پوسٹ ٹروتھ تھیوری کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ میڈیا سائنس کی ایک نئی اور قابل عمل تھیوری ہے، اس نظریہ کو سادہ ترین الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ سچ سے آگے، یعنی مابعد حقیقت۔ اس کی توضیح و تفہیم یہ ہے کہ بندہ وہی سنے جسے وہ پسند کرتا ہے۔ میڈیا کی دنیا میں پوسٹ ٹروتھ سے مراد یہ کہ ایسے مواد کو عوام کے آگے خبر یا تجزیہ و تبصرہ کے نام پر دلکش اور جامع مرقع بنا کر رکھا جائے جو سچ تو نہ ہو البتہ سچ جیسا لگے، یعنی اس پروفیشنل (ڈھٹائی) انداز میں جھوٹ بولا جائے یا آدھا سچ بیان کیا جائے کہ عوام کو پورا پورا سچ لگے۔ مذہب، عقیدہ، ملت، مملکت وغیرہ پوسٹ ٹرتھ تھیوری کے موثر ٹولز ہیں، یعنی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ان کا پورا پورا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان دنوں انڈیا اور پاکستان دونوں جوانب کا میڈیا پوسٹ ٹرتھ تھیوری کا بھرپور استعمال کر رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں کیا کچھ ہوا ہے، کیا کہا گیا ہے؟ یہ کم از کم پاکستانی میڈیا کو تو قطعاً نہیں معلوم مگر ”سچ سے آگے“ نظریہ کے تحت عوام کے آگے ایسی ایسی خبریں اور دعویں پھینکے جا رہے ہیں جیسے کشمیر فتح ہو گیا ہو۔

ماس کمیونیکیشن میں ماضی میں ”ایجنڈا سیٹنگ تھیوری“ مستعمل رہی ہے۔ یہ خاصی پرانی تھیوری ہے۔ پوسٹ ٹرتھ تھیوری کو ایک حد تک ایجنڈا سیٹنگ تھیوری کی جدید صورت قرار دیا جا سکتا ہے۔ پوسٹ ٹرتھ تھیوری کی کامیابی میں سوشل میڈیا کا زبردست کردار ہے، ساتھ ساتھ با اثر شخصیات بھی اس تھیوری کی پرچارک ثابت ہو رہی ہیں جیسے صدر ٹرمپ اور عمران خان۔ پاکستانی جامعات کے ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹس میں مذکورہ تھیوری پر حالیہ واقعات کے تناظر میں اسٹیڈی کی ضرورت ہے، یہ تھیوری ہمارے میڈیا اور معاشرے پر مکمل منطبق نظر آتی ہے، لھذا نئے محققین کے لئے تحقیق کے نئے در وا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایم فل، پی ایچ ڈی کے وہ نوآموز اسکالرز جو تحقیقی موضوع کے متلاشی ہوتے ہیں وہ اس ٹاپک پر کام کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •