مسلم امہ کا سترنگا اچار ڈال لیجئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیل کے ساحل سے تابخاکِ کاشغر۔ ہمارے حرم کی پاسبانی کے لئے تو کوئی ایک مسلم نہیں کھڑا ہوا۔ ہمیں بطور پاکستانی ایک سوال خود سے پوچھنا چاہیے کہ آج پاکستان سفارتی سطح پر کہاں کھڑا ہے؟ اور اس پوری بھری دنیا میں کون ہمارے ساتھ ہے؟ کہتے ہیں کہ ملکوں کی سطح پر دوستی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ اپنے اپنے مفادات دیکھے جاتے ہیں۔ درست، لیکن پھر ہم کیوں ان لایعنی دوست ممالک کے لئے اپنے سپوتوں کی جانیں لٹاتے آئے ہیں؟

جس مسلم امہ کا درد ہمیں سونے نہیں دیتا، آج ابتلا کی گھڑی میں وہ مسلم امہ کہاں کھڑی ہے؟ اسرائیل کے بارے میں کچھ کہنا بھی اس ملک میں گناہ ہے۔ لیکن کیا کوئی پوچھ سکتا ہے کہ آپ کی اسرائیل سے لڑائی کیا ہے؟ تنازعہ کیا ہے؟ کوئی سرحدی علاقے کا مسئلہ ہے؟ کسی اسرائیلی نے آپ کے پیسے مار لئے؟ مسئلہ تھا مسلم امہ کا اور ایک نام نہاد ٹھیکیدار کا جس کے دباؤ پر آپ نے اسرائیل سے لڑائی مول لی اور آج ان نام نہاد ٹھیکیداروں نے خود اسرائیل سے نہ صرف صلح کر لی بلکہ یروشلم میں اپنے سفارتخانے بھی بنا لئے۔

آپ نے آٹھویں محلے میں خوامخواہ کی لڑائی مول لے کر ایک نہ ختم ہونے والی دشمنی کی بنیاد رکھ دی اور اسرائیل کا فطری جھکاؤ بھارت کی طرف ہو گیا۔ فلسطین کے مسلمانوں سے ہمدردی اپنی جگہ لیکن یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ سمندر پار دشمنی پال لی؟ بوسنیا کے لئے درد ہمیں ہوتا ہے، افغانستان جہاد کے لئے ہم اپنے جوان قربان کرتے ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں کے لئے ہم جلوس نکالتے ہیں۔ آج کس ملک میں آپ کے لئے مظاہرے ہو رہے ہیں؟ کسی ایک ملک نے بھی کوئی بیان کی حد تک بھی آپ کا ساتھ دیا ہے؟ ستم تو یہ کہ اس بار حج کے خطبے میں بھی کشمیر کے مسلمانوں کے لئے دعا نہیں تھی کہ مبادا بھارت نہ ناراض ہو جائے۔

سفارتی سطح پر کسی ایک ملک نے بھی پاکستانی موقف کی حمایت میں بیان نہیں دیا۔ لے دے کر ایک چین ہے جس نے اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بات کی ہے۔ لیکن اس کے اپنے مسئلے اور اپنے مفادات ہیں۔ کشمیر کی ایک طویل سرحد چین کے ساتھ ہے، تبت اور لداخ کے علاقوں میں چین کے مفادات ہیں، ہماچل پردیش میں بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعہ بھی ہے تو اس کا بولنا فطری تھا۔ ترکی نے ایک بیان دیا، لیکن کھل کر آپ کی حمایت سے گریز کیا۔

آپ کے برادر اسلامی ممالک میں سے کس ملک نے آپ کے حق میں بیان دیا؟ اس نام نہاد مسلم امہ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہی دو ایسے ملک ہیں جو معاشی طور پر مضبوط ہیں، ان دونوں نے کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دے دیا۔ ایک ہمارے نام نہاد علما ہیں کہ ایسا واقعہ کسی اور ملک میں ہوتا تو سڑکوں پر مظاہرے کر کے اور اپنے ملک کی سرکاری املاک جلا کر اپنی دانست میں کب کا دشمن کو نیست و نابود کر چکے ہوتے۔

حال ہی میں سعودی شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ پچیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا لالی پاپ دیا گیا، جو محض مفاہمتی یادداشتوں پر مبنی تھا، یعنی کوئی معاہدہ نہیں تھا۔ اب تک اس میں سے ایک ڈالر کی سرمایہ کاری بھی نہیں ہوئی۔ لیکن انہی دنوں میں سعودی شہزادے نے ہندوستان کا دورہ کیا اور 100 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے کیے۔ جی ہاں معاہدے، محض یادداشتیں نہیں۔ جس روز بھارت نے آرٹٰکل 370 کو ختم کیا اسی روز سعودی سرکاری کمپنی آرامکو نے بھارتی کمپنی ریلائینس کے ساتھ پچھتر ارب ڈالر کا معاہدہ کیا۔

جی ہاں پچھتر ارب ڈالر، یعنی سی پیک کی مجموعی سرمایہ کاری سے بھی انیس ارب ڈالر زیادہ۔ ریلائینس گروپ کے چئیرمین مکیش امبانی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے جس کے تحت آرامکو کمپنی بھارتی میں ساڑھے پانچ ہزار پٹرول پمپس قائم کرے گی۔ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات بھی ہندوستان میں تاریخی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

معاشی مفادات میں ایک بڑا حصہ بیرونی زرمبادلہ کا ہوتا ہے تو دل تھام کر سنئیے۔ متحدہ عرب امارات میں تقریباً ستائیس لاکھ بھارتی کام کرتے ہیں جبکہ پاکستانی تارکین وطن کی تعداد قریباً گیارہ لاکھ ہے۔ یہ ستائیس لاکھ بھارتی ہر سال بیس ارب ڈالر ہندوستان بھجواتے ہیں۔ سعودی عرب میں چالیس لاکھ بھارتی کام کرتے ہیں جبکہ پاکستانی تارکین وطن کی تعداد پندرہ لاکھ ہے۔ یہاں سے بھارتی شہری ہر سال بارہ ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھجواتے ہیں۔

ان دو ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بھارتی شہری سالانہ بتیس ارب ڈالر ہندوستان بھجواتے ہیں۔ بیرونی ممالک سے بھارتی شہری جو زرمبادلہ اپنے وطن بھجواتے ہیں، وہ کل باسٹھ ارب ڈالر ہے۔ یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والا زرمبادلہ نصف سے بھی زائد ہے۔ ان دو ممالک نے سات ملین کے قریب بھارتی شہریوں کو ملازمتیں دے رکھی ہیں۔ اگر یہی دو ممالک مسلم امہ کے درد میں کشمیر کے حوالے سے کچھ سخت بیان داغ دیتے تو صورتحال کچھ مختلف ہوتی۔

باقی مسلم امہ کو بھی دیکھ لیجیے۔ فلسطین سے زیادہ کسی اور ملک کے لئے ہمارا دل نہیں دھڑکتا۔ فلسطین کے مسلمانوں کے لئے ہم نے ہمیشہ آواز اٹھائی۔ فلطینی اتھارٹی کی طرف سے بھی کوئی علامتی بیان بھی نہیں سامنے آیا۔ ایران ایک اہم ملک ہے، لیکن سعودی قربت کی وجہ سے ہمارے تعلقات خاص اچھے نہیں۔ باقی خلیجی ممالک قطر، بحرین، یمن، اومان، کویت وغیرہ نہ تو خود اتنی مستحکم پوزیشن میں ہیں اور نہ ہی وہاں مسلم امہ کے درد سے کسی کی نیند خراب ہوتی ہے۔

ملائیشیا، انڈونیشیا کے مشرق بعید میں اپنے مفادات ہیں۔ وہ کشمیر کے عوام کے انسانی حقوق کے متعلق تو بات کر سکتے ہیں، پاکستان کی حمایت کے لئے نہیں۔ بنگلہ دیش ویسے بھی بھارتی کالونی بنتا جا رہا ہے۔ لیبیا، شام اور عراق اپنی خانہ جنگیوں میں مصروف ہیں۔ اب باقی کون بچا؟ ایتھوپیا اور سوڈان کی حمایت مل بھی گئی تو چہ معنی دارد!

عالمِ اسلام کا درد ایک ہمارے سینے میں ہی موجزن رہتا ہے۔ دنیا کی ساری جنگیں ہمارے میدانوں میں لڑی جاتی ہیں۔ سعودی عرب کو ایرانی مفادات کو زک پہنچانا مقصود ہو تو ہمارے مدارس استعمال ہوتے ہیں۔ افغانستان میں جہاد ہو تو ہمارے جوان جنگ کا ایندھن بنتے ہیں۔ چیچنیا اور بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے بھی ہم جلوس نکالتے ہیں۔ فلسطین کی آزادی کی قراردادیں بھی مال روڈ پر پاس ہوتی ہیں۔ برما کے مسلمانوں کے لئے بھی ہماری مساجد میں دعائیں ہوتی ہیں۔ لیکن جب کشمیر کے مسلمانوں کی بات آتی ہے تو ساری مسلم امہ بھنگ گھوٹنے چلی جاتی ہے۔

یاد آیا کہ پینتالیس ممالک کا ایک لشکرِ جرار بھی ہے، جس کے سپہ سالار اپنے راحیل شریف صاحب ہیں۔ اب کشمیر کی حمایت لینے کے لئے اپنے باس کو تو ناراض نہیں کیا جاسکتا، اور نہ ہی کروڑوں روپے کی سالانہ تنخواہ کو لات ماری جا سکتی ہے۔ سو پینتالیس ممالک کی فوج کا مربہ بنائیے اور ستاون اسلامی ممالک کی امہ کا اچار۔ رہا کشمیر تو پاکستان جانے اور کشمیری جانیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات ہی ہوتی ہے، لیکن کوئی تو ہمارے لئے بھی کھڑا ہوتا۔ اور اگر نہیں تو پھر ہمارے نام نہاد پالیسی سازوں کو بھی اس بات کا ادراک کرنا چاہیے اور ہر ایک کی لڑائی میں شامل ہو کر مفت کی دشمنیاں پالنے سے گریز کرنا چاہیے۔ باقی اگر پھر بھی پیٹ میں مسلم امہ کا درد ہو تو سترنگا اچار کھائیے، افاقہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •