پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایڈیٹر اور پبلشر نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ 5 فروری 1980 کو عدالت نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا اور معیار پھر سے شائع ہونے لگا۔ معیار کے اکتوبر 1983 کے شمارے میں ڈاکٹر سید جعفر احمد کا 1963 کی طلبہ تحریک کے بارے میں مضمون شائع ہوا جس میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف آواز اٹھانے والے بارہ طلبہ کی تفصیلات دی گئی تھیں اور پھر معیار شائع نہ ہو سکا۔

٭ڈیلی ڈان

بیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں یہ خیال تقویت پانے لگا تھا کہ مسلمانوں کا ایک انگریزی کا اخبار ہونا چاہیے جو نوجوان نسل میں مسلم لیگ کا پیغام عام کر سکے۔ جناح صاحب کی کوششوں کے نتیجے میں 26 اکتوبر 1941 کو ڈان پہلے ہفت روزہ کے طور پر دہلی سے شائع ہوا۔ حسن احمد پہلے ایڈیٹر تھے۔ پھر اسے روزنامہ بنایا گیا اور پوتھن جوزف کو ایڈیٹر مقرر کیا گیاجنہوں نے ڈان کو ایک جدید اخبار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے جانشین ایڈیٹر الطاف حسین اور احمد علی خان تھے۔

اس مضمون میں ڈان کے ساتھ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بھی احاطہ کیا گیا ہے اور مختلف حکومتوں کے ادوار میں لکھے جانے والے اداریوں کے اقتباسات شامل کیے گئے ہیں۔

٭ویو پوائنٹ

پاکستان ٹائمز کے سابق ایڈیٹرمظہر علی خان نے 14 اگست 1975 کو لاہور سے ہفت روزہ ویو پوائنٹ کا اجرا کیا۔ جنرل ضیا ء الحق کے دور میں حسین نقی کے آرٹیکل پر ایڈیٹر اور مصنف کو سیکرٹ ایکٹ اور مارشل لا ضوابط کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ آئی اے رحمن نے قائم مقام ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے۔ پھر 1981 میں انہیں اور حمید اختر کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی عدم موجودگی میں ظفر مرزا نے ادارت کے فرائض انجام دیے۔ ویو پوائنٹ کی پالیسی جمہوری اور سیکولر جرنلزم پر مبنی تھی۔

٭ عوامی آواز

سندھ کے ترقی پسند طالبعلم رہنما ڈاکٹر جبار خٹک نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے سندھی صحافت میں انقلاب برپا کرنے اور کمپیوٹر پر پہلا سندھی اخبار نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اخبار کا نام ’عوامی آواز‘ رکھا گیا۔ سہیل سانگی اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ ایاز شاہ کی مدد سے سندھی زبان کا سوفٹ وئیر تیار کیا گیا۔ عوامی آواز 1983 میں چلنے والی ایم آر ڈی کی تحریک سے پیدا ہونے والی سیاسی بیداری کا اظہار تھا۔ عوامی آواز کو سندھی اخبارات کی نرسری کہا جا سکتا ہے۔

اس کا ادارتی صفحہ قارئین میں مقبول رہا اور معروف دانشوروں نے اپنی تحریروں کے ذریعے رائے عامہ بنانے کا فریضہ انجام دیا۔ ڈاکٹر ریاض شیخ کے بقول عوامی آواز نے بطور روزنامہ اس وقت کی روایتی سندھی صحافت کو تبدیل کرنے میں بڑا بھرپور کردار ادا کیا اور سندھی صحافت اور اخبارات میں مزید ترقی پسند سوچ کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔

٭ آؤٹ لک

اقبال حسین برنی (آئی ایچ برنی) نے دس نومبر 1962 کو کراچی سے انگریزی ہفت روزہ آؤٹ لک جاری کیا، وہ صحافیوں کو منظم کرنے کی تحریک کا حصہ تھے۔ انہوں نے کراچی کے سینئیر صحافیوں کے ساتھ مل کر پریس کلب قائم کیا اور اس کا جمہوری آئین تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ برنی نے جب آؤٹ لک کا اجرا کیا تو صدر جنرل ایوب خان نے مارشل لا ختم کر کے اپنا آئین نافذ کیا تھا۔ جس میں سارے اختیارات کا منبع صدر مملکت کی ذات تھی۔ ایوب حکومت نے پروگریسوپیپرز لمیٹڈ کے اخبارات پر قبضہ جما لیا تھا۔ پریس اینڈ پبلیکیشنز 1960 کے سیاہ قانون کے ذریعے آزادیء صحافت کو محض تصور تک محدود کر دیا گیا تھا۔

برنی نے اس پر آشوب دور میں اپنے ہفت روزہ کے ذریعے حزب اختلاف کی آواز کو توانا کرنے کی کوشش کی۔ مشرقی پاکستان کے اپنے حقوق کی جدوجہد کو کوریج دی۔ مغربی پاکستان میں ون یونٹ کے خلاف چھوٹے صوبوں کے خدشات پر مضامین شائع کیے۔ چنانچہ ان کے ہفت روزہ کے خلاف مقدمات قائم ہونے لگے۔ برنی صاحب نے محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم کے لئے تقریریں بھی لکھیں، جب محترمہ فاطمہ جناح کو انتخابی دھاندلی کے ذریعے شکست دی گئی تو برنی صاحب نے صحافت کو خیر باد کہہ دیا۔

پھر جب پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو نے صدر کا عہدہ سنبھالاتو برنی نے آؤٹ لک کا دوبارہ اجرا کیا مگر بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کی برطرفی، بلوچستان میں فوجی آپریشن، کراچی میں سائٹ اور لانڈھی میں مزدور تحریک کے خلاف پولیس آپریشن، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، پیپلز پارٹی کے بانی ارکان معراج محمد خان اور رسول بخش تالپور اور مختار رانا کے خلاف مقدمات، اور صحافی تنظیموں کی جدوجہد کے بارے میں ادارئیے اور مضامین شائع کرنے پر 20 جولائی 1974 کو آؤٹ لک کو بند کر دیا گیا۔

٭ مسلم

روزنامہ مسلم 1979 میں اسلام آباد سے شائع ہوا۔ اس وقت جنرل ضیا ء الحق نے بھٹو کو پھانسی دے دی تھی اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی تھی۔ حکومت مخالف اخبارات پر بھی پابندی تھی۔ ایڈیٹر اے ٹی چوہدری اور نیوز ایڈیٹڑ سلیم عاصمی تھے جنہوں نے ترقی پسند صحافیوں کی ٹیم کو جمع کیا۔ روزنامہ مسلم نے مارشل لا دور میں آزاد روی کی پالیسی اختیار کی۔ روزنامہ مسلم کا مجموعی رویہ ضیا حکومت کے بارے میں تنقیدی تھا۔ اخبار کے مالک آغا مرتضے ٰ پویا کے مالی مسائل کی وجہ سے کارکنوں کی تنخواہوں میں التوا پیدا ہوا اور معاملات خراب ہونے لگے۔ اور بہت سے ترقی پسند صحافی برطرف کر دیے گئے اور مشاہد حسین کو ایڈیٹر مقرر کیا گیاجنہوں نے آزادانہ پالیسی پر عمل جاری رکھا مگر ہندوستان کے صحافی کلدیپ کے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر سے انٹرویو کرانے کے قصے میں شامل ہونے پر مستعفی ہونا پڑا۔ اس کے بعد ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو ایڈیٹر مقرر کیا گیا جو پاکستان کی پہلی خاتون ایڈیٹر تھیں۔ ان کے بعد اور بہت سے ایڈیٹرآئے مگر مالیاتی بحران کی وجہ سے 1988 میں مسلم اخبار بند ہو گیا۔

٭پنجاب ٹائمز

حسین نقی نیوز ایجنسی پی پی آئی کے بیورو چیف تھے۔ 1969 میں جماعت اسلامی کے دباؤ پر انہیں نکال دیا گیا۔ صفدر میر نے انہیں انگریزی کے ہفت روزہ پنجاب ٹائمز کی ادارت کی پیشکش کی۔ 11 جنوری 1970 کو اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ یہ ہفت روزہ ترقی پسند نظریات کا علمبردار تھا۔ پھر اس ہفت روزہ کو پیپلز پاٹی کی رکن قومی اسمبلی بیگم نسیم اکبر خاں نے خرید لیا اور حسین نقی اور دیگر کی ملازمتیں ختم کر دی گئیں کیونکہ انہوں نے جاگیرداروں کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کی تھی۔

٭ پنجاب پنچ

جب حسین نقی پنجاب ٹائمز سے رخصت کر دیے گئے تو انہوں نے ایک اور ہفت روزہ پنجاب پنچ جاری کیا۔ پنجاب پنچ نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا۔ 23 مارچ 1972 کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹڑ زون بی اور گورنر پنجاب غلام مصطفے ٰ کھر نے پنجاب پنچ پر پابندی لگا دی اور ایڈیٹر حسین نقی اور ناشر مظفر قادر کو گرفتار کر کے خصوصی فوجی عدالت میں مقدم چلایا گیا۔ بعد میں یہ لوگ رہا تو ہو گئے مگر پنجاب پنچ پھر نہ نکل سکا۔

یہ تھی پرنٹ میڈیا میں سر اٹھا کر جینے والوں اور جابر سلطان کے سامنے کلمہء حق کہنے والوں کی مختصر سی تاریخ لیکن ان میں سے ہر ایک اس بات کا حقدار ہے کہ اس پر الگ سے ایک پوری کتاب لکھی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •