ہولڈ یور ٹنگ!

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے جب آنکھ کھولی تو معلوم ہوا کہ ملک پر ایک پکا اور سچا مسلمان حکومت کر رہا ہے جس کا نام ضیا الحق ہے۔ یہ معلومات بھی یوں ملیں کہ سکول میں ایک بچہ ایک نظم گاتا تھا:

قائد اعظم کھادا پان

وچوں نکلا پاکستان

پاکستان دی اک گلی

وچوں نکلا لیاقت علی

اور یہ خراباتی نظم چلتی چلاتی، اپنی روانی میں تاریخ سمیٹتی ضیا الحق تک آتی تھی۔ جس کے بعد فقط ہکا ہک، ہکا ہک کا نعرہ مستانہ بلند ہوتا تھا کیونکہ پاکستان کی تیس پینتیس سالہ تاریخ وہاں آ کر رک جاتی تھی۔

یہ نظم نجانے کس نابغے نے کہی تھی اور کیسے بچے بچے کی زبان پر چڑھی، یہ بات ہنوز راز ہے۔ جوں ہی یہ خبر ہیڈ مسٹریس تک پہنچی، کھلبلی مچ گئی۔ ایک تو نظم پنجابی میں تھی دوسرے اس میں پان کا ذکر تھا ، تیسرے یحییٰ خان صاحب کا نام بروزن ایک مہلک ہتھیار باندھا گیا تھا اور جو لاحقہ ان کے نام کے ساتھ لگایا گیا تھا وہ دنیا کے ایک قدیمی پیشے سے متعلق تھا، چوتھے یہ کہ ضیا الحق کے بعد ہکا ہک کہنا کسی بھی مصیبت کا پیش خیمہ بن سکتا تھا اور پانچویں یہ کہ اس زمانے کے بزرگ حس مزاح سے خاصے عاری واقع ہوئے تھے۔

ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے کی شکایت لگانے والے بچے، اس بچے کو بچانے کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے اور لاکھ دھمکانے چمکانے پر بھی کسی نے زبان نہ کھولی۔ حد یہ کہ میں جو نہایت چغل خور اور میسنی بچی تھی، میں بھی وہ نام دبا گئی۔

خیر یہ تو ایک واقعہ تھا یوں ہی یاد آ گیا۔

بات یہ تھی کہ ہم نے ضیا صاحب کے دور میں آنکھ کھولی۔ زمانہ امن کا تھا، شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے اور اگر پینے سے انکار کرتے تھے تو ہلکی سی دھلائی کے بعد خود بخود پینے لگتے تھے۔

بہت سے شیر اور کئی بکریاں دساور بھیج دی گئیں۔ وہاں بھی وہ منمنانے اور دھاڑنے میں مگن رہے، وہ کیا کہتے تھے ہماری جانے پیزار۔

ضیاالحق

ہم یہاں بہت مصروف تھے۔ آدھا ملک جا چکا تھا۔ ہمیں یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ بنگال ایک تو ہم سے جغرافیائی لحاظ سے بہت دور تھا دوسرے ان کی تہذیب ثقافت ہم سے نہیں ملتی۔ ہم تو افغانستان، ایران سعودی عرب اور باقی اسلامی ملکوں جیسے ہیں۔

مصیبت یہ تھی کہ ادھر ادھر سے کان میں جملے پڑتے تھے جو دل میں شک کا بیج بو دیتے تھے ۔ اس وقت تک وہ بڑی بوڑھیاں موجود تھیں جو لاڈ کے مارے کھیل سے بھاگ کے کھانا کھانے گھر آنے والے بچوں کو ’بھوکا بنگالی‘ کہتی تھیں۔

اس عمر میں بھی یہ تو معلوم ہی تھا کہ روٹی انسان کی پہلی ضرورت ہی سہی لیکن ’بھوکا‘ قریب قریب ایک گالی ہی ہوتی ہے۔ حیرت یہ تھی کہ ان سے کوئی باز پرس نہ ہوتی تھی۔

اس زمانے میں ایک مشہور کامیڈین کی پیروڈی بھی سنی جو بنگالی لہجے کی نقل اتار اتار کے لوگوں کو ہنسا رہے تھے۔

اتنے چھوٹے بچے بحث نہیں کرتے مگر سوال کرتے ہیں۔ ہم بھی کرتے تھے اور اس نظم والے حادثے کے بعد تو بہت ہی کرتے تھے۔

’کسی کو بھوکا کہنا گالی ہوتی ہے؟‘، ’ہاں ہوتی ہے۔‘

’تو پھر آپ فلاں کو بھوکا بنگالی کیوں کہہ رہی تھیں؟ ‘ جواب میں پھٹکار ملتی کہ دیکھو تو زبان کے نیچے زبان ہے، کوئی اپنے بڑوں سے بھی یہ سوال کرتا ہے؟ کان پکڑو۔

کان پکڑے پکڑے سرخ ہو جاتے تھے اور سائیں سائیں کرنے لگتے تھے مگر بھوکا بنگالی، بھوکا بنگالی کی صدا، دھان کے کھیتوں، سپاری کی جھنڈوں اور پٹ سن کے میدانوں سے اڑ اڑ کے آتی رہتی تھی۔

ان ہی دنوں معلوم ہوا کہ ہمارا ایک اسلامی ملک افغانستان ہے جہاں کافر روس، معصوم مسلمان بچوں کو ٹینک دے کر بھیج دیتا ہے کہ جاو اپنوں کے ہاتھوں مرو۔

سوال ہوتا تھا ’کون اپنے؟ افغانستان میں تو افغانی رہتے ہیں؟‘ جواب ملتا تھا ’وہ بھی مسلمان ہیں۔‘

پھر سوال ہوتا تھا ’بنگالی بھی تو مسلمان تھے وہ اپنے نہیں تھے؟‘ پھر سے ڈانٹ پڑتی تھی، پھر سے کان پکڑوا دیے جاتے تھے۔ اتنی بار کان پکڑوائے گئے کہ بدھا کے کانوں کی طرح لوئیں مستقل لٹکنے لگیں۔

سکول میں اسلامیات کی ایک نئی استانی آئیں، پہلی بار کسی کو حجاب اوڑھے ہوئے دیکھا۔ ہمارے علاقے میں نقاب والی چادر کا رواج تھا جو برقعے اور چادر کے بین بین کوئی شے تھی۔

ان خاتون کی زبانی معلوم ہوا کہ جہاد کا مطلب ہوتا ہے اللہ کی راہ میں لڑنا، یعنی اس کی تنخواہ نہ مانگنا۔ مجاہد اگر شہید ہو جائے تو سیدھا جنت میں جاتا ہے اور اگر جیتا رہے تو اللہ اسے اجر دیتا ہے ۔

سوال اٹھا کہ مجاہد کو تو ثواب ملے گا اور مرنے کی صورت میں جنت بھی ملے گی مگر اس کے گھر والوں کو کیا ملے گا؟ ہمارے علاقے میں کئی ریٹائرڈ اور شہید فوجی خاندان بستے تھے اور انھیں جو زمینیں ملی تھیں وہاں سے روز ہی گزر ہوتا تھا تو خیال آیا کہ مجاہدوں کے خاندانوں کو بھی کچھ ملے گا۔

مگر اس سوال پر وہ استانی صاحبہ سخت غصہ ہوئیں اور کان پکڑنے کی بجائے پہلی دفعہ ایک نئی سزا ملی۔

نہایت سفاک اور سرد لہجے میں کہا گیا ’ہولڈ یور ٹنگ۔‘

چونکہ یہ سزا نئی تھی اور پہلے نہیں ملی تھی تو سمجھ نہ آئی۔ اس پر موصوفہ نے اپنی زبان باہر نکال کے انگشت شہادت اور انگوٹھے کے درمیان پکڑ کے دکھائی کہ اس طرح ’ٹنگ ہولڈ‘ کی جاتی ہے۔

وہ بہت کچھ پڑھا کر چلی گئیں۔ روز آتی تھیں اور کمرے میں داخل ہوتے ہی، ’ٹنگ ہولڈ‘ کرا دیا کرتی تھیں ۔ سزا کی اذیت کے ساتھ بے عزتی اور دکھ تو ہوتا ہی تھا مگر ایک عجیب سی بے بسی اور اس کے نتیجے میں جھلاہٹ طاری رہتی تھی۔

باقی اساتذہ کم سے کم بولنے کی اجازت تو دے دیا کرتے تھے۔ میری وجہ سے یہ سزا پوری جماعت کو ملتی تھی۔ پھر معلوم ہوا کہ پورے سکول کو استانی صاحبہ کی کلاس میں ایسے ہی بیٹھنا پڑتا ہے۔ شاید انھیں استادی کا گر ہاتھ آ گیا تھا۔

وقت گزر گیا ہے، پلوں کے نیچے سے پانی ہی نہیں بہا، بلکہ کئی پل بھی ان کے ساتھ بہہ گئے ہیں۔ ضیا الحق صاحب کو فوت ہوئے دہائیاں گزر گئی ہیں۔ منظر نامے اور پس منظر بدل گئے ہیں۔ زمانہ کہیں سے کہیں آ لگا ہے، ضیا صاحب کو ہر سال اگست میں خصوصاً اور باقی سال عموماً کوسا جاتا ہے۔

ان کی پالیسیوں پر تبرے بھیجے جاتے ہیں لیکن یہ سب تو ماضی کی بات ہے۔ مزے کی بات کچھ اور ہے۔ ضیا صاحب کے دور میں ’ٹنگ ہولڈ‘ کرنے والے آج بھی اسی پوز میں فریز ہیں، جیسے بنگلہ دیش میں دیوار پر ہتھیار ڈالنے کا لمحہ پتھر پر کھود کے لگا دیا گیا ہے۔

اسی طرح ہمارے ہاں ’ہولڈ یور ٹنگ‘ کا لمحہ جم چکا ہے۔

پیارے بچو! ضیا آمریت، استعمار اور ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کی علامت تھا۔ اگر یہ برائیاں اب بھی پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب ہے ضیا کہیں نہیں گیا بلکہ یہیں ہے۔ اسے بھگانا ہے تو ،اس منجمد لمحے سے نکلیں اور دیوار کی قید سے آزاد ہوں ’لیو یور ٹنگ اینڈ سپیک آ بٹ لاوڈ۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •