیاں بھی اس میدان میں کود پڑیں جن میں جنرل الیکٹرک، آٹو میٹکس اور اڈپٹ قابل ذکر ہیں۔

1984 ء میں جب یونی میشن اپنے عروج پر تھی تو ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کارپوریشن نے 107 ملین ڈالر میں اسے خرید لیا۔ مگر محض چار سال بعد ہی یعنی 1988 ء میں ویسٹنگ ہاؤس نے اسے فرانسیسی فرم سٹاؤبلی فیورجزکو فروخت کردیا جو آج تک اسی کے پاس ہے۔ مختلف مالکوں کے ہاتھوں میں بکنے کی وجہ سے یونی میٹ کی ہیت، شکل و صورت اور صلاحیت بھی بدلنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔ یونی میٹ مختلف ناموں کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کے ہر شعبہ ہائے میں بھی کام انجام دینے لگی۔ بالاآخر اس کی بین الاقوامی فیڈریشن بھی تشکیل پا گئی۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی رپورٹ 2015 ء کے مطابق پوری دنیا میں 1.64 ملین انڈسٹریل روبوٹس کام کر رہے ہیں۔

چائنہ اس بردہ فروشی یعنی اس انڈسٹریل روبوٹس فروخت کرنے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔ جس نے محض 2017 ء میں 137900 یونٹ فروخت کیے ہیں۔ جاپان بھی انڈسٹریل روبوٹس کا بھاری سٹاک رکھتا ہے 2015 ء کے آخر تک اس کے پاس 286554 یونٹس تھے۔ امریکہ 2018 ء تک 35880 یونٹس فروخت کر چکا ہے۔ روبوٹس کے بڑے خریداروں کے مارکیٹ میں آٹو موٹیو انڈسٹری کی شرح 33 %، الیکٹریکل اینڈ الیکٹرنکس 32 %، میٹل اینڈ مشینری 12 %، ربڑ اینڈ پلاسٹک انڈسٹری 5 %، فوڈز انڈسٹری 3 %ہے۔ جبکہ ٹیکسٹائل ایپرل اور لیدر انڈسٹری میں 1580 یونٹس اس وقت کام کر رہے ہے۔

آغاز میں یونی میٹ کی کوئی جنس مقرر نہ کی گئی تھی مگر بعدازاں ان کی تعدادبڑھنے کی وجہ سے مختلف مالکان نے ان کی مختلف شکل و صورت کے مطابق ان کے نام رکھ کر ان کی جنس کا تعین بھی کر دیا۔ جو ں جوں مصنوعی ذہانت کے حامل ربڑ اینڈ پلاسٹک انڈسٹری کے روبوٹس میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں ایک نئی انڈسٹری ”مذہبی انڈسٹری“ بھی جنم لے چکی ہے۔ جرمن خبررساں ادارے DWکی رپورٹ کے مطابق جاپان کے چار سو سالہ پرانے ایک بدھ ٹمپل میں راہب کی جگہ ایک روبوٹ تعینات کرنے کی کو شش کی جا رہی ہے۔

مندر نامی اس روبوٹ کے ساتھ کام کرنے والے مقامی بھکشوؤں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک دن یہ لا محدود حکمت حاصل کر لے گا۔ بھکشو ٹینشو گوٹو اس روبوٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹ کبھی نہیں مرے گا بلکہ یہ خود کو اپ ڈیٹ کرتا رہے گا۔ گوٹو نے مزید کہا ہے کہ ”مجھے امید ہے کہ مستقبل میں مندر نامی یہ راہبہ زیادہ ڈیٹا سٹور کر سکے گی اور ہر کسی کے سوالوں کا جواب دے سکے گی۔ “

قبل ازیں جاپان کے ہی ایک علاقے کیوٹو میں واقع کیو ڈائجی ٹمپل میں ”کنان“ نامی روبوٹ بدھ مت کے ماننے والوں کو تبلیغ کر رہا ہے۔ گو کہ اس واعظ روبوٹ کے حوالے سے مثبت اور منفی دونوں طرح کی آراء سامنے آ رہی ہیں تعریف اور تنقید بھی کی جارہی ہے مگر یہ طے ہے کہ آنے والے برسوں میں بہر حال روبوٹ مبلغ کا کردار ادا کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ رفتہ رفتہ یہ روبوٹک واعظین دیگر ادیان میں بطور ربی، مربی، پوپ، پنڈت، مولوی، ملاں اور پیر و پادری اپنی جگہ بنا لیں گے۔

تاہم مسلمانوں میں گھسنے کے لئے انہیں سخت محنت کرنا پڑے گی۔ مسلم سوسائٹی میں داخلے سے قبل یونی میٹ کو اپنی امریکن شہریت اور شناخت تبدیل کر کے اسلام قبول کرنا ہوگا۔ مجھے قوی یقین ہے کہ ان معصوم مذہبی فرشتہ نما روبوٹس پر اہل ایمان مذہبی طبقات کی جانب سے شدید مخالفت بلکہ لعنت ملامت کی جائے گی۔ کیونکہ اہل اسلام اسے جلد بازی میں قبول کر کے ایمان کو کمزور نہیں کر سکتے۔ مسلم علماء کی جانب سے کفر کا فتویٰ پا کر واجب الاقتل قرار دے دیے جائیں گے۔

کئی جہادی تنظیمیں تو ان قتل کے لئے ڈیتھ سکواڈ تشکیل دے کر خود کش حملے میں واصل جہنم کر دیں گی۔ قبل ازیں لاؤڈ سپیکر اور مائیک، کیسٹ اور ٹیپ ریکارڈر، ریڈیو، ٹی وی اور کیمرے کی بھی ایک عرصہ تک مخالفت جاری رہی۔ ان ایجادات کے مقابلے میں اہل ایمان کی مضبوط دلیل یہ رہی تھی کہ ان ایجادات سے ہماری عبادات کا بیڑا غرق اور روحانیت ختم ہو جائی گی۔ مگر رفتہ رفتہ اس کی مخالفت کم ہو کر ختم ہو گئی بلکہ اب تو امام کعبہ حج کا خطبہ بھی سونے کے مائیک پر ارشاد فرماتے ہیں جسے مغربی الیکٹرونکس کمپنیوں کی تیار کردہ قد آور LEDs اور ٹی وی سکرینز پر جدید ویڈیو کیمروں کی مدد سے پورا عالم اسلام نہایت انہماک سے سماعت کرتا ہے۔ لاؤڈ سپیکر کے بغیر نہ تو اذان کا کوئی تصور ہے اور نہ ہی مائیکل کے بنائے ہوئے مائیک کے بغیر نماز ادا کی جاتی ہے۔

الحمدللہ شہریت کے معاملے میں اسے کامیابی مل چکی ہے کیونکہ صوفیہ نامی خاتون روبوٹ کو مسلم دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب نے شہریت دے کر دنیا بھر میں بازی مار لی ہے۔ اب اس کے شوہر شیخ عبد عبداللہ کو بھی جلد ہی فیملی ویزے سے نواز کر سعودی عرب لا یا جائے گا اور عین ممکن ہے کہ خادمین حرمین شریفین اسے خانہ کعبہ میں تعینات کر کے دنیا بھر کے کروڑوں فرزندان توحید کو اسی شیخ عبد عبداللہ نامی روبوٹ کی اقتدا میں خطبہ حج سنوا کر نماز عید الاضحی پڑھوانے کی سعادت بخش دیں۔

کیونکہ قبل ازیں سعودی عرب سے ڈیجیٹل قرآن پاک یعنی پین قرآن بھی تو ایکسپورٹ ہوکر دنیا بھر کے مسلمانوں کے گھروں تک جا پہنچا ہے۔ مسلم ممالک عظیم برادر مسلم لیڈر سعودی عرب کی تقلید میں شیخ عبد عبداللہ کو اپنی اپنی مساجد میں تعینات کر دیں گے اور وہ کیا روح پرور مناظر ہوں گے جب شیخ عبداللہ کے برادر مولانا عبد عبدالجبار، مولانا عبد عبدالقہار دامت برکاتہم نامی علماء روبوٹس مساجد کی فضاؤں میں قال قال کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ مدارس میں صرف و نحو، دورہ حدیث پڑھائیں گے۔ اہل اسلام کے بچوں کی دستا ر بندیاں کریں گے۔ اور جہاد کے فتوے جاری کریں گے۔

اگر روبوٹک عبادات کے مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے آئمہ مساجد کی تنخواہوں سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔ روبوٹس مولویوں کی طرح حلووں، مانڈوں سے چارج ہونے کی بجائے بجلی سے از خود چارج ہو جائیں گے۔ عیدوں، شبراتوں اور شبینوں پر مولویوں کو دیے جانے والے لاکھوں روپے کی بچت ہوگی۔ اسی طرح سے واعظین و ملاں حضرات کی مذہبی پروگراموں کے انعقاد میں شرکت کے لئے ٹائم کی بلیک میلنگ، لانے اور لے جانے کی کوفت، کھانے اور پینے کے ناز نخروں سے بھی چھٹکارا ملے گا۔

لمبی دعاؤں سے نجات حاصل ہوگی۔ کوئی عام سادہ لوح مسلمان بس مسجد میں داخل ہو کر روبوٹ ملاں کو آن کر کے نماز و دیگر عبادات شروع کر سکے گا اور جب تھک جائے یا بوریت محسوس کرنے لگے تو بٹن آف کر کے گھر چلے جائے گا۔ گھر پر میلاد کی محفل منعقد کروانا ہو یا خواتین کے لئے نماز تراویح کا اہتمام کرنا ہو تو مسجد سے روبوٹ ملاں کو گھر لے آئیے۔ روبوٹ کی کوئی لمبی چوڑی یا بھاری فیس بھی ادا نہ کرنا پڑے گی۔ البتہ مسجد سے لائے ہوئے روبوٹ کا کرایہ ضرور ادا کرنا ہوگا۔ تاہم اس مسئلے کو مستقل حل کرنے کے لئے بازار سے ذاتی روبوٹ بھی خریدا جا سکے گا۔ روبوٹک امام کے آنے سے فرقہ واریت اور لڑائی جھگڑوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔ کسی بھی مذہبی طور پر معتدل سوفٹ وئیرکے حامل روبوٹ کی تقریر سنی اور اقتداء میں نماز پڑھی جاسکے گی۔

اگر کوئی کٹر فرقہ باز اہل ایمان اپنے مخصوص فرقہ کے مطابق ہی عبادت کی ادائیگی پر بضد ہو تووہ اپنی پسند کا روبوٹ ملاں لا سکے گا۔ مزید برآں قلبی بے چینی کی دوری اور روح پشوری کرنے کی خاطر محترم خادم رضوی کی تقریر، جان سے پیارے الیا س قادری عطاری عرف بپا جانی کے ٹوٹوں اور محترمہ فرحت ہاشمی صاحبہ کے دلربا بیانات کے روبوٹک ورژن بھی دستیاب ہوں گے۔ سیفی حضرات کی پرجوش برقی دھمالیں، پیر عرفان شاہ مشہدی کے رگڑے پہ رگڑا دینے والے بیانات اور طارق جمیل صاحب کے حور و غلماں کی سوداگری کے قصے والے ماڈلز بھی مارکیٹ کی زینت ہوں گے۔

شیخ عبد عبداللہ کو تھکاوٹ کا احساس بھی نہیں ہوگا یہ مسلسل 24 گھنٹے اور ہفتے میں سات دن، رات دن اپنی خدمات سر انجام دے گا۔ ماڈرن روبوٹ نہ صرف اذان دیں گے بلکہ امامت فرائض بھی سر انجام دے سکیں گے۔ پند و نصائح، تبلیغ اور مسائل بھی بیان کر سکیں گے خطبہ، جمعہ نماز، عیدین نماز، تراویح حتیٰ کہ نماز جنازہ اور مردے کا غسل بھی انجام دے سکیں گے۔ دعا گو ہوں کہ مزدور یونی میٹ اپنا یہ سفرشیخ عبد عبداللہ تک کامیابی سے طے کرے۔ اللہ تبارک وتعالی ٰ مسلمانوں کو شیخ عبدعبداللہ کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شیخ عبد عبداللہ کا حامی و ناصر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
غضنفر عباس سہو ایڈوکیٹ کی دیگر تحریریں
غضنفر عباس سہو ایڈوکیٹ کی دیگر تحریریں