بد بخت ہے وہ جس نے حقیقت دیکھی
جو کچھ پردے کے پیچھے ہو رہا تھا وہ بے نقاب ہوگیا۔ لیکن سچ یہ ہے خدا اتنی جلدی پردے اٹھاتا نہیں۔ بہت مواقع دیتا ہے مرگ ِ ضمیر سے بچنے کے۔ اگرچہ ہر لمحہ سگنل آتے رہتے ہیں۔ کوئی رک کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے اور کوئی اس سعادت سے محروم رہتا ہے۔ اہمیت لفاظی سے زیادہ کردار کی ہوتی ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے جب دولت چھن جائے تو کچھ بھی نہیں چھینا۔ جب صحت چھن جائے تو تھوڑا نقصان ہوا اورجب کردار چھن جائے تو سب کچھ لٹ جاتا ہے۔ چہروں پر سرخی پوڈر لگائے خوشنما، خوبصورت، پری پیکر آپ کو بڑے بڑے مذہبی پنڈت، روحانی پیشوا، سیاسی جغادری اور صحافتی ناخدا بظاہر حسن عمل کی تلقین اور حسن کردار کی تشہیر کرتے نظرآئیں گے۔ مگر سچ یہ ہے کہ بد بخت ہے وہ جس نے حقیقت دیکھی، صورت کا حجاب اٹھا کر سیرت دیکھی، دلوں کے اندر سے جو ہو کر گزرا، قے ہو گئی، اس قدر غلاظت دیکھی۔
سر دست میرا مو ضوع سخن کوئی اور نہیں، پیشہ صحافت ہے۔ یہ وہ پیشہ ہے جس نے گھپ اندھیروں اور تاریک راہوں میں سفرکرتی انسانیت کو روشنی کے وہ چراغ دکھائے جس نے استحصال، ظلم، بربریت، نا انصافیوں کے سارے بتوں کوپاش پاش کیا۔ اور اس کے عوض بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ کسی کے ہونٹ سی کر پس زندان ڈال دیا گیا۔ کوئی سر اٹھائے سوئے مقتل تختہ دار پر لٹک گیا۔ مگر چند ٹکوں کی خاطر بڑے بڑے فرعونوں کے قدم چومے اور نہ سوت بٹنے والی چرخی کو آسمان تک پہنچایا۔ نہ سوئی کو نیزا بنا کے پیش کیا اور نہ چیونٹی کو ہاتھی بلکہ جس کی جو اوقات تھی اپنی قربانیوں اور اخلاص کے زور پر ایسے تمام سفاک کرداروں کو ان کی اوقات پہ لاکھڑا کر دیا۔ یہ لوگ جبرو استبداد کی قوتوں سے لڑتے رہے۔ آزادی، جمہوریت اور مساوات کے لیے اپنے ذاتی مفادات کے لیے نہیں۔ دولت و ثروت کا لالچ، نام و نمود کی تمنا۔ آرام و آسائش کی طلب۔ فرعونی عتاب کا خوف۔ قید و بند کی اذیتیں اور غربت و افلاس کی سخت کوشیاں ان عظیم لوگوں کے پایہ استقلال میں کوئی لغزش پیدا نہ کر سکیں۔ قلم نے ہمیشہ سچ لکھا اس پاداش میں بہت سوں کے سر قلم ہو گئے۔ انقلاب فرانس سے لے کر آج تک دنیا میں آنے والے ہر انقلاب کے پیچھے ان ادیبوں، شاعروں، صحا فیوں، قلم کاروں کا مرکزی کردار رہا ہے۔
مگر اس کے ساتھ ساتھ اسی پیشے سے وابستہ ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے کبھی بھی قلم کو ایک مقدس میراث نہیں سمجھا۔ ہر آنے والے کے گن گائے اور جانے والے پر تبرے بھیجے۔ جن کا دل و دماغ اپنے قلم سمیت ہمیشہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور وقت کے مکار حاکموں کے پاس گروی ہی رہا۔ سچ لکھنے اور کہنے والوں اور جھوٹ کے نقیبوں میں رقابت کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے۔ اسی لیے جالب کہتے ہیں کہ ”لوگوں نے اتنا کمایا نہیں جتنا میں نے ٹھکرایا ہے۔ “
بے پناہ دولت کا ایک المیہ یہ ہے کہ یہ اقتدار پر بھی حاوی ہو جاتی ہے۔ دولت مندوں کی مٹھی میں مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ کی پوری طاقت آجاتی ہے اور وہ ریاست کے سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے ہیں۔ حرام کی اس دولت سے حکمران، سیاست دان، بیوروکریسی، جرنیل، صحافی سب فیض یاب ہوتے ہیں۔ لیکن سچائی کی اپنی قوت ہے ہزار بند باندھ لیں جو اپنے آپ کو منوا لیتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حبیب جالب کچھ یوں کہتے ہیں۔
قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال
فکرِ تعمیر مُلک دل سے نکال
تیرا پرچم ہے تیرا دستِ سوال
بے ضمیری کا اور ہو مآل
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
تنگ کر دے غریب پر یہ زمین
خم ہی رکھ آستانِ زر پہ جبیں
عیب کا دور ہے ہُنر کا نہیں
آج حسن کمال کو ہے زوال


