امریکی ہرن اور پاکستانی بکرے عید مبارک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیار غیر میں عید کا دن بسر کرنا اور اپنے وطن میں عید منانے میں صرف ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ اپنے وطن کی عید کی سویر کو بیدار ہوتے ہیں تو آپ کے بدن کے اندر ایک عجیب مسرت بھری چراغاں جگمگاتی ہے۔ جس کی روشنی روح میں شامل ہو کر آپ کو خوشیوں کے مہک آور ہار پہنا دیتی ہے۔ یہی موسم جو آپ کے بدن کے اندر دمکتے جھلملاتے ہیں، آپ کے چاروں طرف باغ بہاراں کی مانند کھلے ہوتے ہیں۔ کیا بچے کیا بڑے یہاں تک کہ تانگوں کے گھوڑے بھی عید کے خمار میں سرشار نظر آتے ہیں۔

جب کہ دیار غیر میں کسی حد تک آپ کے بدن کے اندر خوشی کے چراغ تو جلتے ہیں لیکن آپ کے چاروں طرف ایک اجنبی سناٹا ہوتا ہے۔ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں، کاریں رواں ہیں اور انہیں کچھ خبر نہیں کہ آج ”موزلمزکی“ کرسمس ”ہے آپ اپنی سرخوشی میں تنہا ہیں۔ اندر اور باہر کے موسم ایک نہیں ’سراسر مختلف اور بیگانہ ہیں۔ دو برس پیشتر مجھے آرلینڈو میں عیدالفطر منانے کا اتفاق ہوا تھا۔ عینی کی زبردست منصوبہ بندی اور دھونس کی وجہ سے ہمارا پورا خاندان عید منانے کے لئے آرلینڈو پہنچ گیا تھا۔

سلجوق ان دنوں یو این او میں تھا۔ وہ اپنے بال بچوں سمیت نیو یارک سے آ گیا۔ ویت نام سے سمیر آدھی دنیا کا سفر کر کے اپنے خاندان کے ساتھ وارد ہو گیا۔ ہم دونوں میاں بیوی پہلے سے منتظر تھے۔ یوں ہمارے لئے یہ زندگی کی خوبصورت ترین عید ثابت ہوئی کہ ہم بہت برسوں سے یوں اکٹھے نہ ہوئے تھے۔ عینی نے ڈریس کوڈ بھی متعین کر دی تھی۔ سفید شلوار قمیض کے ساتھ سیاہ ویسٹ کوٹ۔ آرلینڈو کے ایک کانفرنس ہال میں عید کی نماز کا اہتمام ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اس بار جب عیدالضحیٰ قریب آ رہی تھی تو بہت خواہش تھی کہ آس پاس سے کہیں بکروں اور مویشیوں کی سریلی آوازیں سنائی دے جائیں۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت۔ یہاں کے بیشتر پاکستانی قربانی کی رقم ایدھی فاؤنڈیشن یا شوکت خانم فنڈ میں جمع کروا دیتے ہیں۔ کچھ لوگ توقف کر کے شہر سے باہر جا کر ضرورت مند پاکستانیوں کو بلا کر قرض کی رقم ادا کرتے ہیں۔ گوشت ساتھ لے کر دوستوں اور ہمسایوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ عیدالضحیٰ کی صبح جب سیر کو نکلے تو حسب معمول ہرن نظر آ جاتے معاً یہ ذہن میں آتا کہ یہاں ہرن اتنی کثرت سے پائے جاتے ہیں تو ان کی کثرت کو کم کرنے کے لئے کوئی ہرن قابو کر لئے جاتے اور عید پر قربان کر دیے جائیں لیکن امریکی جنگلی حیات کو انسانی حیات سے زیادہ اہم مانتے ہیں۔

میں نے عینی کے ساتھ بات کی کہ آئندہ کے لئے میرے یہ ارادے ہیں تو وہ سخت خفا ہو گئی کہ ابو اگر کسی واقف کار نے دیکھ لیا تو وہ کیا کہے گا کہ عینی کے ابو ایک بکرے کو غبارے باندھ کر اسے گالف کورس پر لئے پھرتے ہیں۔ ویسے میرے ہاں تمام قانونی جواز موجود تھے۔ یعنی آپ پالتو جانوروں ے طور پر گھر میں سفید چوہے‘ بلیاں ’کتے‘ سانپ اور نیولے وغیرہ رکھ سکتے ہیں تو بے چارے بکروں نے کیا قصور کیا ہے اور صبح سویرے لوگ اگر اپنے کتوں کو سیر کروا سکتے ہیں تو بکروں کو بھی تو یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔

البتہ ایک چھوٹا سا مسئلہ تھا کہ لوگ اپنے پالتو جانوروں یعنی سفید چوہوں اور کتوں وغیرہ کی قربانی تو نہیں دیتے۔ اس کا کوئی حل سوچنا پڑے گا۔ اس بار عید کی نماز کے لئے ایک کمیونٹی ہال کی عمارت کرائے پر حاصل کی گئی۔ ہم سب بھی خوب بن ٹھن کر یعنی تنہا بھی بن سکتے تھے یا ٹھن سکتے تھے۔ کشاں کشاں“ عید گاہ ”پہنچے۔ وہاں گویا انسانوں کی ایک کاک ٹیل کے نظارے تھے۔ رنگ اور نسل کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ خاص طور پر چھوٹے بچے بہت بن سنور کے آئے تھے اور سچی بات ہے عید کی رونقیں انہیں کے دم سے تھیں۔

مثلاً ایک بچی نے تلے دار غرارہ پہنا ہوا ہے۔ ماتھے پر جھومر جھولتا ہے اور ہاتھوں میں مہندی رنگ لاتی ہے۔ میں نے سوچا یہ بچے ابھی تو خالص پاکستانی ہیں۔ جوں جوں بڑے ہوتے جائیں گے امریکی ہوتے جائیں گے۔ عید کی دو نمازیں پڑھانے کے لئے افریقی نژاد امریکی امام رچرڈ آرتھر تشریف لائے تھے۔ جنہوں نے چند برس پیشتر اسلام قبول کیا اور پھر اپنے نئے مذہب پر اتنا عبور حاصل کر لیا کہ یہاں ان کے علم و فضل کی دھوم ہے۔

جامع ازہر سے فارغ التحصیل ہوئے اور امامت کے شعبے کو اپنا لیا۔ یہاں صرف مرد نہیں تمام گھریلو عورتیں بھی نماز پڑھنے کے لئے جاتی ہیں۔ چنانچہ ہال کا نصف حصہ خواتین کے لئے مخصوص تھا۔ گزشتہ دو برس سے حسب توقع میرے گھٹنوں نے مجھے کورا جواب دے دیا کہ حضور بہت ہو چکی اب ہم ٹیکے نہیں جا سکتے۔ کوہ نوروی کے دوران احساس ہوا کہ گھاس پر بمشکل بیٹھ تو گئے لیکن بمشکل اٹھ نہ سکے۔ کاررواں چل دیا اور ہم بیٹھے ہی رہ گئے۔

ظاہر ہے نماز کی ادائیگی کے لئے بھی ایک عدد کرسی کی حاجت ہونے لگی۔ بلال نے مجھے فرش پر براجمان نمازیوں کے پہلو میں ان کی کرسیوں میں سے ایک پر بٹھا دیا جو مجھ ایسے نیم معذور بابا جات کے لئے مہیا کی گئی تھیں۔ یہاں جتنے بھی افراد براجمان تھے ان کے عمر رسیدہ چہرے دشت تنہائی میں گم تھے۔ وہ بقیہ لوگوں سے کٹے ہوئے اپنے ہی خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کے ساتھ بھی کم ہی گفتگو کرتے تھے۔

یہ وہ تنہا لوگ تھے جن کی آنکھوں میں کوئی سپنا نہ تھا۔ کوئی خواہش کوئی تمنا نہ تھی کہ وہ بھی میری طرح فنا کے کناروں پر کھڑے تھے۔ ان میں زیادہ تر ایسے بوڑھے تھے جن کے بچے امریکہ میں آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان بچوں نے محبت اور مجبوری کے تحت انہیں بھی امریکہ“ امپورٹ ”کر لیا وہ اپنے ہم عمر لوگوں کی رونقوں سے بچھڑے۔ وطن کی مٹی سے جدا ہوئے اپنی ثقافت اور روایات سے الگ ہوئے۔ یہاں آئے اور یہاں تنہائی کی سیاہ چڑیلیں انہیں دبوچنے کے لئے منتظر تھیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ عمر رسیدہ افراد کو پاکستان سے یہاں لے آنا بہت بڑا ظلم ہے۔ ان قدیم شجروں کو اکھاڑ کر کسی اور سرزمین میں نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ اپنی جڑیں وہیں چھوڑ آتے ہیں۔ وہ یہاں نہیں پنپ سکتے۔ نیو یارک کے ایک سٹور میں ایک پاکستانی اماں جان ’لوگوں نے جو ملبوسات پہن کر ترک کر دیے تھے انہیں تہہ کر رہی تھیں۔ دو تین ہفتوں کے بعد بہو کہنے لگی۔ ماں جی سارا دن بیکار بیٹھی رہتی ہو۔ بور ہو جاتی ہو کوئی نوکری کر لو۔

اب صبح سے شام تک لوگوں کے اتارے ہوئے کپڑے کھڑی رہ کر تہہ کرتی ہوں۔ نہ مجھے زبان آتی ہے کہ بول چال کروں۔ سال ہو گیا ہے اپنی زبان میں کسی سے بات کیے ہوئے آج آپ نے مہربانی کی ہے۔ میرے بیٹے سے کہیں مجھے لاہور بھجوا دے میں اپنے پرانے کے مکان میں رہنا چاہتی ہوں اور مرنا چاہتی ہوں۔ ازاں بعد اماں جان نے بھوں بھوں کر کے رونا شروع کر دیا۔ عید کی نماز کے بعد امام صاحب سے گلے ملے اور پھر کوئی ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع بلال کے دوست نیورولوجسٹ ڈاکٹر شاہد کے ہاں ناشتے پر چلے گئے۔

ان کے ہاں جتنے بھی مہمان تھے بیشتر ڈاکٹر تھے اور دماغی امراض کے ماہر تھے۔ جانے کیوں وہ سب مجھے گھور گھور کے دیکھتے رہے۔ شاید انہیں میری آنکھوں میں کچھ فتور سا نظر آتا تھا۔ ڈاکٹر شاہد نہایت ہی ملنسار تھے اور انہوں نے اپنے وسیع مکان کے پچھواڑے میں پھیلی ہوئی نیلی جھیل میں مجھے مچھلیاں پکڑنے کے لئے مدعو کیا۔ میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب جھیل میں مگرمچھ ہیں؟ کہنے لگے ہوئے تو انہیں بھی پکڑ لیں گے۔ عینی کی ایک نہایت قریبی دوست سارہ، اس کے والد جاپان میں کاروبار کرتے تھے، سارہ وہیں پیدا ہوئی ساری عمر وہیں رہی یہاں تک کہ کچھ کچھ جاپانی سی ہو گئی۔

اس کی دادی نے ہمارے لئے طرح طرح کے جاپانی کھانے نہائت ہی سلکھے ہوئے ذائقے والے تیار کیے اور ان میں سرفہرست سوشی تھی۔ سوشی کیا ہے۔ ابلے ہوئے چاول‘ کچی مچھلی، سمندری گھاس میں لپٹی ہوئی، اتنی چھوٹی سی ہوتی ہے کہ منہ تک لے جاتے لے جاتے ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا ذائقہ کیا ہوتا ہے۔ بس سوشی سا ہوتا ہے۔ شام کو ڈاکٹر بلال کے ہاں دعوت تھی۔ بلال ایک ویٹرنری ڈاکٹر ہیں اور میں انہیں تب سے جانتا ہوں جب وہ گلبرگ میں ہمارے ہمسائے خان صاحب کے کتوں گھوڑوں اور دیگر حیوانات کا علاج کرنے آیا کرتے تھے۔

یہاں ان کے ہاں بھولو نام کا ہلکے بھورے رنگ کا لیبر ڈور ہے۔ اتنا خوبصورت کہ اگر کتا نہ ہوتا تو کرینہ کپور ہوتا۔ بلال اور ان کی اہلیہ نورین دونوں خوش امور اور خوش نظر ہیں۔ نورین نے اپنی والدہ کی خواہش کی تعمیل میں میرے لئے ایک خصوصی مٹن کڑھائی تیار کی جس میں محبت کے ذائقے تھے۔ عید کی رات ہم گھر واپس آ رہے تھے تو میں نے دعا کی کہ یا اللہ اگلی عید تک مہلت ہوئی تو اپنے گھر کی، وطن کی عید نصیب کرنا۔ امریکیوں کو ان کے ہرن مبارک۔ ہمارے بکرے ان سے اچھے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 170 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar